Tag: امریکہ ایران تنازع

  • امریکہ ایران تنازع: درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی قیمت بے نقاب، شمسی توانائی بچاؤ کا ذریعہ، توانائی کے ماہرین کا چارٹر آف ڈیمانڈز

    امریکہ ایران تنازع: درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کی قیمت بے نقاب، شمسی توانائی بچاؤ کا ذریعہ، توانائی کے ماہرین کا چارٹر آف ڈیمانڈز

    پاکستان کے توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں نے ایک جامع چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کیا ہے جس میں ملک کی انرجی سیکیورٹی کے لیے فوری اور بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ چارٹر الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی (ACJCE) اور پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن (PREC) کی نمائندگی میں تیار کیا گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ درآمد شدہ فوسل فیولز پر پاکستان کا انحصار کتنا خطرناک ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو ملک دہائیوں سے برداشت کر رہا ہے، لیکن اب اس چکر کو توڑنا ہوگا۔ اس بار صورتحال اتنی سنگین نہیں بنی کیونکہ شہریوں کی جانب سے بچھائی گئی شمسی توانائی نے گھروں، کاروباروں اور کھیتوں کو روشن رکھا۔ 2018 سے اب تک اس سستے اور صاف ذریعے نے تقریباً 12 بلین ڈالر کی ایندھن درآمدات سے بچنے میں مدد کی ہے۔

    چارٹر میں کہا گیا ہے کہ اب حکومت کو فیصلہ کن اقدامات اٹھانے ہوں گے، جن میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں:

    ہنگامی اقدامات

    ماہرین نے نیشنل بیٹری اور انرجی سٹوریج ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم (BESS) پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیز فوری ختم کی جائیں۔ 100 میگاواٹ سے بڑے تمام سولر اور ونڈ پلانٹس کے لیے اسٹوریج کی مشترکہ تنصیب لازمی قرار دی جائے۔

    دوسرا بڑا مطالبہ سولر پر 10 فیصد جی ایس ٹی ختم کرنا اور سابقہ نیٹ میٹرنگ کا نظام بحال کرنا ہے۔ موجودہ نیٹ بلنگ نظام کے تحت برآمدات پر 11 سے 13 روپے فی یونٹ ملتے ہیں جبکہ درآمدات پر 35 سے 47 روپے وصول کیے جاتے ہیں، جو چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی لاگت میں 20 سے 40 فیصد اضافہ کرتا ہے۔

    مزید برآں، فوسل فیول اور خطرناک بڑی ہائیڈرو پاور کی توسیع کو فوری منجمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈرافٹ میں شامل 5.7 گیگا واٹ فوسل صلاحیت کم از کم لاگٹ کے اصول پر پورا نہیں اترتی اور اسے منسوخ کرنے سے 11 بلین ڈالر سے زائد وسائل دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    پرانے فوسل فیول معاہدوں کو منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں تقریباً 1.8 ٹریلین روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کا 60 فیصد فوسل پلانٹس کو جاتا ہے، جبکہ ان کا مجموعی استعمال محض 42.5 فیصد رہا ہے۔

    صنعتی اور مالیاتی ڈھانچہ

    چارٹر میں مقامی الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ انفراسٹرکچر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ پنجاب کی طرف سے تھری وہیلرز پر 3 کلو واٹ موٹر کی حد جیسی صوابدیدی پابندیوں کو ختم کر کے ٹیکنالوجی نیوٹرل قوانین بنائے جائیں۔

    ایک سنگل کلین انرجی فنانسنگ ونڈو قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، جو چھت کے سولر کٹس، EVs، اور یوٹیلیٹی سکیل بیٹریوں کے لیے سبسڈی اور رعایتی قرضے فراہم کرے۔ خاص طور پر الیکٹرک ٹو وہیلرز کے لیے الگ سکیم بنائی جائے، کیونکہ یہ ٹرانسپورٹ کے 54 فیصد ایندھن استعمال کرتے ہیں۔

    پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کی آمدنی کا کم از کم 50 فیصد حصہ EV چارجنگ انفراسٹرکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ کی الیکٹریفکیشن پر خرچ کیا جائے۔

    بین الاقوامی سطح پر از سر نو ترتیب

    ماہرین نے آئی ایم ایف پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آر ایس ایف (RSF) قرضے کو پاکستان کے طویل مدتی توانائی اہداف کے مطابق ڈھالا جائے اور 1.4 بلین ڈالر کے اس قرضے کو غیر قرض موسمیاتی فنانس میں تبدیل کیا جائے۔ ورلڈ بینک اور اے ڈی بی کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو قابل تجدید توانائی اور گرڈ لچک میں تیز سرمایہ کاری کے لیے اپ ڈیٹ کیا جائے۔

    سیکٹرل اور کمیونٹی کی منتقلی

    چارٹر میں مائیکرو گرڈز اور کمیونٹی کی ملکیت والی توانائی کو فعال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ نیپرا کے موجودہ مائیکرو گرڈ قواعد و ضوابط میں اصلاح کی جائے جو ڈسکوز کی اجارہ داریوں کو مضبوط کرتے ہیں۔

    زرعی ٹیوب ویلوں اور ماہی گیروں کی کشتیوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے قومی پروگرام شروع کیا جائے۔ محروم علاقوں میں خواتین اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے سرکاری فنڈز سے سولر کٹس اور بیٹریاں فراہم کی جائیں۔

    آخر میں، ایک منصفانہ منتقلی کا فریم ورک قائم کیا جائے جو توانائی کے تمام فیصلوں کو سماجی اور ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ کرے۔ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ میں ترمیم کر کے آزادانہ پیشگی اور باخبر رضامندی کو شامل کیا جائے۔