Tag: امتحانات

  • سندھ: میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے لیے نمبر سسٹم ختم، نیا گریڈنگ نظام نافذ، ‘طلبہ کی کارکردگی بہتر ہوگی۔’

    سندھ: میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے لیے نمبر سسٹم ختم، نیا گریڈنگ نظام نافذ، ‘طلبہ کی کارکردگی بہتر ہوگی۔’

    سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں امتحانی نتائج کے لیے رائج قدیم نمبر سسٹم ختم کر کے بین الاقوامی معیار کے مطابق نیا گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اعلان صوبائی وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو نے کیا۔

    صوبائی وزیر کے مطابق یہ اہم فیصلہ انٹر بورڈ کو آرڈینیشن کمیشن کی وفاقی سطح پر طے کی گئی پالیسی کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں امتحانی نظام کو یکساں بنانا اور طلبہ کی کارکردگی کو زیادہ منصفانہ اور شفاف انداز میں جانچنا ہے۔

    نئے گریڈنگ سسٹم کا اطلاق صوبے بھر میں مرحلہ وار کیا جائے گا۔ رواں سال 2026 میں نہم اور گیارہویں جماعت، یعنی ایس ایس سی ون اور ایچ ایس ایس سی ون کے پہلے سالانہ امتحانات سے اس نظام کا آغاز ہوگا۔ اس کے بعد سال 2027 میں دہم اور بارہویں جماعت، یعنی ایس ایس سی ٹو اور ایچ ایس ایس سی ٹو کے سالانہ امتحانات پر بھی یہی نظام لاگو کیا جائے گا۔

    نئی پالیسی کے تحت اب طلبہ کی کارکردگی نمبروں کے بجائے گریڈز کی صورت میں ظاہر کی جائے گی۔ منظور شدہ گریڈنگ اسٹرکچر کے مطابق، اے پلس پلس 96 سے 100 فیصد، اے پلس 91 سے 95 فیصد، اے 86 سے 90 فیصد، بی پلس پلس 81 سے 85 فیصد، بی پلس 76 سے 80 فیصد، بی 71 سے 75 فیصد، سی پلس 61 سے 70 فیصد، سی 51 سے 60 فیصد، ڈی 40 سے 50 فیصد، جبکہ یو 40 فیصد سے کم پر فیل تصور کیا جائے گا۔

    صوبائی وزیر جامعات کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پاسنگ مارکس کی کم از کم حد 40 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ جو طلبہ کسی بھی مضمون میں 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کریں گے انہیں یو یعنی ان گریڈڈ یا فیل قرار دیا جائے گا۔

    تاہم ایسے طلبہ کے لیے اسی مضمون میں دوبارہ امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنا سکیں اور ان کا تعلیمی سلسلہ متاثر نہ ہو۔

    نئے گریڈنگ نظام کو سمجھنے کے لیے ایک مجموعی مثال بھی سامنے رکھی گئی ہے۔ اگر کسی طالب علم کے مجموعی نمبرز 800 میں سے 560 ہوں تو اس کا فیصد (560 تقسیم 800 ضرب 100) کے مطابق 70 فیصد بنتا ہے، اور اس بنیاد پر اسے سی پلس گریڈ دیا جائے گا۔ یہی طریقہ تمام مضامین کے مجموعی نتائج پر لاگو ہوگا۔

    محمد اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد نمبروں کی غیر ضروری دوڑ ختم کرنا اور طلبہ کی مجموعی تعلیمی کارکردگی کو نمایاں کرنا ہے، تاکہ ذہنی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔

    صوبائی وزیر کے مطابق تمام تعلیمی بورڈز میں گریڈنگ سسٹم کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور کیا جائے گا، تاکہ قومی اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے درمیان نتائج کا تقابلی نظام بہتر بنایا جا سکے۔

    سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئی تعلیمی پالیسی کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ تعلیمی بورڈز کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ حکومت کے مطابق طلبہ، والدین اور اساتذہ کے لیے مرحلہ وار رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی تاکہ نئے نظام کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔