غلام رسول کنبهر
سندھ کے لوک فنکار اور الغوزہ ساز کے ماہر ارباب کھوسو نے قدیم ساز الغوزہ کو دوبارہ سے عوام میں مقبولیت دی۔ ارباب کھوسو کئی ممالک میں یہ ساز بجا چکے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے مختلف ثقافتی میلوں، ٹی وی اور ریڈیو پر پرفارم کیا ہے۔ ان کا کام بنیادی طور پر لوک راگوں جیسے درد، سوہنی اور ماروی کی اصل صورت پیش کرنا ہے۔ جدید موسیقی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود ارباب کھوسو روایتی انداز میں الغوزہ بجانے کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی بنیاد پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔
سندھ اور بلوچستان میں یہ ساز چرواہوں، دیہاتی محفلوں، شادیوں اور ثقافتی میلوں میں عام طور پر بجایا جاتا رہا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے ذریعے اُستاد خمیسو خان اور مصری خان جمالی نے اسے قومی سطح پر متعارف کرایا۔ الغوزہ عموماً طبلا، ڈھولک یا نگھارو جیسے آلات کے ساتھ بجایا جاتا ہے تاکہ تال اور لے برقرار رہے۔
سندھ اور بلوچستان کے لوک ورثے میں الغوزہ ایک اہم دُہری بانسری ہے، جسے بینوں یا جوڑی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ساز دو بانسریوں پر مشتمل ہوتا ہے اور بنیادی طور پر دیہی ثقافت، لوک محفلوں اور صحرائی علاقوں سے جڑا ہے۔
الغوزہ کا شمار ان قدیم سازوں میں ہوتا ہے جن کا استعمال برصغیر میں صدیوں سے رائج ہے۔ تاریخی تحقیق کے مطابق دُہری بانسری کی ابتدائی صورتیں تقریباً سات ہزار پانچ سو قبل مسیح کے قدیم میسوپوٹیمیا میں ملتی ہیں، جہاں اسے ‘الجوزہ’ کہا جاتا تھا۔ بعد میں یہ فن ایران سے ہوتا ہوا برصغیر تک پہنچا اور یہاں اسے بانس سے تیار کیا جانے لگا۔
الغوزہ کی دو کاٹھیاں مختلف کام انجام دیتی ہیں۔ ایک نسبتاً لمبی کاٹھی دھُن یا راگ پیدا کرتی ہے جبکہ دوسری چھوٹی کاٹھی مستقل ایک ہی سُر کے پس منظرکے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس ساز کی ایک اہم تکنیک سانس کی ہے، جس میں بجانے والا فنکار سانس لیے بغیر مسلسل سُر برقرار رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے گالوں میں جمع ہوا ساز میں پھونکی جاتی ہے جبکہ ناک سے سانس لیا جاتا ہے۔ فنکار موم کا استعمال کر کے سوراخوں کو اپنی ضرورت کے مطابق بند یا کھول کر آواز کی باریکیوں کو کنٹرول کرتا ہے۔
ارباب کھوسو اُن فنکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے حالیہ برسوں میں اس ساز کو دوبارہ مقبول بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ ان کا تعلق کھوسو خاندان سے ہے، جو کئی نسلوں سے الغوزہ نوازی سے وابستہ ہے۔ ارباب کھوسو نے بچپن میں اپنے قبیلے کے بزرگ اور معروف فنکار اللہ بچایو کھوسو سے یہ فن سیکھا۔ کھوسو قبیلے میں کھیتوں اور ڈیروں پر اس ساز کی مشق کا رواج طویل عرصے سے موجود ہے۔
الغوزہ کی موجودہ صورت دیہی علاقوں تک محدود ہوتی جا رہی تھی، تاہم ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اس ساز کی دستاویزی شکل، ویڈیوز اور پرفارمنسز محفوظ کی جا رہی ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف روایتی موسیقاروں کے کام تک رسائی ممکن ہوئی ہے بلکہ یہ ساز نوجوان نسل تک بھی پہنچ رہا ہے۔
پاکستان میں لوک موسیقی کے کئی ساز معدومی کے خطرات سے دوچار ہیں، جن میں الغوزہ بھی شامل ہے۔ اقتصادی مسائل، تربیت کے مواقع کی کمی اور جدید موسیقی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اس فن کو محدود کر دیا تھا۔ ارباب کھوسو سمیت چند فنکار اس روایت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس ساز کو مقامی اور بین الاقوامی سامعین تک پہنچا رہے ہیں۔
الغوزہ کی ساخت، اس کی مخصوص دُہری آواز اور مسلسل سانس کی تکنیک اسے جنوبی ایشیا کے منفرد سازوں میں شامل کرتی ہے۔ اس کی موجودہ صورت اُن فنکاروں کی مشق اور روایت کا نتیجہ ہے جنہوں نے اسے نسل در نسل آگے منتقل کیا۔ ارباب کھوسو انہیں فنکاروں میں نمایاں ہیں جو اس ساز کی تاریخی اور فنی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

