Tag: افغانستان

  • افغانستان میں فارسی کی صدیوں پرانی بالادستی کو پشتو کا چیلنج

    افغانستان میں فارسی کی صدیوں پرانی بالادستی کو پشتو کا چیلنج

    طالبان کی حکومت وہ کام کر رہی ہے جو معلوم تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ طالبان حکومت کے ایک اہم عہدیدار نے اعلان کیا ہے کہ پشتو افغانستان کی واحد قومی زبان ہے۔ افغان وزارتِ دفاع کے چیف انسپکٹر مفتی لطف اللہ حکیمی کے اس بیان پر فارسی بان حلقوں کی جانب سے بہت سخت ردعمل آیا ہے۔ اس حد تک کہ ہرات اور مزار شریف کی مسجدوں میں جمعے کے خطبوں میں بھی فارسی کی بقا کی باتیں بڑے سخت لہجے میں کی جا رہی ہیں۔

    افغانستان میں پشتونوں کی اکثریت کے باوجود ہمیشہ فارسی کی بالادستی رہی ہے۔ فارسی دربار اور اشرافیہ کی زبان قرار پائی، طاقت کے حلقوں میں فارسی کا ہی چلن رہا، اس حد تک کہ بڑی بڑی غیر فارسی سلطنتیں بھی فارسی اپنانے پر مجبور رہیں۔ غزنوی نسلًا ترک تھے لیکن دربار کی زبان فارسی تھی۔ بابر فرغانہ سے ترکی بولتے ہوئے آیا، تزکِ بابری بھی ترکی میں لکھی، لیکن کابل سے آگے گیا، ہندوستان فتح کیا تو درباری زبان فارسی ہوگئی۔ خلجی، لودھی اور سوری پشتون سلطنتیں رہیں، دربار کی زبان فارسی رکھنے پر مجبور رہے۔ قندھار کے ہوتکی غلزئی تھے، ایران فتح کر لیا، لیکن قندھار میں سلطنت قائم کی تو سرکار اور دربار کی زبان فارسی ہی رہی۔ شاہ ظاہر شاہ بارک زئی تھا، مادری زبان پشتو تھی لیکن بولتا دری تھا۔

    افغانستان میں فارسی کی یہ بالادستی صدیوں کی ہے۔ فارسی ماہرینِ زبان و ادب بلکہ مذاق اڑاتے ہیں کہ پشتو کا تو کوئی ادب ہی نہیں، نہ کوئی مؤرخ یا فلسفی ان میں پیدا ہوا۔ جو کچھ ہے، بس فارسی ہی ہے۔ مولانا، حافظ اور سعدی کا کوئی مقابلہ ہی نہیں، اس کے آگے پشتو تو بالکل گویا ان پڑھوں کی زبان ہے۔ کچھ پشتون دانشور بھی یہی مؤقف اختیار کرتے ہیں، مانتے ہیں کہ واقعی پشتو کی وہ ادبی اور تہذیبی حیثیت نہیں جو دنیا کی دوسری بڑی زبانوں کی ہے۔

    زبانیں کیسے بڑی بنتی ہیں، ان کا ادب کیسے جنم لیتا اور پرورش پاتا ہے، اس کے پیچھے کیا سماجی، اقتصادی اور جغرافیائی عوامل ہوتے ہیں، یہ تو ایک الگ بحث ہے، لیکن سیاسی حالات کسی بھی زبان کو بڑھانے یا جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آج مصر اور شام میں عربی کا دور دورہ ہے، یہاں کی قدیم زبانیں نسیًا منسیًا ہوچکی ہیں۔ یہی صورتحال فارسی کے ساتھ ہوسکتی تھی۔ امویوں اور عباسیوں کے طویل دورِ حکومت میں فارسی کا چلن ختم ہو کر رہ گیا تھا، وہ تو دعا دیں عمرو لیث صفاری کو، جس نے فارسی کو ناپید ہونے سے بچا لیا۔

    آج طالبان کی حکومت پشتو کی جو پشت پناہی کر رہی ہے، نہیں کہہ سکتے کہ 2000 سال بعد پشتو کا ادب کتنا بڑا ہوچکا ہوگا، اس میں کتنے حافظ اور سعدی پیدا ہوچکے ہوں گے۔ یہ اقدام پشتو کی تاریخ کا اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔