Tag: افریقہ

  • اہرامِ مصر: پتھر، ستاروں اور یقین سے بنی ایک زندہ حیرت

    اہرامِ مصر: پتھر، ستاروں اور یقین سے بنی ایک زندہ حیرت

    افریقہ کے شمالی کنارے پر ایک ایسی سرزمین ہے جہاں دریائے نیل صحرا کو چیرتا ہوا گزرتا ہے۔ اسی کنارے پر تین ایسے اہرام کھڑے ہیں جو آج بھی دنیا کی عقل کو چکرا دیتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا اہرام، خوفو کا عظیم اہرام، انسانی تاریخ کی وہ تعمیر ہے جو وقت، موسم، جنگوں اور صدیوں کے سفر کے باوجود آج بھی سلامت ہے۔ یہ صرف پتھروں کا ڈھیر نہیں، ایک تہذیب کی خاموش آواز ہے۔

    قدیم مصر میں فرعون صرف بادشاہ نہیں ہوتا تھا۔ اسے زمین پر خدا کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ عقیدہ تھا کہ فرعون موت کے بعد سورج دیوتا ’رع‘ کے ساتھ دوبارہ جنم لیتا ہے۔ اسی عقیدے نے اہرام کی بنیاد رکھی۔ یہ عمارتیں مقبرے نہیں تھیں۔ یہ وہ راستے تھے جن سے فرعون کی روح اگلی دنیا میں داخل ہوتی تھی۔ ان راستوں پر صدیوں تک کوئی ہاتھ نہیں لگا سکا، کیونکہ یہ راستے مذہب، طاقت اور سائنس کا مجموعہ تھے۔

    خوفو کے عظیم اہرام کی تعمیر انسانی محنت کا وہ معجزہ ہے جو آج بھی سمجھ نہیں آتا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے لیے تقریباً پچیس لاکھ پتھر استعمال ہوئے۔ ہر پتھر کا وزن دو ٹن سے پندرہ ٹن تک تھا۔ اتنے بڑے پتھروں کو کاٹنا، گھسیٹنا، سیدھا رکھنا، اور آسمان چھوتی دیواروں میں فٹ کرنا آسان نہیں تھا۔ اس کے لیے تیس سے چالیس ہزار مزدور دن رات کام کرتے تھے۔ تعمیر کا وقت بیس سے پچیس سال بتایا جاتا ہے۔

    یہ حیرت کی بات ہے کہ اہرام کی چاروں سمتیں عین شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کی طرف رخ کرتی ہیں۔ آج کی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی اتنی درست سمت بندی کرنا مشکل سمجھی جاتی ہے۔ لیکن ہزاروں سال پہلے کے کاریگروں نے یہ کمال بغیر کسی جدید آلے کے کر دکھایا۔

    اہرام کی تعمیر کیسے ہوئی؟ اس سوال نے دنیا کے ماہرین کو آج تک الجھایا ہوا ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ ایک بڑی چڑھائی بنائی گئی جس پر پتھر کھینچ کر اوپر لے جائے جاتے تھے۔ کچھ کا خیال ہے کہ اندر سے گھومتا ہوا راستہ بنایا گیا جس پر چڑھ کر پتھر اوپر پہنچتے تھے۔ کچھ محققین کا کہنا ہے کہ لکڑی کے تختے، توازن کے سہارے اور سادہ اوزار استعمال کیے گئے۔ مگر اصل حقیقت کیا تھی؟ کوئی بھی مکمل یقین کے ساتھ جواب نہیں دے پایا۔ یہی اہرام کا جادو ہے۔ ایک ایسا راز جو وقت نے بھی چھپا کر رکھا۔

    اہرام کے اندر تین بڑے چیمبر ہیں۔ بادشاہ کا چیمبر، ملکہ کا چیمبر اور زیرِ زمین بنا ہوا چیمبر۔ یہ تینوں چیمبر نہ صرف مضبوط پتھروں سے بنائے گئے، بلکہ ان میں ایسے باریک راستے رکھے گئے جو سیدھے آسمان میں خاص ستاروں کی سمت کھلتے ہیں۔ یہ راستے محض ہوا کے لیے نہیں تھے۔ یہ قدیم مصریوں کا فلکیاتی کمپاس تھا۔ وہ ستاروں سے راستہ بناتے تھے، اور انہی ستاروں پر اپنا مذہبی نظام قائم کرتے تھے۔

    خوفو کا اہرام ریاضی کا بھی شاہکار ہے۔ اس کی دونوں جانب کا ’زاویہ پائی‘ کے نہایت قریب ہے۔ اس کی اونچائی اور بنیاد کا تناسب زمین کے قطر سے ملتا جلتا ہے۔ قطبی ستارا جس سمت ہوتا ہے، اہرام کی دیواریں اسی سمت کے ساتھ منطبق نظر آتی ہیں۔ یہ سب حادثاتی نہیں۔ قدیم مصری نہ صرف ماہر سنگتراش تھے بلکہ فلکیات کے بھی استاد تھے۔

    مصری عقیدے کے مطابق روح کو مرنے کے بعد جسم، دل، روشنی، خوراک اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے فرعون کی لاش کو محفوظ رکھا جاتا تھا۔ اسے ممی میں تبدیل کیا جاتا تھا۔ مقبرے میں خوراک، زیورات، ہتھیار، کپڑے اور مذہبی تحریریں رکھی جاتی تھیں تاکہ فرعون اگلی دنیا میں بھی محفوظ رہے۔

    لیکن وقت ہمیشہ مہربان نہیں رہا۔ صدیوں تک لوٹ مار ہوتی رہی۔ چوروں نے مقبرے توڑے، راہیں کھودیں، خزانے نکالے اور سب کچھ برباد کر دیا۔ آج جب اہرام کے اندر دیکھا جائے تو بہت کم چیزیں ملتی ہیں۔ جیسے کسی نے وقت کے خزانے کو روند ڈالا ہو۔ مگر پتھر کی دیواریں اب بھی کھڑی ہیں، اور ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ انسان خزانے تو لٹا دیتا ہے، مگر عظمت باقی رہتی ہے۔

    جدید دور میں نئی ٹیکنالوجی نے کئی راز کھولے ہیں۔ دو ہزار سترہ میں ایک خصوصی شعاعی طریقے سے اہرام کے اندر ایک نیا خالی ہال ملا۔ دو ہزار تئیس میں مزید چھپی ہوئی جگہوں کا سراغ ملا۔ کچھ دیواروں کے پیچھے ایسے خالی حصے دکھائی دیے جو ممکنہ طور پر نئے چیمبر ہو سکتے ہیں۔ یہ سب بتاتا ہے کہ اہرام آج بھی اپنا راز مکمل طور پر ظاہر نہیں کرتے۔

    دنیا کے اکثر قدیم عجوبے مٹ چکے ہیں۔ مگر اہرام آج بھی کھڑے ہیں۔ یہ مصر کی پہچان بھی ہیں اور انسان کی عظمت کا سب سے بڑا نشان بھی۔ سیاح یہاں آتے ہیں، محقق یہاں تحقیق کرتے ہیں، اور ایک سوال آج بھی قائم ہے: یہ کیسے بنے؟

    آخر میں ایک بات سمجھنے کی ہے۔ یہ عمارتیں صرف پتھر سے نہیں بنی تھیں۔ یہ یقین، عقیدے، علم، نظم اور صدیوں پر پھیلی انسانی محنت سے بنی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزر گیا، مگر اہرام ابھی تک اسی تابناکی سے قائم و دائم ہیں۔