Tag: اغوا

  • راولپنڈی میں انوکھا مقدمہ: لاپتہ بچے کے اغوا کا کیس جنات کے خلاف درج

    راولپنڈی میں انوکھا مقدمہ: لاپتہ بچے کے اغوا کا کیس جنات کے خلاف درج

    جڑواں شہر راولپنڈی میں ایک حیران کن اور غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پولیس نے دس دن سے لاپتہ ایک کم عمر لڑکے کے اغوا کا مقدمہ جنات کے خلاف درج کر لیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف علاقے میں موضوعِ بحث بن گیا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ واقعہ تھانہ ٹیکسلا کی حدود میں پیش آیا، جہاں ایک شہری نے اپنے 11 سالہ بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کے بیٹے کو جنات اغوا کر کے لے گئے ہیں۔ پولیس نے شہری کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا ہے اور معاملے کی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    مدعی مقدمہ کے مطابق اس کا بیٹا سراقہ السیف 21 جنوری کو گھر سے نکلا تھا، لیکن واپس نہیں آیا۔ والد کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انہوں نے سمجھا کہ بچہ قریبی رشتہ داروں یا دوستوں کے پاس چلا گیا ہوگا، تاہم جب کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود وہ واپس نہ آیا تو تلاش شروع کی گئی۔ محلے، رشتہ داروں اور ممکنہ مقامات پر تلاش کے باوجود کوئی سراغ نہ ملا۔

    والد نے 25 جنوری کو تھانے میں باقاعدہ درخواست دی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس کے بیٹے کو جنات بھگا کر لے گئے ہیں۔ درخواست میں بتایا گیا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے قبل بھی کئی بار جنات سراقہ السیف کو اپنے ساتھ لے جا چکے ہیں، لیکن وہ کچھ وقت بعد خود ہی واپس گھر آ جاتا تھا۔ تاہم اس بار کئی دن گزرنے کے باوجود بچہ واپس نہیں آیا، جس کی وجہ سے اہلِ خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

    مقدمے کے متن میں درج ہے کہ والد کو یقین ہے کہ جنات نے اس کے بیٹے کو اغوا کر لیا ہے اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق شہری کے بیان کی روشنی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، تاہم ساتھ ہی معاملے کی ہر پہلو سے جانچ پڑتال بھی کی جا رہی ہے تاکہ لڑکے کا سراغ لگایا جا سکے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کم عمر بچے کی گمشدگی ایک سنجیدہ معاملہ ہے، اس لیے روایتی تفتیشی طریقوں کے تحت بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ علاقے میں تلاش، ریکارڈ کی جانچ، اور قریبی علاقوں میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کی بحفاظت بازیابی ان کی اولین ترجیح ہے۔

    یہ واقعہ عوامی حلقوں میں مختلف ردعمل کا باعث بن رہا ہے۔ کچھ افراد اسے توہم پرستی سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ والد کی ذہنی کیفیت اور خوف کی وجہ سے اس نوعیت کا بیان سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں زمینی حقائق اور نفسیاتی پہلوؤں دونوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اس نوعیت کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ ماضی میں لاہور میں ایک شادی شدہ خاتون کی گمشدگی کے بعد اس کی والدہ نے بھی اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ جنات کے خلاف درج کرایا تھا۔ اس واقعے نے اس وقت خاصی توجہ حاصل کی تھی اور معاملہ عدالت تک جا پہنچا تھا، جہاں مختلف قانونی اور سماجی پہلوؤں پر بحث ہوئی تھی۔

    حالیہ واقعے کے بعد شہریوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ پولیس اس طرح کے غیر معمولی الزامات کے تحت درج مقدمات کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ہر درخواست پر کارروائی کی جاتی ہے، تاہم اصل توجہ حقائق تک پہنچنے اور لاپتہ افراد کی بازیابی پر ہوتی ہے۔

    علاقہ مکینوں نے دعا اور امید کا اظہار کیا ہے کہ کم عمر سراقہ السیف جلد خیریت سے اپنے گھر واپس آ جائے اور اس پراسرار واقعے کی حقیقت بھی سامنے آ سکے۔