اسکندریہ کا لائٹ ہاؤس قدیم دنیا کی ان چند عظیم عمارتوں میں سے ایک تھا جس نے نہ صرف انجینئرنگ کے تصور کو بدل دیا بلکہ انسان کی تخلیقی قوت اور سمندر سے جڑی ضرورتوں کو بھی ایک نئی سمت دی۔ یہ وہ مینار تھا جو یونانی ہنر، بطلیموسی سلطنت کی طاقت اور بحیرۂ روم کی رونق کا مجموعہ تھا۔ اسے فارس آف اسکندریہ بھی کہا جاتا تھا۔ قدیم دنیا کے سات عجائب میں یہ واحد عجوبہ تھا جو انسانوں کی رہنمائی کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس نے صدیوں تک جہاز رانوں کو راستہ دکھایا اور ساتھ ہی علم، دولت اور انسان کی فکری بلندی کی علامت بھی بنا رہا۔
تیسری صدی قبل مسیح میں جب بطلیموس اوّل نے اسکندریہ کو مصر کا نیا علمی اور تجارتی مرکز بنایا تو شہر تیزی سے ترقی کرنے لگا۔ علمی بحثیں، تجارت کا پھیلاؤ اور دور دراز کے شہروں سے آنے والی کشتیاں اس مقام کی اہمیت بڑھاتی گئیں۔ اس اضافہ ہوتی سرگرمی کے ساتھ ساتھ سمندر میں محفوظ راستوں کی ضرورت بھی بڑھ گئی۔ اسی ضرورت نے ایک نئے خیال کو جنم دیا۔ تقریباً دو سو اسی قبل مسیح میں انجینئر سوستراتوس نے ساحل سے تھوڑے فاصلے پر موجود چھوٹے جزیرے فاروس پر دنیا کا پہلا جدید لائٹ ہاؤس تعمیر کیا۔ یہ تعمیر نہ صرف اپنے دور میں حیرت میں ڈالتی تھی بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے بھی مثال بن گئی۔
مورخین نے اس عمارت کی ساخت کا جو نقشہ پیش کیا ہے، وہ اپنے زمانے کی ذہانت اور ہنر کا ثبوت ہے۔ اس کی اونچائی سو سے ایک سو تیس میٹر کے درمیان بیان کی جاتی ہے۔ اتنی بلندی اس دور میں تقریباً ناممکن سمجھی جاتی تھی۔ مینار کی بنیاد مربع شکل میں تھی اور مضبوط پتھروں سے تیار کی گئی تھی۔ اسی حصے میں رسد، سامان اور محافظوں کے کمرے موجود تھے۔ اس کے اوپر آٹھ پہلوؤں پر مشتمل حصہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ آکٹاگونل حصہ سمندری دباؤ، تیز ہوا اور نمی جیسے عوامل کے مقابلے میں زیادہ مضبوط سمجھا جاتا تھا، اس لیے یہ ساخت پورے مینار کی مضبوطی کی بنیاد تھی۔ سب سے اوپر گول مینار بنایا گیا تھا۔ یہی وہ حصہ تھا جہاں رات کے وقت آگ جلائی جاتی تھی۔ دن میں سورج کی روشنی بڑے آئینوں کے ذریعے سمندر کی طرف پھینکی جاتی تھی۔ مورخین کہتے ہیں کہ صاف موسم میں یہ روشنی پچاس کلومیٹر تک نظر آ جاتی تھی۔ اس روشنی نے نہ جانے کتنی ملاحوں کی جانیں بچائیں، کتنی کشتیوں کو راستہ دکھایا اور کتنے قافلوں کو منزل تک پہنچایا۔
اسکندریہ کا لائٹ ہاؤس صرف ایک بحری نشان نہیں تھا۔ یہ بطلیموسی سلطنت کی ٹیکنالوجی، علم اور عظمت کا اظہار بھی تھا۔ اسی شہر میں اسکندریہ کی عظیم لائبریری بھی موجود تھی جہاں یونانی دنیا کے بڑے فلسفی، ریاضی دان اور سائنس دان رہتے تھے۔ اسی لیے یہ مینار بھی اس علمی ماحول کا ہی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ صرف روشنی کا مینار نہیں بلکہ تہذیب اور ترقی کی علامت تھا۔ یہ بتاتا تھا کہ انسان جب اپنی عقل اور ہنر کو یکجا کرے تو وہ سمندر کی گہرائیوں کو بھی روشن کر سکتا ہے۔
صدیوں تک یہ مینار قائم رہا۔ بادشاہ بدلے، سلطنتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں، لیکن مینار اپنی جگہ موجود رہا۔ مگر قدرت کے فیصلے ہمیشہ طاقت ور ثابت ہوتے ہیں۔ چودھویں صدی میں آنے والے تین بڑے زلزلوں نے اس عظیم عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔ ایک ایک کر کے اس کی دیواریں ٹوٹنے لگیں، ستون گرنے لگے اور بالآخر وہ روشنی کا گھر خاموش ہوتا گیا۔ جب اس کے باقی ماندہ حصے بھی کمزور ہو گئے تو پندرھویں صدی میں مملوک سلطان قایتبائی نے اس کے بچے کھچے پتھروں کو استعمال کر کے ایک مضبوط قلعہ تعمیر کر لیا۔ آج بھی اسی جگہ قلعہ قایتبائی کھڑا ہے۔ جہاں کبھی سمندر کی طرف روشنی پھینکتی ہوئی ایک جیتی جاگتی علامت موجود تھی، آج وہاں تاریخ کے آثار خاموشی سے اس عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔
اگرچہ اسکندریہ کا اصلی لائٹ ہاؤس اب موجود نہیں، مگر اس کی روح آج بھی زندہ ہے۔ یونانی اور رومی تحریروں میں اس کے ذکر ملتے ہیں۔ قدیم نقشے اس کی ساخت کو محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کے عجائب گھروں میں اس کی شکل کے ماڈل رکھے ہوئے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر دنیا کے ہر جدید لائٹ ہاؤس میں اسکندریہ کے مینار کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ آج بھی جب کوئی مینار رات کے سمندر پر روشنی بکھیرتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے اسکندریہ کا وہ قدیم مینار اپنے نشان چھوڑے بغیر کہیں نہیں گیا۔ وہ آج بھی جہازوں کو راستہ دکھانے کے عمل میں زندہ ہے۔ انسان کی ضرورت اور تخلیقی صلاحیت کا یہ شاہکار وقت کی دھول میں مٹ کر بھی تاریخ کے صفحوں، علم کی کتابوں اور سمندر کے بیچوں بیچ سفر کرتی روشنی میں اب تک قائم ہے۔

