عام طور پر صحرا کا نام آتے ہی ذہن میں تپتی دھوپ، جھلسا دینے والی گرمی اور دور دور تک پھیلی سنہری ریت کا تصور ابھرتا ہے، لیکن پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں ایک ایسا صحرا بھی موجود ہے جہاں برف اور ریت ایک ہی منظر کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اسکردو اور شگر کی وادیوں کے درمیان واقع کٹپانہ اور سرفرنگا کا سرد صحرا دنیا کے بلند ترین سرد صحراؤں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں برف پوش پہاڑ، عظیم گلیشیئرز، دریائے سندھ اور سنہری ریت کے ٹیلے ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
یہ منفرد صحرا سطح سمندر سے تقریباً سات ہزار پانچ سو فٹ یعنی لگ بھگ دو ہزار دو سو سے دو ہزار چار سو میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اسی بلندی کی وجہ سے یہاں موسم سرما میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کہیں نیچے چلا جاتا ہے اور برف باری کے بعد ریت کے ٹیلے سفید چادر میں ڈھک جاتے ہیں۔
دنیا میں ایسے مقامات نہایت کم ہیں جہاں صحرا اور برفانی ماحول اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ موجود ہوں۔
کٹپانہ اور سرفرنگا دراصل ایک ہی وسیع سرد صحرائی نظام کے دو اہم حصے ہیں۔ کٹپانہ صحرا اسکردو شہر کے قریب واقع ہے، جبکہ سرفرنگا کا علاقہ شگر کی جانب پھیلا ہوا ہے۔ دونوں مقامات اپنی قدرتی خوبصورتی، منفرد جغرافیے اور دلکش مناظر کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں، فوٹوگرافروں اور مہم جوؤں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس صحرا کی ریت عام گرم صحراؤں کی طرح صدیوں پرانے خشک موسم کا نتیجہ نہیں بلکہ گلیشیائی اور دریائی عمل سے وجود میں آئی۔ ماہرین کے مطابق ہزاروں برس پہلے قراقرم کے گلیشیئرز سے آنے والا ملبہ اور باریک معدنی ذرات دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کے ذریعے اس علاقے میں جمع ہوتے رہے۔
بعد ازاں تیز اور مسلسل چلنے والی ہواؤں نے انہی ذرات کو منتقل کر کے بلند و بالا ریتی ٹیلوں کی شکل دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس صحرا کی تشکیل میں گلیشیئر، دریا اور ہوا تینوں نے اہم کردار ادا کیا۔
اس صحرا کی ایک اور منفرد خصوصیت اس کا محل وقوع ہے۔ یہ دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں، قراقرم اور ہمالیہ، کے سائے میں واقع ہے، جبکہ ہندوکش کا خطہ بھی زیادہ فاصلے پر نہیں۔ اسی لیے اس علاقے کے چند کلومیٹر کے سفر میں برفانی چوٹیاں، گلیشیئر، سبز وادیاں، دریائے سندھ اور ریت کے وسیع میدان ایک ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ جغرافیائی تنوع دنیا کے چند ہی خطوں میں موجود ہے۔
یہ علاقہ صرف قدرتی حسن ہی کا حامل نہیں بلکہ ایک منفرد ماحولیاتی نظام بھی رکھتا ہے۔ یہاں بارش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، ہوا خشک رہتی ہے اور سردیوں میں شدید سردی پڑتی ہے، اس کے باوجود یہاں بلند پہاڑی ماحول سے مطابقت رکھنے والی گھاس، جھاڑیاں اور نباتات کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔
اسی طرح مختلف پرندے اور جنگلی حیات بھی اس ماحول کا حصہ ہیں، جو سخت موسمی حالات کے باوجود یہاں زندگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
گرمیوں کے موسم میں یہ صحرا سنہری ریت، نیلے آسمان اور برف سے ڈھکی چوٹیوں کے باعث ایک منفرد منظر پیش کرتا ہے، جبکہ سردیوں میں برف باری کے بعد یہی ریتی ٹیلے سفید برف سے ڈھک جاتے ہیں۔ برف اور ریت کا یہ امتزاج نہ صرف فوٹوگرافروں بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے بھی غیر معمولی کشش رکھتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ کٹپانہ اور سرفرنگا صحرا بھی تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ یہاں آف روڈ ڈرائیونگ، کیمپنگ، فوٹوگرافی، سورج طلوع اور غروب ہونے کے مناظر اور ستاروں سے بھرے آسمان کا نظارہ سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
سرفرنگا کے علاقے میں جیپ ریلیوں اور دیگر سیاحتی سرگرمیوں کے انعقاد نے بھی اس مقام کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں کردار ادا کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سرد صحرا دراصل ایسے خشک علاقے کو کہا جاتا ہے جہاں بارش بہت کم ہوتی ہے، لیکن موسم انتہائی سرد رہتا ہے۔ اس تعریف کے مطابق کٹپانہ اور سرفرنگا کا صحرا ایک حقیقی سرد صحرا ہے، کیونکہ یہاں سالانہ بارش نہایت محدود ہوتی ہے جبکہ سردیوں میں شدید برف باری اور منفی درجہ حرارت معمول کی بات ہے۔
اسکردو اور شگر کے درمیان پھیلا یہ حیرت انگیز صحرا اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ صحرا صرف گرم علاقوں میں ہی نہیں ہوتے۔ قدرت نے پاکستان کے شمال میں ایک ایسا نادر منظر تخلیق کیا ہے جہاں برف، گلیشیئر، دریا اور سنہری ریت ایک ہی سرزمین پر ایک ساتھ موجود ہیں۔ یہی انفرادیت کٹپانہ اور سرفرنگا کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے منفرد ترین قدرتی عجائبات میں شامل کرتی ہے۔
ساگا ڈیجیٹل آپ کے لیے پاکستان کے قدرتی عجائبات، نایاب حقائق اور حیران کن مقامات کی مستند کہانیاں پیش کرتا ہے۔
اگر آپ پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا چاہتے ہیں تو ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

