Tag: اسکالرشپ

  • بھٹو اسٹیم اسکالرشپ 2026: سندھ کے طلبہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم سرکاری خرچے پر کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

    بھٹو اسٹیم اسکالرشپ 2026: سندھ کے طلبہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم سرکاری خرچے پر کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

    حکومتِ سندھ اور آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے اشتراک سے سندھ کے طلبہ کے لیے بھٹو اسٹیم اسکالرشپ 2026 کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس اسکالرشپ کے تحت آکسفورڈ یونیورسٹی میں ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح پر تعلیم کے لیے وظائف فراہم کیے جائیں گے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے اس اقدام کو سندھ کے طلبہ کے لیے بلاول بھٹو زرداری کا تحفہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اسکالرشپ کا مقصد ایسے باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو سائنس سے متعلق مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    بھٹو اسٹیم اسکالرشپ کے تحت منتخب طلبہ کو لیڈی مارگریٹ ہال، یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس اسکیم میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ سے متعلق مضامین کے طلبہ کو ترجیح دی جائے گی۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے اہل اور باصلاحیت امیدوار اس اسکالرشپ کے لیے درخواست دے سکیں گے۔

    سعد سردار علی شاہ کے مطابق اسکالرشپ کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی کے میرٹ کے تمام تقاضے پورے کرنا لازم ہوں گے۔ اس اسکیم میں مرد اور خواتین امیدواروں کو یکساں مواقع دیے جائیں گے۔ خواتین امیدواروں کے لیے شہید بے نظیر بھٹو انیشی ایٹو کے تحت خصوصی اسکالرشپس مختص کی گئی ہیں، جبکہ اوپن میرٹ پر شہید ذوالفقار علی بھٹو انیشی ایٹو کے تحت وظائف دیے جائیں گے۔

    انتخاب کا عمل کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور آکسفورڈ پاکستان پروگرام مشترکہ طور پر مکمل کریں گے۔ منتخب ہونے والے طلبہ کو تعلیمی فیس، رہائش اور دیگر تعلیمی اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

    وزیرِ تعلیم نے مزید بتایا کہ آکسفورڈ پاکستان پروگرام کا آغاز اس لیے کیا گیا تاکہ پاکستانی طلبہ کو دنیا کی اعلیٰ جامعات میں تعلیم کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔ ان کے مطابق عالمی تعلیمی اداروں میں پاکستانی طلبہ کی نمائندگی محدود رہی ہے، اور اس پروگرام کا بنیادی مقصد اسی خلا کو کم کرنا ہے۔

    سید سردار علی شاہ کے مطابق اس پروگرام پر خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے، جسے مستقبل کی قیادت اور علمی ترقی میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال منتخب ہونے والے طلبہ کی تعداد محدود ہوگی، تاہم انتخاب مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

    وزیرِ تعلیم نے مزید کہا کہ آکسفورڈ پاکستان پروگرام محض ایک اسکالرشپ اسکیم نہیں بلکہ پاکستان اور عالمی تعلیمی اداروں کے درمیان ایک مضبوط علمی رشتہ ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے تحقیق، مکالمے اور علم کی منتقلی کو فروغ دیا جائے گا، جس سے طویل مدت میں پاکستان کی فکری اور تعلیمی بنیاد کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی