امریکہ میں کی گئی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ٹوائلٹ پر بیٹھ کر موبائل فون استعمال کرنے کی عادت صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو بیت الخلا میں بیٹھے ہوئے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، ان میں بواسیر کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً 46 فیصد زیادہ پایا گیا جو ٹوائلٹ کے دوران موبائل فون استعمال نہیں کرتے۔
یہ تحقیق امریکہ کے معروف طبی ادارے ’بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سینٹر‘ کے محققین نے کی، جسے سائنسی جریدے ’پلاس ون‘ میں شائع کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق اسمارٹ فون استعمال کرنے والے افراد عموماً ٹوائلٹ میں زیادہ دیر تک بیٹھے رہتے ہیں کیونکہ وہ خبریں پڑھنے یا سوشل میڈیا دیکھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں، جس سے مقعد (Anus) کے اردگرد موجود بافتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
بواسیر دراصل مقعد یا ریکٹم کے حصے میں موجود رگوں کے سوج جانے کو کہا جاتا ہے، جس کے باعث درد، جلن اور بعض اوقات خون آنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ میں یہ بیماری خاصی عام ہے اور ہر سال تقریباً 40 لاکھ افراد بواسیر کے علاج کے لیے ڈاکٹروں یا ایمرجنسی رومز سے رجوع کرتے ہیں، جبکہ اس بیماری کے علاج اور طبی اخراجات پر سالانہ 800 ملین ڈالر سے زائد خرچ ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین اور مریضوں کے درمیان طویل عرصے سے یہ شبہ موجود تھا کہ ٹوائلٹ میں موبائل فون استعمال کرنے کی عادت بواسیر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے سائنسی شواہد محدود تھے۔ نئی تحقیق نے پہلی مرتبہ اس امکان کا باقاعدہ سائنسی جائزہ لیا ہے۔
اس تحقیق کے لیے محققین نے 125 بالغ افراد کا مطالعہ کیا جو اسکریننگ کولونوسکوپی کے عمل سے گزرے، پھر اینڈوسکوپی کے ماہر ڈاکٹروں نے شرکاء کا معائنہ کر کے بواسیر کی علامات کا جائزہ لیا۔
نتائج کے مطابق تقریباً دو تہائی افراد نے بتایا کہ وہ ٹوائلٹ پر بیٹھ کر اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے افراد عموماً ان لوگوں سے کم عمر تھے جو بیت الخلا میں فون استعمال نہیں کرتے۔
محققین نے عمر، ورزش کی عادات اور فائبر والی غذا کے استعمال جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے نتائج کا تجزیہ کیا۔ اس تجزیے سے معلوم ہوا کہ جو افراد ٹوائلٹ پر بیٹھ کر اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں ان میں بواسیر ہونے کا خطرہ 46 فیصد زیادہ تھا۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسمارٹ فون استعمال کرنے والے افراد بیت الخلا میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ تقریباً 37 فیصد فون استعمال کرنے والے افراد نے بتایا کہ وہ ایک مرتبہ ٹوائلٹ جانے کے دوران پانچ منٹ سے زیادہ بیٹھے رہتے ہیں، جبکہ فون استعمال نہ کرنے والوں میں یہ شرح صرف 7.1 فیصد تھی۔
جب شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ ٹوائلٹ میں فون استعمال کرتے ہوئے کیا کرتے ہیں تو زیادہ تر نے بتایا کہ وہ خبریں پڑھتے ہیں یا سوشل میڈیا براؤز کرتے ہیں۔
دلچسپ طور پر اس تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ پاخانہ کے دوران زور لگانے اور بواسیر کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں ملا، حالانکہ ماضی کی کچھ تحقیقات میں اسے ایک اہم سبب قرار دیا گیا تھا۔
تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ اسمارٹ فون کا استعمال غیر ارادی طور پر ٹوائلٹ میں بیٹھنے کا وقت بڑھا دیتا ہو۔ زیادہ دیر بیٹھنے کی وجہ سے مقعد کے حصے میں دباؤ بڑھتا ہے جو بواسیر کے بننے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس تحقیق کی سینئر مصنفہ تریشا پسریچا کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون کا استعمال ہماری روزمرہ زندگی کے کئی پہلوؤں کو متاثر کر رہا ہے اور اس کے صحت پر اثرات کے بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ بیت الخلا جاتے وقت موبائل فون کو باہر ہی چھوڑ دیا جائے اور کوشش کی جائے کہ پاخانہ کے لیے چند منٹ سے زیادہ وقت نہ لگے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسمارٹ فون ایپس خاص طور پر اس طرح ڈیزائن کی جاتی ہیں کہ صارف زیادہ دیر تک ان میں مصروف رہے، جس کے باعث لوگوں کو وقت گزرنے کا احساس نہیں رہتا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق کے نتائج ابتدائی ہیں، تاہم احتیاط کے طور پر ٹوائلٹ میں موبائل فون استعمال نہ کرنا اور کم وقت بیٹھنا صحت کے لیے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

