Tag: اسلام ہیڈورکس

  • بہاول نگر کینال ایک نہر جو صرف کھیت نہیں، لال سہانرا نیشنل پارک کے پورے ماحولیاتی نظام کو زندگی دیتا ہے

    بہاول نگر کینال ایک نہر جو صرف کھیت نہیں، لال سہانرا نیشنل پارک کے پورے ماحولیاتی نظام کو زندگی دیتا ہے

    پنجاب کے ضلع بہاول نگر میں دریائے ستلج پر واقع اسلام ہیڈورکس پاکستان کے اہم آبی ڈھانچوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ہیڈورکس کی تعمیر برطانوی دور میں مکمل ہوئی اور اسے 1927 میں فعال کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد دریائے ستلج کے پانی کو منظم کرنا اور نہری نظام کے ذریعے جنوبی پنجاب کے وسیع زرعی علاقوں تک پہنچانا تھا۔

    اسلام ہیڈورکس دریائے ستلج کے پانی کی تقسیم اور بہاؤ کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں سے بہاول کینال سمیت متعدد نہریں نکلتی ہیں، جو بہاول نگر، بہاولپور اور ملحقہ علاقوں کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو سیراب کرتی ہیں۔ کپاس، گندم، گنا، چاول اور دیگر فصلوں کی پیداوار بڑی حد تک اسی نہری نظام پر انحصار کرتی ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام ہیڈورکس صرف زراعت ہی کے لیے اہم نہیں بلکہ ایک منفرد قدرتی ماحولیاتی نظام کی بقا سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔ اسی نہری نظام کے ذریعے فراہم ہونے والا پانی پاکستان کے نمایاں محفوظ قدرتی علاقوں میں شامل لال سہانرا نیشنل پارک کے مختلف حصوں کو زندگی بخشتا ہے۔

    بہاولپور کے قریب چولستان کے کنارے واقع لال سہانرا نیشنل پارک 1972 میں قائم کیا گیا تھا، جبکہ 1977 میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے اسے اپنے ‘مین اینڈ بایوسفیئر پروگرام’ کے تحت بایوسفیئر ریزرو قرار دیا۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے ابتدائی محفوظ قدرتی علاقوں میں سے ایک ہے۔

    لال سہانرا نیشنل پارک کی سب سے منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تین مختلف قدرتی ماحولیاتی نظام ایک ہی جگہ موجود ہیں۔ پارک میں صحرائی علاقے، قدرتی جنگلات اور میٹھے پانی پر مشتمل آبی ماحول ایک دوسرے کے ساتھ قائم ہیں۔ دنیا میں ایسے مقامات بہت کم ہیں جہاں یہ تینوں قدرتی نظام ایک ہی محفوظ علاقے میں یکجا نظر آتے ہوں۔

    یہ بھی ایک کم معروف حقیقت ہے کہ پارک کے اندر موجود کئی مصنوعی جھیلیں، آبی ذخائر اور جنگلات نہری پانی کی بدولت برقرار رہتے ہیں۔ اگر نہری پانی کی فراہمی متاثر ہو جائے تو نہ صرف ان آبی ذخائر کی سطح کم ہو سکتی ہے بلکہ جنگلات، گھاس کے میدان اور ان پر انحصار کرنے والی جنگلی حیات بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    لال سہانرا نیشنل پارک پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں چنکارا، نیل گائے، صحرائی لومڑی، جنگلی سور، سیاہ تیتر، مور اور مقامی و مہاجر پرندوں کی متعدد اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہ پارک پاکستان میں بلیک بک یا کالے ہرن کے تحفظ اور افزائش کے کامیاب منصوبوں کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے، جہاں افزائش نسل کے بعد کئی جانور مختلف محفوظ علاقوں میں منتقل کیے گئے۔

    ماہرین کے مطابق نہری پانی صرف فصلوں کی پیداوار کے لیے ضروری نہیں بلکہ یہ زیر زمین پانی کے ذخائر کو برقرار رکھنے، مقامی آب و ہوا پر مثبت اثر ڈالنے اور جنگلات و آبی حیات کی بقا میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا آبپاشی نظام زرعی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ کئی قدرتی ماحولیاتی نظاموں کی زندگی سے بھی وابستہ ہے۔

    پاکستان کا نہری نظام دنیا کے بڑے مربوط آبپاشی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جہاں دریاؤں، بیراجوں، ہیڈورکس اور ہزاروں کلومیٹر طویل نہروں کے ذریعے پانی دور دراز زرعی علاقوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اسلام ہیڈورکس اسی وسیع نظام کی ایک اہم کڑی ہے، جو نہ صرف لاکھوں افراد کے روزگار بلکہ قدرتی ماحول کے تحفظ میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

    اسلام ہیڈورکس، بہاول کینال اور لال سہانرا نیشنل پارک کی یہ کہانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بعض اوقات ایک نہر صرف پانی نہیں بہاتی بلکہ زراعت، جنگلات، جنگلی حیات اور پورے ماحولیاتی نظام کو زندگی فراہم کرتی ہے۔

    ‘ساگا ڈیجیٹل’ پاکستان کا پہلا اے آئی پاورڈ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ہے، جہاں ہم آپ تک تحقیق پر مبنی، مستند اور منفرد کہانیاں پہنچاتے ہیں۔ اگر آپ کو ہماری یہ رپورٹ پسند آئی ہو تو ‘ساگا ڈیجیٹل’ کو ضرور فالو کریں۔