Tag: اسلام آباد مذاکرات

  • ایران جنگ میں امن کردار، کیا پاکستان کو معاشی فائدہ بھی ملے گا؟

    ایران جنگ میں امن کردار، کیا پاکستان کو معاشی فائدہ بھی ملے گا؟

    ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امن معاہدے میں کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سفارتی کامیابی پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے بھی کسی بڑے معاشی فائدے میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔

    بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز کے صحافی عریبہ شاہد اور سعد سعید کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی اہم بات چیت میں بھی حصہ لیا۔ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کردار نے نہ صرف جنگ بندی میں مدد دی بلکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی عالمی ترسیل میں ممکنہ بڑے بحران کو بھی ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں عالمی سطح پر بہتر ساکھ حاصل ہوئی ہے۔ اگر حکومت اس موقع سے درست انداز میں فائدہ اٹھائے تو غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارت، برآمدات اور علاقائی اقتصادی تعاون میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک اپنے اندر استحکام پیدا کرتا ہے اور دنیا میں امن کے قیام میں کردار ادا کرتا ہے، وہ سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد معاشی ترقی کا ہدف رکھے ہوئے ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں استحکام آنے سے تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان ایران، خلیجی ممالک اور ترکی کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ بلوچستان کی سرحدی تجارت کو وسعت دینے، توانائی، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر ان شعبوں میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

    تاہم متعدد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف کامیاب سفارت کاری پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق ملک کو اب بھی کمزور برآمدات، محدود ٹیکس نیٹ، بیرونی قرضوں، مالی خسارے اور بار بار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے امداد لینے جیسے بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ جب تک ان مسائل پر سنجیدگی سے قابو نہیں پایا جاتا، اس وقت تک سفارتی کامیابیوں کے معاشی فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق بعض مغربی سفارت کاروں نے بھی اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے میں دلچسپی موجود ہے۔ تاہم ابھی تک کسی بڑے مالی پیکیج یا غیر معمولی سرمایہ کاری کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی بہتر ہوتی ہوئی عالمی ساکھ کو معاشی اصلاحات کے ساتھ جوڑ دے تو وہ طویل مدت میں نمایاں فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کاروباری ماحول کو بہتر بنانا، سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور پائیدار معاشی پالیسی اختیار کرنا ضروری ہوگا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران پاکستان کو توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا سامنا رہا۔ جنگ بندی کے بعد ان خطرات میں کمی آئی ہے، جس سے پاکستان سمیت پورے خطے میں معاشی سرگرمیوں کے بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ وہ اپنی سفارتی کامیابی کو معاشی پالیسی میں تبدیل کرے۔ اگر حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے، برآمدات بڑھانے، ٹیکس اصلاحات نافذ کرنے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو حالیہ سفارتی کردار مستقبل میں معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    رائٹرز کے صحافی عریبہ شاہد اور سعد سعید اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اس وقت ایک نادر موقع موجود ہے۔ دنیا میں امن کے لیے ادا کیا گیا کردار ملک کی عالمی ساکھ بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے، لیکن اس کامیابی کو دیرپا معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط معاشی اصلاحات، پالیسیوں کا تسلسل اور مؤثر حکومتی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔

  • اسلام آباد مذاکرات: کیا ورلڈ آرڈر بدل رہا ہے؟

    اسلام آباد مذاکرات: کیا ورلڈ آرڈر بدل رہا ہے؟

    اس جنگ نے کئی دہائیوں سے قائم عالمی طاقتوں کے نظام (World Order) کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ایک دہائیوں سے پابندیوں کے شکار، کمزور اور سخت گیر مذہبی ملک (ایران) نے دنیا کی سپر پاور امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ‘سپر مین’ اسرائیل کی مشترکہ فوجی طاقت کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو عرب اتحادیوں سمیت کئی یورپی ممالک کی فوجی اور مالی مدد بھی حاصل تھی، لیکن ایران نے انہیں اپنی شرائط پر مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر دیا۔ مغربی تسلط کے اس خاتمے کو ایک نئے کثیر القطبی (Multipolar) عالمی نظام کی شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں اب خطے کے فیصلے صرف واشنگٹن میں نہیں ہوں گے۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے 28 فروری کو اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے مشورے سے ایران کے خلاف ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے نام سے فضائی حملوں کا آغاز کیا، جس کا مقصد ایران کی ایٹمی، فوجی، فضائی اور بحری طاقت کا خاتمہ تھا۔ ٹرمپ نے یہ جنگ سوشل میڈیا پر بھی بھرپور طریقے سے لڑی؛ کبھی کہا کہ ایرانی عوام کی آزادی کی گھڑی آ گئی ہے، عوام احتجاج کر رہے ہیں اور بیرونی مدد پہنچ رہی ہے۔ وہ ایرانی قیادت کے خاتمے، نئی تبدیلی، سفارت کاروں کی وفاداریاں خریدنے اور ‘اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کی 6 ہزار سالہ تہذیب کو تباہ و برباد کر دوں گا’ جیسی دھمکیاں دیتے رہے۔ لیکن ایک ماہ سے زائد جاری رہنے والی جنگ نے نقشہ بدل دیا؛ ایران نے آیت اللہ خامنہ ای سمیت اپنے تمام 40 فوجی، انٹیلی جنس اور سیاسی رہنماؤں کی جگہ نئے چہرے متعارف کرائے جو پہلے والوں سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوئے۔ ٹرمپ کی دھمکیاں الٹی پڑ گئیں اور ایرانی عوام اپنی نئی قیادت کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہو گئے۔ جواب میں ایران نے جوابی حملے کر کے عالمی معیشت کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا۔

    اپریل میں پاکستان کی ثالثی سے دونوں ممالک کے درمیان چودہ روزہ جنگ بندی ہوئی۔ امریکہ نے 15 اور ایران نے 10 مطالبات رکھے، جن میں لبنان کی جنگ بندی کو بھی اس کا حصہ قرار دیا گیا۔ لیکن اگلے ہی دن اسرائیل نے لبنان پر 10 منٹ میں 100 مقامات پر بمباری کر کے تین سو افراد کو شہید کر دیا اور 5 ہزار عمارتیں تباہ کر دیں۔ عالمی سطح پر شور مچا اور امریکہ و اسرائیل پریشانی کا شکار ہو گئے۔ یہ جنگ بندی ٹرمپ کے لیے ‘جنگ سے نکلنے کا راستہ’ نہیں بلکہ ایک ‘لائف سیونگ ایجیکشن سیٹ’ ثابت ہوئی، کیونکہ ایرانی مزاحمت نے امریکہ کی فوجی برتری کے تصور کو چیلنج کر دیا تھا۔ اس جنگ نے امریکہ کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ وہ اب اپنے فیصلے دنیا پر مسلط نہیں کر سکتا۔ ایک کمزور ملک کا یوں ڈٹ جانا اس بات کی علامت ہے کہ اب یورپی اجارہ داری نہیں چلے گی۔

    الجزیرہ کے پروگرام ‘پوسٹ کارڈ’ کے ماہرین نے اس صورتحال کو ‘ٹرمپ کی ناکام مہم’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے تہران کو کمزور کرنے کے بجائے اسے ایک نئی علاقائی طاقت کے طور پر ابھار کر عالمی نظام ہی بدل دیا ہے۔ عالمی تجزیہ کار رامی خوری نے کہا کہ اس جنگ نے امریکہ کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ آپریشن ناکام ہو چکا ہے، ایرانیوں نے امریکی جنگی جہاز تباہ کر دیے ہیں اور ٹریلین ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔ عرب ممالک بھی اب معاوضہ مانگ رہے ہیں۔ لہٰذا یہ جنگ بندی اصل میں ٹرمپ کے لیے ایک تاریخی شکست اور ‘امریکی غرور کا خاتمہ’ ہے۔ وائٹ ہاؤس کو اب پھر سے ویتنام یاد آ رہا ہے اور عرب ممالک نئے اتحادی تلاش کر رہے ہیں۔ عرب ممالک کا کہنا ہے کہ امریکہ ہمیں نہیں بلکہ ہم امریکہ کو بچا رہے ہیں۔

    عالمی مبصر مروان بشارہ کے مطابق، اب ہم ‘امریکہ کے بعد والی دنیا’ میں داخل ہو چکے ہیں۔ چین اور روس کی خاموش ڈپلومیسی نے دنیا کو بدل دیا ہے۔ سستے ڈرونز اور اسمارٹ میزائلوں نے سائبر جنگ اور جدید ٹیکنالوجی کو مات دے دی ہے۔ ایران کی ثابت قدمی نے ثابت کر دیا کہ صرف ایک سمندری راستہ بند کر کے پوری دنیا کو جھکایا جا سکتا ہے۔ اسرائیل اس وقت خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے کیونکہ امریکہ براہِ راست جنگ سے گریز کر رہا ہے۔ عالمی معیشت نے تیل کی ترسیل کے لیے اب نئے راستے تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    عالمی مبصر رچرڈ گیزیٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے میڈیا کے ذریعے ‘فرضی فتح’ کا جو تاثر دیا تھا وہ خاک میں مل گیا۔ امریکی جنگی جہازوں کا کمیونیکیشن سسٹم تباہ ہو گیا۔ اب دنیا کا کوئی بھی رہنما ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی لاعلمی پر مبنی ہے۔ ایران اب عراق، لبنان اور یمن پر مکمل اثر و رسوخ حاصل کر چکا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پریشان ہیں کہ اس جنگ سے عالمی معیشت تباہ ہو جائے گی۔ امریکہ ایران کا ایٹمی پروگرام تو بند نہ کرا سکا بلکہ اپنے تیل کے راستے بند کروا بیٹھا۔ چین اور روس ایران کے قریب ہو گئے اور نیٹو امریکہ سے دور ہو گیا۔

    2026 کا یہ تنازع صرف دو ملکوں کی جنگ نہیں بلکہ اس نے پورے خطے کی سیاست کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔ عرب ممالک اب ‘تیل کے بدلے سیکیورٹی’ کے پرانے امریکی معاہدے پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہنگامی رابطے شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان ایک اہم مرکز بن گیا ہے جو ترکی، مصر اور عرب ممالک کے ساتھ مل کر ‘نیٹو’ طرز کے ایک نئے اتحاد پر بات کر رہا ہے، جس میں چین کا مرکزی کردار ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق، امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے کچھ حساس علاقوں سے فوج نکالنے کے شیڈول پر راضی ہو گیا ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ اس پر سے تمام پابندیاں فوری ہٹائی جائیں، اسرائیل غزہ سے نکلے اور لبنان پر حملے بند کرے۔ اس معاہدے کے ضامن روس، چین اور پاکستان ہوں گے تاکہ امریکہ دوبارہ ‘نیوکلیئر ڈیل’ کی طرح مکر نہ جائے۔ یہ فریم ورک ثابت کرتا ہے کہ ایران اب صرف اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ وہ لبنان، یمن اور فلسطین کے وکیل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    عالمی اخبارات کے مطابق، ٹرمپ اب ‘امریکہ فرسٹ’ نہیں بلکہ ‘امریکہ الون’ (تنہا امریکہ) بن چکا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد بننے والی اقوام متحدہ اب عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اب ایک نئی دنیا جنم لے رہی ہے جہاں طاقت کے کئی مراکز (چین، روس، ایران، انڈیا) موجود ہیں۔ روس چاہتا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں اتنا پھنس جائے کہ وہ یورپ سے اپنا ہاتھ کھینچ لے۔ شمالی کوریا نے بھی ایران کی میزائل ٹیکنالوجی میں مدد کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات صرف انسانی ہمدردی کے لیے نہیں بلکہ دونوں فریقین کے لیے ایک ‘اسٹریٹجک ری سیٹ’ ہیں۔ ٹرمپ کو اندازہ ہو گیا ہے کہ ایران کی میزائل طاقت امریکی بحری بیڑوں کو ڈبونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایڈورڈ لوس لکھتے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکہ کو اپنے یورپی اتحادیوں سے اتنا دور کر دیا ہے کہ اب اسے ‘پاکستان کی ثالثی’ کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ اگر اسلام آباد مذاکرات ناکام ہوئے تو یہ جنگ پوری دنیا کی معیشت کو لپیٹ میں لے لے گی۔

    چیتھم ہاؤس اور دیگر ماہرین اسے ‘فیصلہ کن موڑ’ قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کار اینڈریو مٹروویکا کے مطابق، ایران نے نقصان تو اٹھایا ہے لیکن اس کا وجود برقرار رہنا ہی امریکہ اسرائیل اتحاد کی اسٹریٹجک شکست ہے۔ اسلام آباد اب دنیا کا وہ مرکز بن گیا ہے جہاں امریکہ اور ایران اپنے مستقبل کے فیصلے کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں بے چینی ہے، کانگریس نے مزید رقم دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اب اسلام آباد کے امن مذاکرات ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ جنگ ختم ہو گی یا ٹرمپ مزید کسی جارحیت کا انتخاب کریں گے۔ فی الحال دنیا ایک ‘خطرناک وقفے’ میں ہے جہاں صورتحال کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔