Tag: استولا جزیرہ

  •  استولا جزیرہ: محفوظ سمندری ورثہ یا نیا سیاحتی خواب؟

     استولا جزیرہ: محفوظ سمندری ورثہ یا نیا سیاحتی خواب؟

    بحیرہ عرب کے نیلگوں پانیوں میں بلوچستان کے خوبصورت ساحل سے کچھ فاصلے پر واقع استولا جزیرہ ایک ایسا قدرتی خزانہ ہے جو برسوں سے دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا، مگر اب اچانک قومی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے اس ویران مگر دلکش جزیرے کو ترقی اور تحفظ کے ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

    ایک طرف اسے مالدیپ جیسا عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے خواب دکھائے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف اس کے نایاب سمندری ماحول اور محفوظ حیثیت کو لاحق ممکنہ خطرات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اب یہ جزیرہ صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا امتحان بن چکا ہے جس میں یہ طے ہونا ہے کہ پاکستان اپنی قدرتی وراثت کو کس حد تک سنبھال سکتا ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک ٹوئرزم سرمایہ کاری سے متعلق کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو لوگ مالدیپ جیسے عالمی سیاحتی مقامات کوجانا بھول جائیں گے۔

    استولا جزیرہ کیوں اہم ہے؟

    استولا جزیرہ ضلع گوادر میں واقع ہے اور اس کا کل محفوظ رقبہ تقریباً 401.47 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک کور زون اور ایک بفر زون شامل ہے، جن کی حدود باقاعدہ جغرافیائی نقاط (coordinates) کے ذریعے متعین کی گئی ہیں۔

    استولا کو پاکستان کا سب سے بڑے آف شور جزیرے کے طور پر پہچانا جاتا ہے جو اپنی منفرد جغرافیائی ساخت، بلند چٹانوں اور صاف شفاف پانی کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں انسانی آبادی تو موجود نہیں مگر اس کے باوجود مقامی مچھیرے باقائدگی سے وہاں جاتے ہیں اور کچھ وقت گذار کر ڈیپ سی کی طرف مچھلی کا شکار کرنے جاتے ہیں۔ انسانی تعلق کم ہونے کے باعث اس جزیرے کا قدرتی ماحول بڑی حد تک محفوظ رہا ہے۔

    جنگلی ماحولیات کے ماہر معظم علی خان کہتے ہیں کہ گہرے سمندر میں واقع یہ جزیرہ مون سون کے موسم کے دوران  قابلِ رسائی نہیں ہوتا، اور ماہی گیر بھی وہاں نہیں جاتے۔

    مگر جزیرے کے آس پاس سمندری حیات کی وجہ سے اس کی بڑی اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 15 جون 2017 کو حکومت بلوچستان نے ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے اسے ’میرین پروٹیکٹڈ ایریا‘ قرار دیا تھا، جس کے بعد یہ پاکستان کا پہلا محفوظ سمندری علاقہ بن گیا۔ یہ اقدام بلوچستان وائلڈ لائف ایکٹ 2014 کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد سمندری حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور قدرتی ماحول کو نقصان سے بچانا ہے۔

    اس نوٹیفکیشن کے تحت استولا جزیرہ اور اس کے گرد و نواح کے تقریباً 400 مربع کلومیٹر سمندری علاقے کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد نایاب سمندری حیات، مرجان کی چٹانوں اور کچھوؤں کی افزائش کے مقامات کو بچانا تھا۔ یہاں سبز کچھوے اور دیگر نسلوں کے کچھوے انڈے دینے آتے ہیں، جبکہ مختلف اقسام کی مچھلیاں، پرندے اور دیگر سمندری جاندار بھی پائے جاتے ہیں۔ معظم خان کے مطابق یہ جزیرہ پاکستان کے چند ایسے مقامات میں شامل ہے جہاں قدرتی حیاتیاتی تنوع اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔

    محفوظ علاقہ قرار دیے جانے کے بعد یہاں کئی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ شکار، غیر قانونی ماہی گیری، زہریلے یا دھماکہ خیز مواد کے استعمال، اور بغیر اجازت تعمیرات جیسے اقدامات کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا۔ حتیٰ کہ سیاحتی سرگرمیوں جیسے اسکیوبا ڈائیونگ یا جیٹ اسکی بھی حکومتی اجازت سے مشروط کر دی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد اس نازک ماحولیاتی نظام کو ہر ممکن نقصان سے بچانا تھا۔

    ماہیگیر اور ماحولیاتی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

    پاکستان فشرفوک فورم کے جنرل سیکریٹری سعید بلوچ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ کا یہ بیان ماہی گیروں کے روزگار کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس جزیرے کو ٹوئرزم کے لیے بنانے سے بلوچستان میں ماہی گیری کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی۔‘ گوادر پورٹ بننے کے بعد مقامی ماہی گیروں کو اس علاقے میں مچھلی سے روکا جاتا ہے۔ جس طرح کراچی کے ساحل پر سی ویو اور ڈی ایچ اے بننے کے بعد گذری کے ماہی گیروں کا روزگار ختم ہوچکا ہے ، اسی طرح بلوچستان کے ماہی گیروں کا بھی اس جزیرے کو ٹوئرزم کے لیے بنانے سے استحصال ہوگا۔

    ماہرین ماحولیات بھی بلوچستا کے ساحل پر ٹوئرزم سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک طرف حکومت اس جزیرے کو عالمی معیار کے سیاحتی مقام میں تبدیل کر کے معیشت کو فروغ دینا چاہتی ہے، تو دوسری جانب ماہرین ماحولیات اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی بھی ترقیاتی منصوبے سے پہلے اس کے ماحولیاتی اثرات کو سنجیدگی سے جانچا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ استولا جزیرہ ایک حساس ماحولیاتی نظام رکھتا ہے، جہاں معمولی انسانی مداخلت بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

    محسن نقوی نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں جزیرے کی ماحولیات کو برقرار رکھتے ہوئے سیاحت کو فروغ دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر جدید سہولیات، جیسے فیری سروس، محدود اور ماحول دوست ریزورٹس، اور بنیادی انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے تو یہ جزیرہ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی ایک پرکشش مقام بن سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فی الحال محدود پیمانے پر ایکو ٹورزم سرگرمیاں جیسے اسنارکلنگ اور کیمپنگ پہلے ہی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔ مستقبل میں لگژری ریزورٹس بھی بنائے جائیں گے، لیکن جزیرے کے قدرتی حسن کو برقرار رکھا جائے گا۔

    حکومت کے خیال میں اگر اس منصوبے کو احتیاط اور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ بلوچستان کی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، مقامی کاروبار کو فروغ ملے گا اور پاکستان کی سیاحتی صنعت کو نئی شناخت مل سکتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ سخت نگرانی، واضح قوانین اور مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہوگا تاکہ جزیرے کی اصل خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کو نقصان نہ پہنچے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں کئی محفوظ علاقوں کو مناسب نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس لیے استولا جزیرہ کے معاملے میں صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک جامع مینجمنٹ پلان پر عملدرآمد یقینی بنائے، جس میں ماحولیاتی ماہرین، مقامی کمیونٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو شامل کیا جائے۔