تھر کے کنارے واقع قصبہ ڈھورنارو۔ ریت، ہوا اور سادہ زندگی۔ اسی ماحول میں ایک ایسا استاد پروان چڑھا جس نے چاک کو اپنا کیمرہ اور بلیک بورڈ کو اپنا کینوس بنا لیا۔
کشور کمار کھتری بچپن سے تصویریں بناتے تھے۔ جو چیز پسند آتی، اسے کاغذ پر اتار دیتے۔ گھر میں تعلیم کا ماحول تھا۔ والد ڈاکٹر تھے۔ والدہ گھریلو ذمہ داریاں سنبھالتی تھیں۔ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کا فائدہ انہیں یہ ملا کہ گھر والوں نے ان کی فنکارانہ دلچسپی کو روکا نہیں۔
چھٹی جماعت میں ایک استاد نے ان کی صلاحیت پہچانی۔ ہوم ورک میں سیب بنانے کو کہا جاتا تو وہ پوری ٹوکری بنا دیتے۔ وہی لمحہ تھا جب انہیں احساس ہوا کہ یہ شوق محض مشغلہ نہیں۔
مگر وسائل محدود تھے۔ اسکول اور کالج میں باقاعدہ آرٹ کلاسز نہیں تھیں۔ پینٹ اور پیسٹل مہنگے تھے۔ یوں ان کا فن بلیک بورڈ تک محدود ہو گیا۔ چاک ان کا ذریعہ بنا۔
انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری لینے کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایجوکیشن میں بیچلرز کیا۔ اس دوران بڑے بھائی کے فوٹو اسٹوڈیو میں بھی کام کیا۔ تصویر اور روشنی سے رشتہ برقرار رہا۔
ایک نجی اسکول میں آرٹ ٹیچر کی نوکری ملی۔ تنخواہ معمولی تھی۔ مگر وائٹ بورڈ پر مارکر سے بنائے گئے خاکے بچوں کو پسند آنے لگے۔ وہ پہلے تصویر بناتے، پھر سبق سمجھاتے، پھر بچوں سے مشق کرواتے۔ انہیں شاید معلوم بھی نہیں تھا کہ وہ جدید تدریسی ماڈل پر کام کر رہے ہیں جسے دنیا میں ویژول لرننگ کہا جاتا ہے۔
جلد ہی انہوں نے سائنس پڑھانا شروع کیا۔ انسانی جسم، نظام ہاضمہ، پودوں کی ساخت۔ سب کچھ چاک سے بننے لگا۔ بچے دیکھتے، سمجھتے، سوال کرتے۔ کلاس روم خاموش نہیں رہتا تھا۔
2022 میں وہ ایک سرکاری پرائمری اسکول، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول مانو ملہی، میں تعینات ہوئے۔ اب بھی وہ چاک سے بڑی بڑی تصویریں بناتے ہیں۔ انگریزی کے تصورات بھی خاکوں کے ذریعے سمجھاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں چاک سے کام کرنا آسان دکھائی دیتا ہے مگر ہوتا نہیں۔ پاؤڈر اڑتا ہے۔ الرجی ہو سکتی ہے۔ جگہ کم پڑ جاتی ہے۔ پھر بھی وہ روز 15 سے 20 منٹ پیدل چل کر اسکول پہنچتے ہیں۔ ان کے پاس ذاتی سواری نہیں۔
ان کی خواہش ہے کہ اسکول کی وہ دیواریں دوبارہ تعمیر ہوں جو سیلاب میں متاثر ہوئیں۔ دیواریں کمزور اور نم ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بچوں کے فن پارے دیواروں پر لگیں تاکہ ہر آنے والا دیکھ سکے کہ یہاں صرف نصاب نہیں، تخلیق بھی ہے۔
چند ماہ پہلے ان کی کلاس کے خاکوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ صوبائی وزیر تعلیم کی نظر میں آئیں۔ بعد میں پنجاب کے وزیر تعلیم نے بھی انہیں مدعو کیا۔ مختلف افسران سے ملاقات ہوئی۔ تدریسی طریقوں پر گفتگو ہوئی۔
کشور کمار کہتے ہیں طلبہ کو کتاب اور پینسل کے ساتھ اچھے استاد بھی چاہیے۔ بصری تعلیم بچوں کی تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ بڑھاتی ہے۔ سائنسی تحقیق بھی یہی کہتی ہے۔
عمرکوٹ کے ایک چھوٹے سے اسکول میں کھڑا یہ استاد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم صرف عمارت یا نصاب کا نام نہیں۔ یہ طریقہ ہے۔ جذبہ ہے۔ اور وہ ہاتھ ہے جو چاک سے ایک لکیر کھینچ کر بچے کے ذہن میں روشنی جلا دے۔

