Tag: اساتذہ

  • سندھ میں اساتذہ کے لیے تدریسی لائسنس: تعلیم کو باقاعدہ پیشہ بنانے کی جانب اہم قدم

    سندھ میں اساتذہ کے لیے تدریسی لائسنس: تعلیم کو باقاعدہ پیشہ بنانے کی جانب اہم قدم

    سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے اساتذہ کے لیے باقاعدہ تدریسی لائسنس کا نظام متعارف کرایا۔ سندھ حکومت نے تدریسی لائسنس پالیسی 2023 کی منظوری دی، جبکہ محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی نے 15 جون 2023 کو اس پالیسی کا باقاعدہ نفاذ کیا۔

    اس اقدام کا بنیادی مقصد تدریس کو ایک باقاعدہ پیشہ ورانہ شعبے کے طور پر مضبوط بنانا ہے، تاکہ استاد بننے والے افراد کی اہلیت کا اندازہ صرف تعلیمی ڈگری کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ ان کے مضمون کے علم، تدریسی صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کو بھی جانچا جائے۔

    تدریسی لائسنس کی پالیسی تیار کرنے کے لیے ماہرین تعلیم، جامعات، اسکول انتظامیہ، اساتذہ، طلبہ، والدین اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی گئی۔ آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ جون 2022 میں تدریسی لائسنس کے حوالے سے ایک وائٹ پیپر بھی سامنے آیا۔

    اس نظام کی نگرانی سندھ ٹیچر ایجوکیشن اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کرتی ہے۔ یہی ادارہ تدریسی لائسنس کے امتحان، امیدواروں، نتائج، لائسنس کے اجرا اور تجدید سمیت دیگر معاملات کی نگرانی کرتا ہے۔

    سرکاری اساتذہ کے لیے لائسنس کے حصول کی خاطر تجربے کی شرائط بھی مقرر کی گئی ہیں۔ پرائمری لائسنس کے لیے متعلقہ تعلیمی قابلیت کے ساتھ کم از کم دو سال کا تجربہ ضروری ہے، جبکہ ایلیمنٹری اور سیکنڈری لائسنس کے لیے کم از کم تین سال کا تجربہ درکار ہے۔

    یہ لائسنس مستقل نہیں ہوگا بلکہ پانچ سال کے لیے جاری کیا جائے گا۔ لائسنس کی تجدید کے لیے استاد کو منظور شدہ مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کے کم از کم پانچ کریڈٹ آورز مکمل کرنا ہوں گے اور مقررہ تجدید فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔

    تدریسی لائسنس کا امتحان صرف کتابی معلومات جانچنے تک محدود نہیں رکھا گیا۔ اس میں مضمون کے علم کے ساتھ استاد کی تدریسی مہارت کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ پالیسی میں مستقبل کے مراحل میں کلاس روم مشاہدے، تدریسی پورٹ فولیو اور عملی تدریسی جائزے جیسے طریقوں کو شامل کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

    سندھ میں پہلا تدریسی لائسنس امتحان 28 جنوری 2024 کو منعقد ہوا۔ سرکاری معلومات کے مطابق اس پہلے امتحان میں 201 پری سروس اور 445 اِن سروس امیدوار کامیاب ہوئے، یعنی مجموعی طور پر 646 امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا۔

    پالیسی میں پیشہ ورانہ بدعنوانی یا سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں تدریسی لائسنس منسوخ کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ تاہم ایسے فیصلے کے خلاف متعلقہ استاد کو اپیل کا حق حاصل ہوگا۔

    اس نظام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں استاد کی پیشہ ورانہ شناخت کو محض تعلیمی ڈگری سے آگے لے جانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک امیدوار کے لیے صرف اپنے مضمون پر عبور رکھنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے علم کو طلبہ تک مؤثر انداز میں منتقل کرنے کی تدریسی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پاکستان میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ لائسنسنگ کا تصور پہلے بھی زیر بحث آتا رہا ہے، تاہم سندھ وہ پہلا صوبہ بنا جس نے باقاعدہ پالیسی منظور کرنے کے بعد تدریسی لائسنس کا امتحان منعقد کیا اور کامیاب امیدواروں کو لائسنس جاری کیے۔

    وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ کے مطابق جس طرح ڈاکٹر اور انجنیئرز کے لیے لائسنس ضروری ہوتا ہے، اسی طرح تدریس بھی ایک پیشہ ورانہ شعبہ ہے اور اس شعبے سے وابستہ افراد کے لیے تدریسی لائسنس کا حصول انتہائی ضروری ہے۔

  • سندھ میں خواتین اساتذہ کی بھرتیوں کا معاملہ: پالیسی اور میرٹ میں عدم توازن پر سوالات

    سندھ میں خواتین اساتذہ کی بھرتیوں کا معاملہ: پالیسی اور میرٹ میں عدم توازن پر سوالات

    صوبہ سندھ میں ابتدائی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بی پی ایس 15 میں ارلی چائلڈہڈ ٹیچر (ای سی ٹی) کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے، تاہم اس عمل میں پالیسی اور میرٹ کے درمیان عدم توازن پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، خصوصاً خواتین امیدواروں کے حوالے سے صورتحال تشویش کا باعث بن گئی ہے۔

    تعلیمی ماہرین کے مطابق ای سی ٹی کا شعبہ بچوں کی بنیادی تعلیم اور ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر اس وقت بھی 600 سے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں، جو انتظامی کمزوری اور تعلیمی نظام کی عملی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری جانب بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ خواتین امیدوار محض چند نمبروں کی کمی کے باعث میرٹ لسٹ میں شامل نہیں ہو سکیں۔

    ذرائع کے مطابق متعدد خواتین امیدواروں نے آئی بی اے سکھر کے زیر اہتمام ہونے والے امتحان میں شرکت کی اور بی ایڈ و ایم ایڈ جیسی پیشہ ورانہ ڈگریاں بھی رکھتی ہیں، تاہم ایک یا دو نمبروں کے فرق نے ان کے لیے ملازمت کے دروازے بند کر دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال پالیسی میں سختی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں معمولی فرق بھی فیصلہ کن ثابت ہو رہا ہے۔

    دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں، ایسے میں اس طرح کی صورتحال نہ صرف انفرادی سطح پر ناانصافی ہے بلکہ مجموعی طور پر خواتین کی شمولیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔

    یاد رہے کہ ماضی میں سندھ حکومت مختلف بھرتیوں میں پالیسی میں نرمی کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ 2021 کی پی ایس ٹی بھرتیوں میں پاسنگ مارکس 55 سے کم کر کے 40 کیے گئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 90 ہزار امیدواروں کو ملازمتیں دی گئیں، جبکہ ہارڈ ایریاز میں 33 نمبر حاصل کرنے والوں کو بھی کامیاب قرار دیا گیا۔ اسی طرح جے ای ایس ٹی اور 2018 کی ای سی ٹی بھرتیوں میں بھی کم نمبروں پر امیدواروں کو موقع دیا گیا۔

    سرکاری پالیسی کے مطابق 17 مئی 2022 کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے 40 فیصد نمبر مقرر کیے گئے تھے، جبکہ 19 مارچ 2021 کے نوٹیفکیشن کے تحت تھرپارکر، ٹھٹھہ، سجاول، کشمور، کندھ کوٹ اور دادو کو ہارڈ ایریاز قرار دیا گیا، جہاں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق خواتین ای سی ٹی کے لیے 1188 نشستیں مختص کی گئیں، تاہم صرف 585 امیدوار کامیاب ہو سکیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں اسامیاں خالی رہ گئیں۔ تھرپارکر سمیت کئی علاقوں میں کامیابی کی شرح انتہائی کم رہی، جو موجودہ پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

    جب خالی نشستیں موجود ہوں اور اہل امیدوار دستیاب ہوں تو مختلف بھرتیوں میں مختلف معیار کا اطلاق شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر ماضی میں کم نمبروں پر بھرتیاں کی جا سکتی ہیں تو 50 سے زائد نمبر حاصل کرنے والی خواتین کو نظر انداز کرنے کی کوئی واضح وجہ نہیں بنتی۔

    سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اگر ای سی ٹی بھرتیوں میں پاسنگ مارکس 55 کے بجائے 50 یا 40 کیے جائیں تو نہ صرف خالی نشستیں پُر ہو سکتی ہیں بلکہ اہل خواتین کو بھی مواقع مل سکتے ہیں۔

    خاص طور پر ہارڈ ایریاز میں متعدد خواتین امیدواروں نے مشکلات کے باوجود 50 سے 54 نمبر حاصل کیے، مگر وہ میرٹ سے باہر رہ گئیں۔ ماہرین کے مطابق انہیں موقع دینا نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگا بلکہ تعلیمی نظام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

    خواتین امیدواروں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ای سی ٹی بھرتیوں کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور خواتین کے لیے پاسنگ مارکس میں نرمی لائی جائے۔ اقلیتی خواتین کے لیے 5 فیصد کوٹے کے تحت 40 سے زائد نمبر پر رعایت دینے یا کم از کم 50 نمبر مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، تاکہ خالی اسامیاں جلد پُر ہو سکیں اور تعلیمی نظام مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔