Tag: اریجیت سنگھ

  • 15 سالوں تک نوجوانوں کی دلوں پر راج کرنے والے معروف گلوکار اریجیت سنگھ نے رٹائرمنٹ کا اعلان کیوں کیا؟

    15 سالوں تک نوجوانوں کی دلوں پر راج کرنے والے معروف گلوکار اریجیت سنگھ نے رٹائرمنٹ کا اعلان کیوں کیا؟

    منوا لاگے، میں رنگ شربتوں کا، وے کملیا اور دیگر مقبول گانوں سے شہرت حاصل کرنے والے انڈیا کے معروف گلوکار اریجیت سنگھ نے 38 برس کی عمر میں پلے بیک سنگنگ سے کنارہ کشی کا اعلان کر کے موسیقی کے حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔

    اریجیت سنگھ نے کہا کہ وہ اب فلمی موسیقی کے دباؤ اور تجارتی تقاضوں سے ہٹ کر ذاتی تخلیقی سفر پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اچانک نہیں بلکہ ایک طویل غور و فکر کا نتیجہ ہے۔

    اریجیت سنگھ نے گلوکاری سے ریٹائرمنٹ  کا اعلان اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ سے پوسٹ کرکے کیا۔ انہوں نے لکھا: ‘ہیلو، سب کو نیا سال مبارک۔ میں اپنے تمام سننے والوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ان تمام برسوں میں مجھے بے حد محبت دی۔

    ‘مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اب میں بطور پلے بیک گلوکار کوئی نئی اسائنمنٹس قبول نہیں کروں گا۔ میں اس سفر کو یہیں ختم کر رہا ہوں۔ یہ ایک خوبصورت اور یادگار سفر تھا۔’

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وہ اپنے کیریئر کے عروج پر تھے اور ان کے گانے ہر دل میں جگہ بنا چکے تھے۔ ان کی آواز کو محبت، درد اور سچائی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اسی لیے مداحوں کے لیے یہ خبر افسوس کا باعث بنی۔

    اریجیت سنگھ نے فلمی دنیا میں اپنی محنت، سادگی اور لگن سے ایک خاص مقام حاصل کیا۔ ان کے گانے صرف سننے کے لیے نہیں بلکہ محسوس کرنے کے لیے ہوتے تھے۔ ان کے اس فیصلے نے یہ ثابت کیا کہ بعض اوقات انسان شہرت کے عروج پر بھی خاموشی کو ترجیح دیتا ہے۔ اگرچہ وہ پلے بیک سنگنگ چھوڑ رہے ہیں، مگر ان کی آواز ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔

    موسیقی کے ناقدین کے مطابق ان کا یہ فیصلہ فلمی موسیقی کے موجودہ ڈھانچے اور گلوکاروں پر بڑھتے دباؤ کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اریجیت سنگھ کے مداحوں میں اس اعلان کے بعد حیرت اور اداسی دونوں کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے، تاہم ان کے مستقبل کے منصوبوں پر دلچسپی برقرار ہے۔

    اریجیت سنگھکون ہیں؟

    اریجیت سنگھ انڈیا کے معروف پلے بیک گلوکار اور موسیقار ہیں، جو اپنی نرم، جذباتی اور سادہ گائیکی کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ وہ 25 اپریل 1987 کو مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد کے علاقے جیگانج میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک موسیقی دوست گھرانے سے ہے، والد کلاسیکل موسیقی سے وابستہ رہے جبکہ والدہ بھی گلوکاری اور طبلہ نوازی جانتی تھیں۔

    اریجیت سنگھ نے باقاعدہ موسیقی کی تربیت کم عمری میں شروع کی۔ انہوں نے انڈین کلاسیکل موسیقی، طبلہ اور رباب کی تعلیم حاصل کی۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ابتدا میں موسیقار بننا چاہتے تھے اور گلوکاری ان کے لیے ایک قدرتی توسیع ثابت ہوئی۔

    ان کا عملی سفر 2005 میں ایک ٹی وی ریئلٹی شو سے شروع ہوا، جہاں وہ کامیاب تو نہ بن سکے لیکن موسیقی کے شعبے میں پہچان حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ چند برس جدوجہد کے بعد انہیں فلمی دنیا میں موقع ملا۔2011 میں مرڈر ٹو فلم میں ‘پھر محبت’ گانے سے انہیں شہرت ملی اور اور 2013 میں ایک رومانوی گیت کے ذریعے وہ اچانک شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔

    اس کے بعد اریجیت سنگھ نے فلمی موسیقی میں مسلسل کام کیا اور رومانوی، اداس اور روحانی نوعیت کے گیتوں میں اپنی الگ شناخت بنائی۔ ان کی آواز کو نئی نسل کے جذبات کی نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ مختلف انڈین زبانوں میں گانے گانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جن میں ہندی، بنگالی، تمل اور تیلگو شامل ہیں۔

    اریجیت سنگھ کو متعدد قومی اور فلمی اعزازات ملے۔ وہ کئی برس تک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سب سے زیادہ سنے جانے والے انڈین گلوکاروں میں شامل رہے۔ موسیقی کے ناقدین کے مطابق ان کی کامیابی کی بڑی وجہ آواز کے ساتھ سادگی اور شہرت سے دوری ہے۔

    ذاتی زندگی میں اریجیت سنگھ کم گو اور نجی نوعیت کے انسان سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اپنی خاندانی زندگی اور عوامی نمائش سے گریز کو ترجیح دیتے ہیں۔ شادی شدہ ہیں اور بچوں کے ساتھ سادہ طرزِ زندگی گزارتے ہیں۔

    حالیہ برسوں میں اریجیت سنگھ نے اعلان کیا کہ وہ فلمی پلے بیک سنگنگ کے لیے نئی اسائنمنٹس محدود یا بند کر رہے ہیں اور اب لائیو کنسرٹس، آزاد موسیقی اور ذاتی تخلیقی منصوبوں پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ موسیقی کے حلقوں میں اس فیصلے کو ایک بڑے دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    اریجیت سنگھ کو انڈیا کی جدید موسیقی کا وہ چہرہ مانا جاتا ہے جس نے کم نمائش اور زیادہ احساس کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔