Tag: آیت اللہ علی خامنہ

  • ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟  اور وہ امریکہ اور اسرائیل کے ہدف پر کیوں تھے؟

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟ اور وہ امریکہ اور اسرائیل کے ہدف پر کیوں تھے؟

    ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں۔

    امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کی صبح کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے وابسطہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کو آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا ہے۔

    ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

    ایران نے اسرائیل اور مختلف خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی طرف میزائل داغے ہیں۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق سات میزائل صدارتی محل کے قریب علاقے میں گرے، جو شمالی تہران کے علاقے شمران میں واقع ہے

    جبکہ میزائل حملے خامنہ ای کے رہائشی اور دفتری کمپاؤنڈ کے قریب بھی کیے گئے۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ حملوں کا ہدف تہران میں واقع آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب کے علاقے تھے۔

    86سالہ مذہبی رہنما اور اسلامی اسکالر علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ انہوں نے یہ عہدہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی، رہنما روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد سنبھالا تھا۔

    آیت اللہ خمینی 1979 کے ایرانی انقلاب کے دوران جلاوطنی سے واپس آئے تھے اور انہوں نے امریکہ کے اتحادی بادشاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

    سپریم لیڈر کی حیثیت سے علی خامنہ ای کو ایران میں ریاست کے تمام اداروں پر حتمی اختیار حاصل ہے۔

    جن میں حکومت کی تمام برانچز اور ادارے، مسلح افواج اور عدلیہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ملک کے روحانی پیشوا کے طور پر بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور ایران کے سیاسی و مذہبی نظام میں سب سے بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

    سپریم لیڈر کی حیثیت سے علی خامنہ ای ایران کی مسلح افواج، خارجہ پالیسی اور ریاستی اداروں پر حتمی اختیار رکھتے ہیں ۔

    جس کی وجہ سے وہ ملک کی طاقتور ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اور حساس ہدف تصور کیے جا رہے ہیں۔

    آیت اللہ علی خامنہ ای کہاں تھے؟

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے موجودہ مقام کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خامنہ ای اس وقت دارالحکومت تہران میں موجود نہیں اور انہیں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    خبررساں ادارے رائٹر کی رپورٹ کہتی ہے امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر حملے کر کے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے تنازع میں دھکیل دیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد امریکہ کو درپیش سیکیورٹی خطرے کا خاتمہ کرنا اور ایرانی عوام کو اپنی قیادت کے خلاف کھڑے ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    خبر کے مطابق ان حملوں کے بعد خلیجی عرب ممالک، جو تیل پیدا کرنے والے اہم ممالک ہیں، شدید تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں کیونکہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان دونوں کو نشانہ بنایا گیا

    تاہم ان حملوں کے نتائج فوری طور پر واضح نہیں ہو سکے۔

    رائٹر نے ایک زریعے کے حوالے سے اپنی خبرمیں کہا ہے کہ خامنہ ای اس وقت دارالحکومت تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے کئی سینئر کمانڈرز اور سیاسی عہدیدار حملوں میں شہید ہو گئے ہیں