احمد المعروف آمن وکیو درد کی ایسی داستان ہے جس کے دکھ اس کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی زندگی کا حصہ بن گئے تھے۔ آمن وکیو کی پیدائش آج سے کئی دہائیاں پہلے سندھ کے صحراوی علاقے ڈیپلو کے قریب گاؤں جڑہیار میں ہوئی۔ اس دور میں تعلیم اور ریکارڈ کا کوئی منظم نظام موجود نہیں تھا، اسی لیے وہ اپنی پیدائش کی درست تاریخ نہیں جانتے۔
آمن وکیو بتاتے ہیں کہ بچپن میں سندھ میں چیچک کی بیماری پھیلی ہوئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اس موذی مرض نے ہزاروں جانیں لیں اور بے شمار لوگوں کو عمر بھر کی معذوری دے دی۔ آمن وکیو اس وقت آٹھ برس کے تھے۔ بیماری نے ان کی آنکھوں کی بینائی ہمیشہ کے لیے چھین لی۔
Saga Digital سے گفتگو کرتے ہوئے آمن وکیو نے بتایا کہ غربت کے باعث والدین روزگار کے لیے بیراج کے علاقوں میں گئے ہوئے تھے۔ وہ خود بھی ڈگری کے قریب ٹی لکھي موری کے ایک کارخانے میں کام کر رہے تھے، جہاں چیچک کی بیماری نے انہیں آ لیا۔ علاج کی سہولتیں محدود تھیں۔ انہیں ڈگری اور میرپورخاص کے ہسپتالوں میں لے جایا گیا، مگر ڈاکٹروں نے صاف بتا دیا کہ چیچک سے متاثر آنکھوں کا علاج ان کے پاس موجود نہیں۔
بینائی سے محرومی کے بعد زندگی نے نیا رخ لیا۔ پندرہ برس کی عمر میں انہیں وڑھیجپ کے استاد ہوت درس ملے، جنہوں نے انہیں بین یعنی بانسری کی باقاعدہ تربیت دی۔ سر اور تال کی باریکیوں کو سمجھایا اور آٹھ بنیادی راگ سکھائے۔ انہی کی رہنمائی میں آمن وکیو اپنے علاقے کے معروف بین نواز بن گئے۔
وقت کے ساتھ جسم نے ساتھ چھوڑنا شروع کیا۔ دانت گر گئے، سماعت کمزور ہو گئی، مگر بین کے سُر آج بھی ان کے ہاتھوں میں زندہ ہیں۔ وہ آج بھی تلنگ، جوگ، درگا، پہاڑی، ملھاری، راڻو اور مانجھ جیسے راگ بجا کر محفل کو ساکت کر دیتے ہیں۔
آمن وکیو آج بھی کچی جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ وہ قریبی دیہات میں شادی بیاہ کی تقریبات میں بین بجاتے ہیں اور اسی فن کو روزگار کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک عام مزدور سے بہتر کما لیتے ہیں، مگر یہ آمدن مستقل نہیں۔
ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے آمن وکیو نے کہا:موبائل فون اور جدید تفریحی ذرائع کے عام ہونے سے اب لوگ اس فن میں دلچسپی نہیں رکھتے۔’ ان کے بقول، پہلے شادیوں میں بین بجانے پر عزت بھی ملتی تھی، آج بس چند سکے تھما دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ والدین نے ان کا نام احمد رکھا تھا، مگر وقت کے ساتھ وہ آمن کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ ریڈیو مٹھی پر بھی انہوں نے آمن کے نام سے ہی خود کو متعارف کرایا۔ ایک زمانے میں حیدرآباد میں ان کا انٹرویو بھی ہوا، مگر نابینائی اور مسلسل سفر کی مجبوری کے باعث انہوں نے ریڈیو فنکار بننے کی پیشکش قبول نہیں کی۔
آمن وکیو کی زندگی سندھ کے ان فنکاروں کی نمائندگی کرتی ہے جو بیماری، غربت اور لاپروائی کے باوجود اپنے فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی بین کے سُر صرف موسیقی نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی گواہی ہیں جہاں فن تو زندہ ہے، مگر فنکار اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔

