Tag: آغا خان

  • زاویہ: جھرک، آغا خان اول کے محل سے قائداعظم سے منسوب ‘جائے پیدائش’ تک ایک بھولی ہوئی تاریخ

    زاویہ: جھرک، آغا خان اول کے محل سے قائداعظم سے منسوب ‘جائے پیدائش’ تک ایک بھولی ہوئی تاریخ

    جھرک کو دیکھنے کا تجسس مجھے کئی برسوں سے تھا۔ اس تجسس کی ایک بڑی وجہ اس شہر میں موجود آغا خان اول کا تاریخی محل تھا، جبکہ دوسری وجہ وہ سبق تھا جو ہم نے پرائمری اسکول کے زمانے میں سندھی نصاب کی کتابوں میں پڑھا تھا۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی اور جدوجہد کے بارے میں پڑھاتے ہوئے ہمیں بتایا جاتا تھا کہ محمد علی جناح سندھ کے قدیم شہر جھرک میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی یہیں سے حاصل کی۔

    شاید یہی وجہ تھی کہ جھرک میرے لیے محض ایک تاریخی شہر نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ تھی جس کے ساتھ ہماری تاریخ، نصاب اور یادداشت جڑی ہوئی تھی۔ جب ہم شہر کی طرف جانے لگے تو دور سے ہی پرانی سرکاری عمارات اور مختلف کھنڈرات نظر آنے لگے۔ کتابوں میں جس تاریخی جھرک کا تصور ذہن میں بنا تھا، موجودہ شہر اس تصویر سے خاصا مختلف دکھائی دے رہا تھا۔

    آخرکار ہم آغا خان اول کے تاریخی محل تک پہنچے۔ محل کی دیکھ بھال کرنے والے چوکیدار نے ہمیں اندر کا حصہ دکھایا۔ عمارت آج بھی اپنی اصل ساخت کے کئی پہلو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ مٹی اور لکڑی سے تعمیر شدہ یہ عمارت مقامی طرز تعمیر کی جھلک پیش کرتی ہے۔ اندر ایک بڑا صحن، مختلف کمرے، چھوٹے ہال، آنگن اور ایک پرانا درخت موجود ہے۔ گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے ہوا کے گزر کے انتظامات اس دور کی تعمیراتی سمجھ بوجھ کا بھی پتا دیتے ہیں۔

    یہ عمارت دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جھرک کبھی محض ایک عام قصبہ نہیں تھا بلکہ یہاں زندگی، تجارت اور ثقافت کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔

    اسی دوران جھرک کے مقامی تاریخ نویس مشتاق ملاح سے ایک طویل نشست ہوئی۔ وہ قائداعظم یادگار کمیٹی سے بھی وابستہ ہیں۔ گفتگو میں کئی مقامی لوگ بھی شامل ہوگئے اور بات جھرک کی تاریخ سے ہوتی ہوئی قائداعظم سے منسوب مکان تک جا پہنچی۔

    ہم نے قائداعظم کے گھر کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ آغا خان اول کے محل سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ ہم جب اس جگہ پہنچے تو وہ تاریخی مکان اپنی اصل حالت میں موجود نہیں تھا۔ وقت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اس جگہ ایک نئی عمارت تعمیر ہوچکی ہے، جہاں ایک اسکول قائم ہے۔

    میں کچھ دیر وہیں کھڑا سوچتا رہا کہ جس شہر کا شمار کبھی اہم تاریخی اور تجارتی مراکز میں ہوتا تھا، جس کی گلیوں میں کبھی تجارت، تعلیم اور انتظامی سرگرمیاں عروج پر تھیں، اس شہر کے تاریخی ورثے کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا ہے؟

    ایک زمانے کا خوشحال تجارتی مرکز

    جھرک ضلع ٹھٹھہ میں دریائے سندھ کے قریب واقع ایک قدیم شہر ہے۔ دریائے سندھ سے قربت نے اسے تاریخی طور پر اہم تجارتی اور دریائی بندرگاہی مرکز بنایا۔ برطانوی دور میں جھرک دریائی تجارت اور آمدورفت کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا اور انڈس فلوٹیلا سے بھی اس کا گہرا تعلق رہا۔

    مقامی روایات اور تاریخی حوالوں کے مطابق جھرک کی آبادی مختلف برادریوں پر مشتمل تھی۔ دریائے سندھ سے وابستہ ماہی گیری یہاں کے لوگوں کے روزگار کا ایک اہم ذریعہ رہی، جبکہ مچھلی کی تجارت بھی شہر کی معاشی سرگرمیوں کا حصہ تھی۔

    تاریخی حوالوں میں جھرک کے بازار کا بھی ذکر ملتا ہے، جہاں تقریباً 200 دکانیں موجود تھیں۔ شہر کی تجارتی اہمیت کے ساتھ ساتھ اسے انتظامی اور فوجی اعتبار سے بھی اہم مقام حاصل تھا۔

    جھرک کی انتظامی اہمیت

    سندھ پر برطانوی اقتدار قائم ہونے کے بعد جھرک کی تجارتی اہمیت کے ساتھ اس کی انتظامی حیثیت بھی بڑھی۔ تاریخی حوالوں میں جھرک کے میونسپل انتظام، کراچی کلیکٹوریٹ سے اس کے تعلق اور برطانوی انتظامی و فوجی سرگرمیوں کا ذکر ملتا ہے۔

    جھرک میں مختلف سرکاری اور انتظامی سہولتیں قائم تھیں، جبکہ شہر کی فوجی اہمیت بھی برقرار رہی۔ آج ان میں سے بعض تاریخی عمارتوں اور ڈھانچوں کے آثار جھرک کے ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔

    آغا خان اول اور جھرک

    برطانوی دور میں آغا حسن علی شاہ، یعنی آغا خان اول، 1843 میں جھرک پہنچے اور یہاں قیام کیا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق سر چارلس نیپیئر نے انہیں جھرک میں رہنے اور برطانوی مفادات کے تحفظ میں کردار ادا کرنے کی ذمہ داری دی تھی۔

    آغا خان اول سے منسوب تاریخی محل آج بھی جھرک کے ماضی کی اہم علامت ہے۔ عمارت پر 1843 کی تاریخ درج ہے اور اس کی تعمیر میں مقامی تعمیراتی طریقوں اور مواد کے استعمال کے آثار نمایاں ہیں۔ محل کے صحن، لکڑی کے کام اور ہوا کے گزر کے انتظامات اس دور کے طرز تعمیر کی جھلک پیش کرتے ہیں۔

    آغا خان اول کی جھرک میں موجودگی کے باعث یہ شہر اسماعیلی برادری کے لیے بھی اہم مرکز بن گیا۔ تاریخی حوالوں میں سندھ، کَچھ، کاٹھیاواڑ، گجرات اور دیگر علاقوں سے ان کے پیروکاروں کے جھرک آنے کا ذکر ملتا ہے۔

    قائداعظم اور جھرک کا تعلق

    جھرک کی تاریخ کا سب سے اہم اور حساس پہلو قائداعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش کا سوال ہے۔

    مقامی تاریخ نویسوں اور بعض تاریخی حوالوں کے مطابق قائداعظم کا خاندان جھرک سے گہرا تعلق رکھتا تھا اور یہ روایت بھی موجود ہے کہ قائداعظم کی پیدائش اسی شہر میں ہوئی۔ بعض پرانے سندھی نصابی مواد میں بھی جھرک کو قائداعظم کی جائے پیدائش کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ تاہم اس دعوے کی قطعی دستاویزی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    قائداعظم کی جھرک میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کی روایت بھی اسی تاریخی بحث کا حصہ ہے۔ جھرک میں 1870 میں قائم ہونے والے ایک اسکول کا ذکر ملتا ہے، تاہم اس اسکول کا تاریخی رجسٹر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے قائداعظم کے وہاں زیر تعلیم رہنے کی حتمی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    اسی لیے جھرک میں قائداعظم کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم کے دعوے کو تاریخی حقیقت کے بجائے ایک متنازع تاریخی روایت کے طور پر دیکھنا زیادہ محتاط طرز عمل ہے۔ دوسری جانب کراچی کا وزیر مینشن سرکاری طور پر قائداعظم کی جائے پیدائش کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

    قائداعظم کے خاندان کا جھرک سے تعلق بھی تاریخی بحث کا موضوع رہا ہے۔ مقامی روایات میں خاندان کے جھرک آنے اور یہاں قیام کرنے کے مختلف دعوے ملتے ہیں، لیکن خاندان کے ہر فرد کی جھرک آمد، قیام اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات کی یکساں اور قطعی دستاویزی تصدیق موجود نہیں۔

    اسی لیے اس معاملے کو جذبات یا قیاس کی بنیاد پر نہیں بلکہ دستیاب تاریخی دستاویزات، سرکاری ریکارڈ اور مستند تحقیقی مواد کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    جھرک کے قدیم آثار

    جھرک اور اس کے آس پاس کا علاقہ صرف برطانوی دور کی تاریخ تک محدود نہیں۔ یہاں قدیم مذہبی اور آثار قدیمہ کے مقامات کے حوالے بھی ملتے ہیں، جو اس خطے کی پرانی تہذیبی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

    شہر کی جغرافیائی حیثیت نے بھی اس کی تاریخی اہمیت میں کردار ادا کیا۔ دریائے سندھ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے جھرک طویل عرصے تک دریائی آمدورفت، تجارت اور مقامی آبادیوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم مقام رہا۔

    جھرک: ایک شہر جو اپنا ماضی مانگ رہا ہے

    جھرک کی موجودہ حالت اس شہر کی تاریخی اہمیت کے مقابلے میں ایک افسوسناک تضاد پیش کرتی ہے۔ جس شہر میں کبھی دریائی تجارت، بازار، سرکاری ادارے، فوجی سرگرمیاں اور تعلیمی مراکز موجود تھے، وہاں آج ماضی کی بہت سی نشانیاں بوسیدہ عمارتوں اور خاموش گلیوں کی صورت میں باقی ہیں۔

    دریائے سندھ سے جھرک کا تعلق اس شہر کی معیشت اور زندگی کا بنیادی حصہ رہا ہے۔ وقت کے ساتھ دریائی بہاؤ اور پانی کی دستیابی میں آنے والی تبدیلیوں نے دریا سے وابستہ سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ماہی گیری اور دریائی وسائل پر انحصار کرنے والی مقامی آبادی کے لیے یہ تبدیلیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

    جھرک صرف کھنڈرات کا نام نہیں۔ یہ سندھ کی اجتماعی یادداشت کا ایک اہم باب ہے۔ یہاں آغا خان اول سے منسوب تاریخی محل ہے، قائداعظم کے خاندان اور جائے پیدائش سے متعلق ایک طویل مقامی روایت ہے، برطانوی دور کی عمارتیں ہیں، قدیم مذہبی اور آثار قدیمہ کے مقامات ہیں اور دریائے سندھ سے وابستہ ایک پوری تہذیبی کہانی موجود ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس کہانی کو کب محفوظ کریں گے؟

    جھرک کو صرف قائداعظم کی جائے پیدائش کے تنازع تک محدود کرنے کے بجائے اسے ایک مکمل تاریخی اور ثقافتی ورثے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاریخی عمارتوں اور آثار کی باقاعدہ نشاندہی، دستاویز بندی، آثار قدیمہ کی تحقیق، بحالی اور قانونی تحفظ کے ذریعے اس شہر کے ماضی کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ جھرک کو ثقافتی سیاحت کے نقشے پر بھی نمایاں کیا جاسکتا ہے۔

    شاید جھرک کی گلیوں میں چلتے ہوئے سب سے بڑا دکھ یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ کو کتابوں میں تو محفوظ رکھا، مگر اس تاریخ سے جڑے اصل مقامات کو محفوظ نہ رکھ سکے۔

    آغا خان اول کا محل آج بھی خاموش کھڑا ہے۔ بوسیدہ سرکاری عمارتیں آج بھی اپنے عروج کی گواہی دے رہی ہیں اور قائداعظم سے منسوب مکان کی جگہ کھڑی نئی عمارت جیسے ہم سے ایک سوال کر رہی ہے۔

    جھرک کو آج ہماری توجہ، تحقیق اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شہر صرف عمارتوں سے نہیں بنتے، ان کی یادیں بھی انہیں زندہ رکھتی ہیں اور یہی یادیں آنے والی نسلوں کو اپنی تاریخ اور شناخت سے جوڑتی ہیں۔

  • کیا سر آغا خان سوم سندھ کے بادشاہ بننا چاہتے تھے؟

    کیا سر آغا خان سوم سندھ کے بادشاہ بننا چاہتے تھے؟

    آج کل سر آغا خان پرنس رحیم پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر آغا خان خاندان کی تاریخی، سماجی اور فلاحی خدمات پر گفتگو فطری بات ہے۔ مگر تاریخ کے اوراق میں ایک ایسا دلچسپ، کم معروف اور قدرے حیران کن حوالہ بھی موجود ہے، جسے پڑھ کر ذہن میں سوال ابھرتا ہے: کیا کبھی سر آغا خان سوم کے بارے میں یہ تجویز یا خواہش زیرِ بحث آئی تھی کہ انہیں کسی علاقے، ممکنہ طور پر سندھ، کا حکمران بنایا جائے؟

    یہ محض ایک عام افواہ نہیں تھی بلکہ برطانوی ہندوستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے ریکارڈ میں اس معاملے کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

    18 جولائی 1934 کو انڈین لیجسلیٹو اسمبلی میں ایک رکن، گیا پرساد سنگھ، نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ سر آغا خان نے اپنی خدمات کے اعتراف میں حکومت سے کسی ایسے علاقے کا مطالبہ کیا تھا جہاں وہ حکمرانی کر سکیں؟ حکومت نے جواب میں اس بات کی مکمل تردید نہیں کی بلکہ یہ تسلیم کیا کہ اس نوعیت کی خفیہ خط و کتابت ہوئی تھی، مگر اسے عام نہیں کیا جا سکتا۔

    یہ جواب اپنے اندر کئی سوالات رکھتا تھا۔ اگر بات محض بے بنیاد ہوتی تو حکومت صاف الفاظ میں تردید کر سکتی تھی۔ مگر جب حکومت نے کہا کہ خط و کتابت ہوئی ہے مگر اسے ظاہر نہیں کیا جا سکتا، تو شک و شبہات کا پیدا ہونا فطری تھا۔

    اسی موقع پر سندھ سے تعلق رکھنے والے رکن لالچند نیول رائے، جو سندھ کے غیر مسلم دیہی حلقے کی نمائندگی کرتے تھے، نے ضمنی سوال اٹھایا کہ کیا سر آغا خان نے حکمرانی کے لیے سندھ طلب کیا تھا؟ حکومت نے اس سوال کا بھی سیدھا جواب دینے کے بجائے وہی مبہم مؤقف اختیار کیا کہ اس خط و کتابت کو عام نہیں کیا جا سکتا۔

    یہاں سے کہانی مزید دلچسپ ہو جاتی ہے۔

    لالچند نیول رائے ایک ذمہ دار پارلیمانی رکن تھے۔ انہوں نے یہ سوال کسی چائے خانہ گفتگو یا بازاری افواہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسمبلی جیسے سنجیدہ اور باوقار فورم پر اٹھایا۔ اس سے کم از کم اتنا ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت سندھ کے سیاسی حلقوں، اخبارات یا باخبر طبقات میں یہ بات گردش کر رہی تھی کہ سر آغا خان کسی علاقے کی حکمرانی کے خواہش مند تھے، اور ممکن ہے کہ اس تناظر میں سندھ کا نام بھی لیا جا رہا تھا۔

    18 جولائی 1934 کو انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس  

    اس پس منظر کو سمجھنے کے لیے 1930 کی دہائی کا سندھ ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اس وقت سندھ ابھی بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھا۔ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کا سوال شدت سے زیرِ بحث تھا۔ ایک طرف سندھ کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ تھا، دوسری طرف مالی مشکلات، انتظامی خدشات اور سیاسی اندیشے بھی موجود تھے۔ بعض حلقے یہ سمجھتے تھے کہ اگر سندھ الگ ہوا تو کیا وہ مالی طور پر خود کو سنبھال سکے گا؟ کیا یہ ایک مستحکم صوبہ بن سکے گا؟ یا اسے کسی اور سیاسی تجربے کا میدان بنایا جائے گا؟

    اسی ماحول میں لالچند نیول رائے نے کیرالا کو مدراس پریزیڈنسی سے الگ کرنے کی قرارداد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ جیسے چھوٹے صوبے کو الگ کیا گیا تو یہ اس کے لیے ایک اذیت ناک مرحلہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وہ خاموش رہتے تو شاید یہ غلط فہمی پیدا ہوتی کہ وہ سندھ کی علیحدگی کے حامی ہیں۔ ان کے الفاظ میں سندھ پہلے ہی ایک ایسی تکلیف سے گزر رہی تھی جس سے وہ ابھی باہر نہیں نکلی تھی۔

    پھر انہوں نے ایک نہایت معنی خیز بات کہی۔ ان کے مطابق سندھ پر ایک بڑی شخصیت، یعنی حضور آغا خان، کی بھی نظر تھی، جو اپنے لیے کوئی علاقہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لالچند نے کہا کہ اگرچہ اخبارات اس بات کی تردید کر رہے ہیں کہ آغا خان کو یہاں کسی علاقے کا حکمران بنایا جا رہا ہے، لیکن جب ایسی افواہیں سننے میں آئیں اور سندھ کے معاملے پر ہونے والی سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو یہ خیال بالکل بے بنیاد محسوس نہیں ہوتا کہ کسی دن انہیں ہندوستان کے کسی علاقے کا حکمران بنا دیا جائے۔

    یہ الفاظ صرف سیاسی طنز نہیں تھے بلکہ اس وقت کے سیاسی اضطراب کی عکاسی کرتے تھے۔ سندھ کے مستقبل کا سوال کھلا ہوا تھا۔ کچھ لوگ اسے صوبہ بنانا چاہتے تھے، کچھ اس کی مالی کمزوریوں سے خوفزدہ تھے، اور کچھ کو اندیشہ تھا کہ کہیں سندھ کو ایک الگ صوبے کے بجائے کسی شاہی ریاست یا نیم خودمختار انتظامی تجربے میں تبدیل نہ کر دیا جائے۔

    یہ سوال اس لیے بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آغا خان خاندان کی تاریخ میں حکمرانی، اقتدار اور برطانوی راج سے تعلق کا ایک خاص پس منظر موجود تھا۔

    صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر عاصم حسین کے نانا، نامور ماہرِ تعلیم اور پارلیمنٹرین ڈاکٹر ضیا الدین احمد، آغا خان سوم کے ہمراہ

    اسماعیلیوں کے چھیالیسویں امام، شاہ حسن علی شاہ، 1804 میں ایران میں پیدا ہوئے۔ ان کی قابلیت اور اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے ایران کے بادشاہ نے 1835 میں انہیں صوبہ کرمان کا گورنر مقرر کیا اور ‘آغا خان’ کا خطاب عطا کیا۔ یہی شخصیت بعد میں آغا خان اول کہلائی۔ مگر کچھ عرصے بعد ان کے ایرانی بادشاہ سے اختلافات پیدا ہوئے، معاملہ تصادم تک پہنچا، اور آخرکار وہ جلاوطنی کی زندگی اختیار کرتے ہوئے افغانستان پہنچے۔

    افغانستان میں قیام کے دوران ان کے برطانوی حکام سے قریبی روابط قائم ہوئے۔ بعدازاں وہ 1841 میں سندھ پہنچے۔ آغا خان اول نے سندھ میں برطانوی اقتدار کے قیام کے دوران انگریزوں کی مدد کی، جس کے نتیجے میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1844 میں ان کے لیے تاحیات 2000 پاؤنڈ سالانہ پنشن مقرر کی۔ یہ پنشن بہت بعد میں، یکم جنوری 1954 کو جواہر لال نہرو کے دور میں ختم کی گئی۔

    سندھ کے جھِرکوں میں آج بھی امام شاہ حسن علی شاہ، یعنی آغا خان اول، کی حویلی کے آثار اس تاریخی تعلق کی یاد دلاتے ہیں۔

    اسی پس منظر میں جب 1934 میں سر آغا خان سوم کے حوالے سے یہ سوال اٹھا کہ کیا انہوں نے حکومت سے کوئی علاقہ مانگا تھا، اور جب لالچند نیول رائے نے خاص طور پر پوچھا کہ کیا وہ علاقہ سندھ تھا، تو یہ معاملہ محض اتفاقی نہیں لگتا۔ یہ ممکن ہے کہ سندھ کے سیاسی مستقبل پر جاری بحث میں مختلف تجاویز، افواہیں یا خفیہ امکانات گردش کر رہے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آغا خان کے لیے کسی اور علاقے کی بات ہو، نہ کہ سندھ کی۔ مگر حکومت کا جواب چونکہ واضح نہیں تھا، اس لیے معاملہ تاریخ کے پردے میں ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا۔

    لالچند نیول رائے کی تشویش دراصل سندھ کے مستقبل سے متعلق تھی۔ وہ سندھ کی علیحدگی کو صرف انتظامی مسئلہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس میں مالی، سیاسی اور سماجی خطرات دیکھ رہے تھے۔ ان کے نزدیک اصل سوال یہ تھا کہ سندھ کو الگ کرنے کے بعد اس کے مالی وسائل کیا ہوں گے؟ کیا سندھ اپنی آمدنی سے اپنے اخراجات پورے کر سکے گا؟ اور کیا اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسے کسی غیر معمولی سیاسی بندوبست کے حوالے تو نہیں کر دیا جائے گا؟

    تاریخ کا حسن یہی ہے کہ وہ صرف واقعات نہیں بتاتی بلکہ سوال بھی چھوڑ جاتی ہے۔ سر آغا خان سوم واقعی سندھ کے بادشاہ بننا چاہتے تھے یا نہیں؟ اس کا قطعی جواب فی الحال دستیاب نہیں۔ مگر 1934 کی مرکزی اسمبلی میں اٹھنے والے سوالات، حکومت کی مبہم خاموشی، اور لالچند نیول رائے کے خدشات یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ اُس دور میں یہ خیال اتنا کمزور نہیں تھا کہ اسے مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جائے۔

    آج جب آغا خان خاندان کا موجودہ سربراہ پاکستان آتا ہے تو ہم اس خاندان کی فلاحی خدمات، تعلیمی اداروں، صحت کے منصوبوں اور سماجی کردار کو دیکھتے ہیں۔ مگر تاریخ کے ایک کونے میں یہ دلچسپ سوال بھی موجود ہے کہ کبھی اسی خاندان کے ایک سربراہ کے بارے میں یہ بحث بھی ہوئی تھی کہ شاید وہ ہندوستان کے کسی خطے، ممکنہ طور پر سندھ، کے حکمران بننے کے خواہش مند تھے۔