شنگھائی میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کے معاہدے پر 29 ممالک نے دستخط کردیے ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کے شہر شنگھائی میں تنظیم کے قیام کے معاہدے پر پاکستان کی جانب سے دستخط کیے۔
معاہدے کے مطابق ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن ایک آزاد بین الحکومتی بین الاقوامی تنظیم ہوگی، جس کا صدر دفتر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔
چین کی جانب سے اس معاہدے پر چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے دستخط کیے، جو چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں۔ دستخط کی تقریب سالانہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس کے آغاز سے ایک روز قبل شنگھائی میں منعقد ہوئی، جہاں توقع ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی میں بیجنگ کے کردار کے لیے ایک جامع اور بلند حوصلہ وژن پیش کریں گے۔
توقع ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ جمعہ کو کانفرنس سے خطاب کے دوران مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی میں چین کے کردار کے لیے ایک جامع اور بلند حوصلہ وژن پیش کریں گے۔ اس موقع پر چینی کمپنی ہواوے اپنی اب تک کی جدید ترین مصنوعی ذہانت کمپیوٹنگ کلسٹر کی نمائش بھی کرے گی، جو امریکی ٹیکنالوجی کے متبادل کے طور پر مقامی نظام تیار کرنے کے لیے بیجنگ کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر شی جن پنگ کی سالانہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس (WAIC) میں پہلی بار شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بیجنگ مصنوعی ذہانت کو نہ صرف اقتصادی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھتا ہے بلکہ عالمی مسابقت میں ایک اسٹریٹجک ٹیکنالوجی بھی قرار دیتا ہے۔
قازقستان، لاؤس، پاکستان، روس اور انڈونیشیا سمیت 29 ممالک کے نمائندوں نے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد یہ تمام ممالک تنظیم کے بانی ارکان بن گئے۔ دستخط کی تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار جمعرات کو چین پہنچے تھے۔ اپنے دورۂ چین کے دوران وزیر خارجہ شنگھائی میں منعقد ہونے والی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026 میں بھی شرکت کریں گے۔ کانفرنس میں وہ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور ایسی حکمرانی کی حمایت کی جا سکے جس میں تمام ممالک کو مساوی مواقع میسر ہوں۔
اس معاہدے کے مطابق یہ تنظیم اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کرے گی، وسیع مشاورت، مشترکہ تعاون اور سب کے لیے یکساں فائدے کے اصول پر عمل کرے گی، جبکہ اپنی تمام سرگرمیوں میں انسان کو مرکزیت دینے کے تصور کو فروغ دے گی۔
اس تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور عالمی نظم و نسق کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت محفوظ، منصفانہ اور انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ تنظیم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی صحت مند، منظم اور پوری دنیا کے لوگوں کے مفاد میں ہو۔
چین نے گزشتہ سال اس تنظیم کے قیام کی تجویز پیش کی تھی تاکہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی، مہارت، تحقیق اور استعداد کار میں مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ تنظیم کا ایک اہم مقصد دنیا میں موجود ‘اے آئی تقسیم’ کو کم کرنا اور ترقی پذیر ممالک کو اس شعبے میں پیچھے رہ جانے سے بچانا بھی ہے۔

