Tag: آرٹسٹ

  • شناخت کی تلاش: کراچی کی ٹرک آرٹسٹ استاد روزی کا شناختی کارڈ کیوں نہیں بن رہا؟

    شناخت کی تلاش: کراچی کی ٹرک آرٹسٹ استاد روزی کا شناختی کارڈ کیوں نہیں بن رہا؟

    کراچی کی ٹرک آرٹسٹ اور پینٹر روزینہ کے والدین اور بہن بھائی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں شناختی دستاویز جارے کرنے والے ادارے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) ان کا قومی شناختی کارڈ نہیں دے رہا، جس کے باعث وہ اور ان کے دو بچے خود کو پاکستانی شہری ثابت کرنے سے قاصر ہیں۔

    کراچی کی رہائشی روزینہ، جو اپنے کام کے حلقے میں استاد روزی کے نام سے جانی جاتی ہیں، ٹرک آرٹ اور پینٹنگ کا کام کرتی ہیں۔ وہ دو بچوں کی ماں ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے اس شعبے میں روزگار کما رہی ہیں۔ روایتی معاشرے میں یہ پیشہ زیادہ تر مردوں کے پاس ہوتا ہے، مگر استاد روزی نے یہ راستہ اس وقت اختیار کیا جب ان کے پاس کسی اور کام کا موقع موجود نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ وہی کام کر رہی ہیں جو انہیں ملا۔ وہ کہتی ہیں، ’مجھے کسی اور جگہ کام نہیں ملا تو میں نے یہ کام شروع کیا۔‘

    استاد روزی موٹرسائیکل چلاتی ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں پینٹنگ کے آرڈر مکمل کرنے جاتی ہیں۔ ان کے مطابق انہیں روزانہ کئی کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’کام کرنا ہے تو جگہ جگہ جانا پڑتا ہے، موٹرسائیکل میرے لیے آسانی بھی ہے اور ضرورت بھی۔‘ وہ بتاتی ہیں کہ بعض اوقات وہ ایسے علاقوں تک بھی جاتی ہیں جہاں پہنچنے میں دیر لگتی ہے، مگر آرڈر پورا کرنے کے لیے یہ سفر ضروری ہوتا ہے۔

    استاد روزی کی زندگی کا ایک اہم حصہ ان کی شناخت کی تلاش ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ جن گھر والوں کے ساتھ وہ پلی بڑھی تھیں، وہ ان کے اصل والدین نہیں تھے۔ ان کے مطابق انہیں اپنے خاندان، پیدائش اور پس منظر کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں جو ان کی اصل شناخت کی وضاحت کر سکے۔ وہ کہتی ہیں، ’مجھے نہیں معلوم کہ میرا خاندان کون تھا، یا میں کہاں سے آئی تھی۔‘

    استاد روزی نے شادی کی لیکن ان کے مطابق ان کے شوہر نے دو بچوں کی پیدائش کے بعد انہیں طلاق دے دی۔ طلاق کے بعد بچوں کی پرورش، روزگار اور سفر کی ذمہ داریاں وہ اکیلے انجام دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی سکولنگ، علاج یا کسی دوسری ضرورت کے لیے انہیں بار بار مشکلات کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ ان کے پاس اپنی ہی شناختی دستاویز موجود نہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’جب کارڈ نہیں ہے تو ہر جگہ رکاوٹ آتی ہے۔‘

    استاد روزی کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا قومی شناختی کارڈ ہے۔ ان کے پاس کوئی دستاویز موجود نہیں جو ان کی شہریت ثابت کر سکے۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے کئی مرتبہ نادرا سے رابطہ کیا مگر انہیں ہر بار یہی جواب ملا کہ وہ ثبوت پیش کریں کہ وہ پاکستان کی شہری ہیں۔ ان کے مطابق نادرا میں انہیں کہا گیا، ’ثابت کریں کہ آپ پاکستانی ہیں، تب ہی کارڈ بنے گا۔‘ روزی کہتی ہیں کہ وہ یہ ثبوت کہاں سے لائیں، یہ وہ خود بھی نہیں جانتیں۔

    شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت سے کام نہیں کر سکتیں، جن میں بچوں کا ب فارم بنوانا، کسی سرکاری عمل میں حصہ لینا یا باضابطہ طور پر کسی بڑے ادارے میں کام کرنا شامل ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ہر جگہ انہیں اس کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی ادارے ان کا کام دیکھ کر انہیں ملازمت کی پیشکش کرتے ہیں مگر جب دستاویزات کی بات آتی ہے تو معاملہ رک جاتا ہے۔

    اس کے باوجود روزی اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔ وہ مختلف ورکشاپس، بازاروں اور مکینک اسٹینڈز پر جا کر پینٹنگ کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ٹرک آرٹ نے انہیں روزگار دیا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ یہ کام سیکھ کر آگے بڑھیں۔ وقت کے ساتھ انہوں نے خود کو اس فن سے جوڑ لیا ہے اور شہر میں مختلف جگہوں پر ان کا کام نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق وہ اس وقت صرف یہی کوشش کر رہی ہیں کہ ان کے بچوں کا مستقبل بہتر ہو اور وہ سرکاری کاغذات کے بغیر زندگی گزارنے کی مشکلات کا سامنا نہ کریں۔

    روزی کہتی ہیں کہ ان کی تمام کوششیں اسی ایک مقصد کے لیے ہیں کہ وہ اپنی شناخت ثابت کر سکیں اور سرکاری نظام میں شامل ہو سکیں۔ وہ امید کرتی ہیں کہ ایک دن انہیں شناختی کارڈ بنانے میں کامیابی ملے گی تاکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ بنیادی سہولتوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے، ’میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ میرے بچوں کا مستقبل رکاوٹوں کے بغیر آگے بڑھے۔‘

  • کراچی کی مہندی آرٹسٹ: ‘دلہن کی مہندی ڈزائین بنانے میں 10 گھنٹے لگ جاتے ہیں’

    کراچی کی مہندی آرٹسٹ: ‘دلہن کی مہندی ڈزائین بنانے میں 10 گھنٹے لگ جاتے ہیں’

    کراچی کی مہندی آرٹسٹ صدف گزشتہ بارہ برس سے اس پیشے میں کام کر رہی ہے۔ اس دوران اس نے بے شمار ہاتھوں پر مہندی لگائی ہے۔ وہ تین بچوں کی ماں ہے، مگر اس کے باوجود وہ اس فن کو جاری رکھتی ہے اور اسے اپنا روزمرہ کا حصہ سمجھتی ہے۔

    صدف کے مطابق لوگ جب اس کا کام دیکھ کر خوشی ظاہر کرتے ہیں تو اسے مزید ہمت ملتی ہے۔ کئی خواتین اس کے پاس آکر بتاتی ہیں کہ مہندی لگوانے سے ان کا دن بہتر ہوجاتا ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ مہندی کا نمونہ دیکھ کر انہیں اپنے گھریلو مواقع یاد آتے ہیں۔ اس طرح صدف کے لئے یہ پیشہ صرف کام نہیں بلکہ ایک تعلق کا ذریعہ بھی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے صدف نے بتایا: ‘شادی یا کسی خاص موقعے پر خواتین کی مہندی ڈزائین بنانے میں آتھ سے 10 گھنٹے لگ جاتے ہیں، مگر اتنی محنت کے بعد جب خواتین کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر ساری تھکن اتر جاتی ہے۔

    مہندی کا فن برصغیر، مشرقِ وسطیٰ، عرب دنیا اور شمالی افریقہ کے کئی علاقوں میں عام ہے۔ برصغیر میں یہ فن صدیوں سے گھریلو اور سماجی مواقع کا حصہ رہا ہے۔

    لوگ مہندی کو ہاتھوں اور پیروں پر لگاتے ہیں اور مختلف علاقوں میں ڈیزائن کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ کہیں گھنے نقش پسند کیے جاتے ہیں، کہیں باریک لائنوں اور چھوٹے نمونوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عرب دنیا میں ڈیزائن نسبتاً کھلے اور بڑے ہوتے ہیں جبکہ پاکستان اور انڈیا میں پیچیدہ نمونے زیادہ مقبول ہیں۔

    مہندی عام طور پر شادیوں، عیدین، خانگی تقریبات، منگنی، بچوں کی خوشی، یا کسی بھی جشن میں لگائی جاتی ہے۔ عورتیں اسے خوشی کی علامت سمجھتی ہیں۔ شادی سے ایک روز پہلے ہونے والی مہندی کی تقریب کا پورا ماحول اسی فن کے گرد بنتا ہے۔ دلہن کے دونوں ہاتھ اور پاؤں مہندی سے سجائے جاتے ہیں، اور خاندان کی خواتین بھی مہندی لگواتی ہیں۔

    مہندی کی اقسام میں کون مہندی، پاؤڈر مہندی، عربی مہندی، راجستھانی مہندی اور خالص دیسی مہندی شامل ہیں۔ کچھ لوگ کیمیکل ملے کون استعمال کرتے ہیں، مگر بہت سے لوگ اب پودے سے تیار شدہ خالص مہندی پسند کرتے ہیں جس کا رنگ وقت کے ساتھ گہرا ہوتا ہے۔

    صدف ان ہی روایتی طریقوں کو ترجیح دیتی ہے۔ وہ خالص مہندی کو بہتر سمجھتی ہے کیونکہ اس کا رنگ دیر تک رہتا ہے۔ اس کے مطابق مہندی لگانا صرف لائنیں بنانے کا عمل نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے، جو وقت کے ساتھ بہتر ہوتا جاتا ہے۔ صدف کہتی ہے کہ جب لوگ اس کے ڈیزائن کو دیکھ کر اطمینان ظاہر کرتے ہیں تو اسے لگتا ہے کہ اس کا بارہ سال کا سفر اب بھی جاری ہے اور ہر نئے ہاتھ پر اسے ایک نیا آغاز محسوس ہوتا ہے۔

    یہ فن آج بھی گھروں، تقریبات اور میلوں میں اپنی جگہ رکھتا ہے اور مقامی ثقافت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔