Tag: آرمی چیف

  • جنرل ضیاء کا آرمی چیف بننے سے موت تک کا سفر

    جنرل ضیاء کا آرمی چیف بننے سے موت تک کا سفر

    جنرل ٹکا خان کا جب ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آیا تو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو جنرل ٹکا خان کو آرمی چیف کے عہدے پر توسیع دینا چاہتے تھے، لیکن جنرل ٹکا خان نے توسیع لینے سے انکار کر دیا۔

    اس کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ٹکا خان سے نئے آرمی چیف کے بارے میں مشورہ کیا۔ جنرل ٹکا خان نے سینیارٹی کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل اکبر اور لیفٹیننٹ جنرل شریف کے نام وزیراعظم بھٹو کو تجویز کیے۔

    بھٹو کسی بھی صورت میں ایسے اہم ادارے کی سربراہی کے لیے خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے۔ آخرکار ان کی نظر سب سے جونیئر اور خوشامدی جنرل ضیاء پر جا کر ٹھہر گئی۔

    2 مارچ 1976ء کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستانی فوج کے سات سب سے سینئر جرنیلوں، لیفٹیننٹ جنرل اکبر خان، لیفٹیننٹ جنرل شریف، لیفٹیننٹ جنرل آفتاب احمد خان، لیفٹیننٹ جنرل عظمت بخش اعوان، لیفٹیننٹ جنرل آغا علی ابراہیم اکرم، لیفٹیننٹ جنرل عبدالمجید ملک اور لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک جونیئر جنرل ضیاء کو آرمی چیف بنا دیا۔

    جنرل ضیاء کی تقرری کے بعد بھٹو مطمئن ہو گئے کہ جنرل ضیاء کی صورت میں انہیں ایک وفادار آرمی چیف مل گیا ہے۔

    ایک سال بعد مارچ 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے وقت سے پہلے عام انتخابات کا اعلان کیا تو راتوں رات مخالف جماعتوں کا نو جماعتی اتحاد ’پاکستان قومی اتحاد‘ وجود میں آ گیا، جو بعد میں ’’نو ستاروں‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

     مارچ 1977ء کے انتخابات کو دھاندلی کا نام دے کر مخالف جماعتوں نے مسترد کر دیا اور نظام مصطفیٰ کے نعرے کے تحت بھٹو کے خلاف تحریک شروع ہو گئی۔

    حالات اتنے خراب ہوئے کہ بھٹو حکومت کو کراچی، حیدرآباد، ملتان، لاہور اور راولپنڈی میں جزوی مارشل لا نافذ کرنا پڑا۔ ان دنوں امریکی ڈالر کی قیمت ریکارڈ حد تک گر گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس تحریک کو اپنے خلاف امریکی سازش قرار دیا۔

    ان دنوں ایک واقعہ ہوا۔ جنرل ضیاء نے حکومتی ممانعت کے باوجود امریکی سفیر کو عشائیہ دیا۔ بھٹو کی جانب سے جواب طلبی پر جنرل ضیاء نے اسے معمول کی دعوت قرار دیا۔

    آخرکار وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مخالف جماعتوں سے مذاکرات کیے۔

     5 جولائی کو بھٹو اور مخالف جماعتوں کے درمیان معاہدہ ہونا تھا کہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی رات جنرل ضیاء نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت برطرف کر دی، آئین معطل کر دیا اور ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔

    آگے چل کر جنرل ضیاء نے ذوالفقار علی بھٹو کو نہ صرف پھانسی دی بلکہ ملک میں ہزاروں سیاسی کارکنوں کو جیلوں میں بھیج دیا گیا۔ لوگوں کو لاکھوں کوڑے مارے گئے۔

     سیاسی جماعتوں، مزدور تنظیموں، طلبہ یونینوں اور بار ایسوسی ایشنز پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ ہزاروں صحافی، وکیل، مزدور، طلبہ اور خواتین کو جیلوں، شاہی قلعے اور دیگر اذیت گاہوں میں بند کر دیا گیا۔

    کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر نے جنم لیا۔ افغان جہاد کے نام پر ملک کو غیر ملکی ایجنڈے کے تحت جنگ میں دھکیل دیا گیا۔ گیارہ سال تک اس ملک پر آمرانہ حکومت قائم رہی۔

    3 جنوری 1984ء کو ملک کی مختلف چھاؤنیوں سے کئی فوجی افسران گرفتار کیے گئے، جن پر جنرل ضیاء کا تختہ الٹنے کا الزام لگایا گیا۔

     تحقیقات کے بعد باقی لوگوں کو چھوڑ دیا گیا، جبکہ میجر آفتاب، میجر نثار بخاری، میجر صادق، میجر عبدالرزاق ملک، میجر اکرم نیازی، میجر محمود اختر شیرازی، میجر خالد وحید بٹ اور اسکواڈرن لیڈر فتح محمد شہزاد کو سات سے چودہ سال تک کی سزائیں سنائی گئیں۔

    آخرکار 17 اگست 1988ء کا وہ دن آیا جب جنرل ضیاء امریکہ سے ملنے والے ٹینکوں کا مظاہرہ دیکھنے کے لیے چکلالہ ایئر بیس راولپنڈی سے بہاولپور پہنچے۔

    وہاں ان کا استقبال وائس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ، لیفٹیننٹ جنرل محمود، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل جہانگیر کرامت، بریگیڈیئر اعجاز اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران نے کیا۔

    جنرل ضیاء جس سی 130 ہرکولیس طیارے میں سفر کر رہے تھے، وہ چار انجنوں والا جدید طیارہ تھا، جسے ’پاک ون‘ کا نام دیا گیا تھا۔ بہاولپور پہنچنے کے بعد وہ خیرپور ٹامیوالی رینج گئے، جہاں انہوں نے جدید ٹینکوں کی مشقیں دیکھیں۔

    شام چار بج کر بیس منٹ پر جنرل ضیاء اپنے ساتھیوں سمیت اسی طیارے میں سوار ہوئے اور طیارے نے فضا میں اڑان بھری۔ پرواز کے چند ہی منٹ بعد بستی لال کمال کے قریب طیارہ تباہ ہو کر زمین پر گر گیا۔

    اس فضائی حادثے میں جنرل ضیاء کے ساتھ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر آرنلڈ رافیل، امریکی ملٹری اتاشی بریگیڈیئر جنرل ہربرٹ واسم، چیئرمین جوائنٹ اسٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمان، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد افضل، جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) جہلم میجر جنرل محمد حسین اعوان، میجر جنرل خواجہ معین، میجر جنرل شریف ناصر، میجر جنرل عبدالسميع، جنرل ضیاء کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر نجیب، جنرل ضیاء کے پریس سیکریٹری بریگیڈیئر صدیق سالک، بریگیڈیئر عبدالمجید، بریگیڈیئر لطیف، کرنل صفدر، کیپٹن مشہود سمیت 31 اعلیٰ فوجی افسران مارے گئے۔

    اس طرح 17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاء کی موت کے ساتھ ہی ان کی گیارہ سالہ آمرانہ حکومت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔

    نوٹ: یہ جنرل ضیاء کی زندگی کی آخری تصاویر ہیں۔ وہ بہاولپور سے واپس راولپنڈی جانے کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

  • ‘ترکیہ ایک ارب ڈالر اور سب سے خوبصورت خاتون دے ورنہ سفارتی تعلقات ختم’: یوگنڈا آرمی چیف کے متنازع بیانات وائرل

    ‘ترکیہ ایک ارب ڈالر اور سب سے خوبصورت خاتون دے ورنہ سفارتی تعلقات ختم’: یوگنڈا آرمی چیف کے متنازع بیانات وائرل

    یوگنڈا کے آرمی چیف جنرل موہوزی کینیرُوگابا نے حالیہ دنوں میں ترکیہ کے بارے میں ایک ایسا متنازع بیان دیا ہے جس نے عالمی سطح پر ہل چل مچا دی ہے۔ سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے ترکیہ سے ایک ارب امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا ہے، جسے انہوں نے ‘سیکیورٹی ڈیویڈنڈ’ کا نام دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یوگنڈا کی فوج نے صومالیہ میں کئی برسوں تک امن و امان قائم رکھنے، دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں کرنے اور استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    جبکہ ترکیہ نے وہاں معاشی اور تجارتی فائدے حاصل کیے، اس لیے یوگنڈا کو بھی اس کا مالی حصہ ملنا چاہیے۔ جنرل کینیرُوگابا کے مطابق، صومالیہ میں جاری سیکیورٹی آپریشنز میں یوگنڈا کی فوج نے نمایاں قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ملک کسی خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے اپنی فوج بھیجتا ہے، اور اس کے نتیجے میں دوسرے ممالک وہاں سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، تو یہ انصاف کا تقاضا ہے کہ سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کو بھی مالی طور پر حصہ دیا جائے۔

    اسی بنیاد پر انہوں نے ترکیہ سے ایک ارب ڈالر ادا کرنے کا مطالبہ کیا، جسے وہ یوگنڈا کا حق قرار دیتے ہیں۔ تاہم ان کا بیان صرف اسی مطالبے تک محدود نہیں رہا۔ بلکہ اس میں ایک انتہائی متنازعہ پہلو بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کو انہیں اپنے ملک کی سب سے خوبصورت خاتون بطور بیوی بھی دینی چاہیے۔ اس بیان کو دنیا بھر میں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ بلکہ اسے غیر مناسب اور غیر سفارتی قرار دیا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات کسی بھی اعلیٰ فوجی عہدیدار کے منصب کے مطابق نہیں ہوتے۔ اور یہ بین الاقوامی سطح پر منفی تاثر پیدا کرتے ہیں۔ جنرل کینیرُوگابا نے اپنے بیانات میں مزید کہا کہ اگر ترکیہ نے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا تو یوگنڈا سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ یوگنڈا ترکیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے، کمپالا میں ترکیہ کا سفارت خانہ بند کرنے اور ترکیہ کی پروازوں یا دیگر سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنے جیسے اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔

    ان دھمکیوں نے صورتحال کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ بیانات سرکاری پالیسی کا حصہ ہیں یا ذاتی خیالات۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام بیانات زیادہ تر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر سامنے آئے ہیں، جہاں جنرل کینیرُوگابا کافی متحرک رہتے ہیں۔ یوگنڈا کی حکومت کی طرف سے ان بیانات کی کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جس کی وجہ سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

    اسی طرح ترکیہ کی جانب سے بھی اب تک کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔ جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اس معاملے کو فی الحال نظر انداز کر رہا ہے یا صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔

    پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو جنرل موہوزی کینیرُوگابا یوگنڈا کے صدر یووری موسیوینی کے صاحبزادے ہیں۔ اور ملک کی فوج میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں بھی اپنے غیر روایتی اور بعض اوقات متنازعہ بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں۔ ان کی سوشل میڈیا سرگرمیاں اکثر سفارتی حلقوں میں تشویش کا باعث بنتی ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات ان کے بیانات کو سرکاری مؤقف سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ وہ ذاتی رائے بھی ہو سکتی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات سے بین الاقوامی تعلقات میں غیر ضروری کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف ممالک کو سیکیورٹی اور معاشی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوگنڈا اور ترکیہ دونوں ہی مختلف شعبوں میں تعاون رکھتے ہیں، جن میں تجارت، تعمیرات اور ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔

    اس لیے اس طرح کے بیانات مستقبل کے تعلقات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ مزید برآں، یہ معاملہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں اعلیٰ عہدیداروں کے بیانات کس طرح فوری طور پر عالمی سطح پر پھیل جاتے ہیں۔

    اور ان کے اثرات سفارتی تعلقات تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایک طرف یہ پلیٹ فارمز اظہارِ رائے کی آزادی فراہم کرتے ہیں، تو دوسری طرف غیر محتاط بیانات تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔ بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنرل کینیرُوگابا کا ایک ارب ڈالر کا مطالبہ عملی طور پر پورا ہونا مشکل ہے۔ کیونکہ اس طرح کے معاملات عام طور پر بین الاقوامی معاہدوں اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے طے ہوتے ہیں، نہ کہ عوامی بیانات یا سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے۔

    اسی لیے اس مطالبے کو زیادہ تر علامتی یا سیاسی بیان سمجھا جا رہا ہے۔

    ایک اور حالیہ ٹویٹ میں صومالیہ کے آرمی چیف نے لکھا: ‘میں تمام یوگنڈا کے شہریوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ ترکیہ کا سفر کرنے سے گریز کریں، اپنی حفاظت کے لیے۔’ اب تک نہ ترکیہ اور نہ ہی صومالیہ کے حکام نے ان مطالبات پر کوئی عوامی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسرائیل کے لیے سپورٹ کے سلسلے میں کینیرُوگابا نے ‘ایکس’ پر لکھا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے ایک لاکھ یوگنڈا کے فوجیوں کو تعینات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    انہوں نے لکھا: ‘میں اپنی کمان میں ایک لاکھ یوگنڈا کے فوجیوں کو اسرائیل میں تعینات کرنے کے لیے تیار ہوں، تاکہ مقدس سرزمین کی حفاظت کی جا سکے، جو ہمارے خدا حضرت عیسیٰ کی سرزمین ہے۔’

    ایران کو دھمکی دیتے ہوئے جنرل کینیرُوگابا نے ‘ایکس’ پر ایک اور پوسٹ میں لکھا: ‘میرے پاس تقریباً پانچ لاکھ افراد جنگ کے لیے تیار نوجوان ہیں۔ انہیں صرف پیسہ چاہیے۔ وہ تہران کو مفت میں بھی فتح کر لیں گے۔’

    ایک صارف نے اس پر تبصرہ کیا: ‘تم خود کو کیوں شامل نہیں کرتے؟ کیا تم خود بھوکے نہیں ہو؟ تم بھائیوں، باپوں اور بیٹوں کو ایسی جنگ میں بھیجنا چاہتے ہو جو سرے سے موجود ہی نہیں، کیونکہ تمہارا دماغ بیمار ہے۔ انہیں بھوکے نوجوان کہنا ان کی توہین ہے۔ تمہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔’