10 اپریل 1973 کو قومی اسمبلی نے پاکستان کا آئین منظور کیا۔ 1947 سے لے کر 1971 تک پاکستان مسلسل آئینی بحرانوں کا شکار رہا۔ 1956 اور 1962 کے آئین نہیں چل سکے، پاکستان کو بغیر آئین کے چلایا گیا جس کا دکھ بھرا نتیجہ آخرکار ‘سقوط ڈھاکہ’ کی صورت میں نکلا۔
1971 کے سانحے کے بعد بچے ہوئے پاکستان کی وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ایسے ‘عمرانی معاہدے’ کی سخت ضرورت تھی جو چاروں صوبوں میں برابری کا احساس پیدا کر سکے، ملک میں آمریت کے راستے ہمیشہ کے لیے بند کر دے، اور ملک کی اسلامی شناخت اور جدید
جمہوریت کا ایک متوازن امتزاج ہو۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد 20 دسمبر 1971 کو اقتدار سنبھالنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ملک کے آئین کی تیاری میں لگ گئے کیونکہ ملک میں کوئی بھی آئین موجود نہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کوشش تھی کہ آئین کو متفقہ طور پر منظور کروایا جائے۔ اس سلسلے میں عبدالحفیظ پیرزادہ کی سربراہی میں آئین کی تشکیل کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی۔
ذوالفقار علی بھٹو آئین کی تشکیل کے لیے مخالف دھڑے کے رہنماؤں، خاص طور پر خان عبدالولی خان اور مفتی محمود، کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ آخر پاکستان کے آئین کا مسودہ بنا کر 10 اپریل 1973 کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ قومی اسمبلی کے 135 اراکین میں سے 125 اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا، جو ایک بڑی سیاسی اور اخلاقی فتح تھی۔
آئین کی اہم خصوصیات
ملک میں صدارتی نظام کی جگہ پارلیمانی نظام نافذ کیا گیا، جس میں وزیر اعظم کو انتظامی اختیارات کا مرکز بنایا گیا۔قومی اسمبلی کے ساتھ سینیٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ وفاق میں چھوٹے صوبوں کو برابر نمائندگی مل سکے۔ملک کی تاریخ میں پہلی بار اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا۔
شہریوں کو اظہار رائے، لکھنے کی آزادی اور مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت فراہم کی گئی۔
1973 کے آئین پر اعتراضات
اگرچہ 1973 کا آئین قومی اسمبلی سے بڑی اکثریت سے منظور ہوا، لیکن بلوچستان اور سندھ کے کچھ قوم پرست رہنماؤں کے تحفظات بہت گہرے تھے۔ ان کے اختلاف کا بنیادی نقطہ ‘صوبائی خودمختاری’ تھا۔
نواب خیر بخش مری کے اعتراضات
ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان کو مختلف قوموں کا وفاق تسلیم کیا جائے اور مرکز کے پاس صرف دفاع، خارجہ امور، مواصلات اور کرنسی کے اختیارات ہوں۔

میر غوث بخش بزنجو اور عطاء اللہ مینگل
ان کا اعتراض وفاق کی بے جا مداخلت پر تھا۔ ان کے خیال میں آئین کی کچھ شقیں مرکز کو ایسے غیر معمولی اختیارات دیتی ہیں جن کے ذریعے وہ کسی بھی وقت صوبائی حکومتوں کو ختم کر سکتا ہے اور قوموں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں۔
خان عبدالولی خان
انہوں نے وزیر اعظم کے وسیع اختیارات کو ‘سول آمریت’ کی شروعات قرار دیا۔ ان کا بڑا اعتراض یہ تھا کہ سینیٹ کو مالی معاملات میں قومی اسمبلی کے برابر اختیارات نہیں دیے گئے۔
دستخط نہ کرنے والے اراکین
جب 10 اپریل 1973 کو قومی اسمبلی میں آئین کا حتمی مسودہ پیش ہوا تو کچھ اراکین نے وفاقی اختیارات کی تقسیم اور بلوچستان کی سیاسی صورتحال پر احتجاج کرتے ہوئے دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
سندھ سے میر علی احمد ٹالپر، عبدالحمید جتوئی، میر علی بخش ٹالپر۔
بلوچستان سے نواب خیر بخش مری، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، بیگم جینفر موسی۔
پنجاب سے میاں محمود علی قصوری۔
سرحد سے ارباب سکندر خان خلیل۔
1973 کا آئین ایک ادھورا خواب تھا یا ایک مکمل معاہدہ؟ اس کا جواب آج کی سیاست میں ظاہر ہے۔ اگرچہ اس وقت کے قوم پرست رہنماؤں کے خدشات بعد میں درست ثابت ہوئے، لیکن یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا اکثریتی دستاویز تھا۔
اس کے باوجود چھوٹے صوبوں کی قیادت کی جانب سے اعتراضات جاری رہے، جن کی بنیاد وفاقی نظام میں اختیارات کی غیر منصفانہ تقسیم تھی۔ وفاقی فہرست بہت طویل تھی، سینیٹ بے اختیار رہی، وسائل پر مرکز کا کنٹرول رہا، این ایف سی میں صرف آبادی کو بنیاد بنایا گیا، سی سی آئی غیر فعال رہی، اردو کو قومی زبان قرار دینے پر اعتراض ہوا، اور گورنر راج کا اختیار دیا گیا۔
1973 کا آئین اپنی اصل میں ایک مرکزیت پسند دستاویز تھا جس میں وفاقیت سے زیادہ مرکزیت پر زور تھا۔ بعد میں کچھ اصلاحات کی گئیں، لیکن چھوٹے صوبوں کا بنیادی مطالبہ آج بھی ایک حقیقی وفاق کا قیام ہے۔
یہ آئین 14 اگست 1973 سے نافذ کیا گیا۔
سائیں جی ایم سید نے بھی اس آئین کی مخالفت کی، حالانکہ وہ اسمبلی کے رکن نہیں تھے۔

