Tag: آغا خان

  • کیا سر آغا خان سوم سندھ کے بادشاہ بننا چاہتے تھے؟

    کیا سر آغا خان سوم سندھ کے بادشاہ بننا چاہتے تھے؟

    آج کل سر آغا خان پرنس رحیم پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر آغا خان خاندان کی تاریخی، سماجی اور فلاحی خدمات پر گفتگو فطری بات ہے۔ مگر تاریخ کے اوراق میں ایک ایسا دلچسپ، کم معروف اور قدرے حیران کن حوالہ بھی موجود ہے، جسے پڑھ کر ذہن میں سوال ابھرتا ہے: کیا کبھی سر آغا خان سوم کے بارے میں یہ تجویز یا خواہش زیرِ بحث آئی تھی کہ انہیں کسی علاقے، ممکنہ طور پر سندھ، کا حکمران بنایا جائے؟

    یہ محض ایک عام افواہ نہیں تھی بلکہ برطانوی ہندوستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے ریکارڈ میں اس معاملے کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

    18 جولائی 1934 کو انڈین لیجسلیٹو اسمبلی میں ایک رکن، گیا پرساد سنگھ، نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ سر آغا خان نے اپنی خدمات کے اعتراف میں حکومت سے کسی ایسے علاقے کا مطالبہ کیا تھا جہاں وہ حکمرانی کر سکیں؟ حکومت نے جواب میں اس بات کی مکمل تردید نہیں کی بلکہ یہ تسلیم کیا کہ اس نوعیت کی خفیہ خط و کتابت ہوئی تھی، مگر اسے عام نہیں کیا جا سکتا۔

    یہ جواب اپنے اندر کئی سوالات رکھتا تھا۔ اگر بات محض بے بنیاد ہوتی تو حکومت صاف الفاظ میں تردید کر سکتی تھی۔ مگر جب حکومت نے کہا کہ خط و کتابت ہوئی ہے مگر اسے ظاہر نہیں کیا جا سکتا، تو شک و شبہات کا پیدا ہونا فطری تھا۔

    اسی موقع پر سندھ سے تعلق رکھنے والے رکن لالچند نیول رائے، جو سندھ کے غیر مسلم دیہی حلقے کی نمائندگی کرتے تھے، نے ضمنی سوال اٹھایا کہ کیا سر آغا خان نے حکمرانی کے لیے سندھ طلب کیا تھا؟ حکومت نے اس سوال کا بھی سیدھا جواب دینے کے بجائے وہی مبہم مؤقف اختیار کیا کہ اس خط و کتابت کو عام نہیں کیا جا سکتا۔

    یہاں سے کہانی مزید دلچسپ ہو جاتی ہے۔

    لالچند نیول رائے ایک ذمہ دار پارلیمانی رکن تھے۔ انہوں نے یہ سوال کسی چائے خانہ گفتگو یا بازاری افواہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسمبلی جیسے سنجیدہ اور باوقار فورم پر اٹھایا۔ اس سے کم از کم اتنا ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت سندھ کے سیاسی حلقوں، اخبارات یا باخبر طبقات میں یہ بات گردش کر رہی تھی کہ سر آغا خان کسی علاقے کی حکمرانی کے خواہش مند تھے، اور ممکن ہے کہ اس تناظر میں سندھ کا نام بھی لیا جا رہا تھا۔

    18 جولائی 1934 کو انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس  

    اس پس منظر کو سمجھنے کے لیے 1930 کی دہائی کا سندھ ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اس وقت سندھ ابھی بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھا۔ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کا سوال شدت سے زیرِ بحث تھا۔ ایک طرف سندھ کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ تھا، دوسری طرف مالی مشکلات، انتظامی خدشات اور سیاسی اندیشے بھی موجود تھے۔ بعض حلقے یہ سمجھتے تھے کہ اگر سندھ الگ ہوا تو کیا وہ مالی طور پر خود کو سنبھال سکے گا؟ کیا یہ ایک مستحکم صوبہ بن سکے گا؟ یا اسے کسی اور سیاسی تجربے کا میدان بنایا جائے گا؟

    اسی ماحول میں لالچند نیول رائے نے کیرالا کو مدراس پریزیڈنسی سے الگ کرنے کی قرارداد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ جیسے چھوٹے صوبے کو الگ کیا گیا تو یہ اس کے لیے ایک اذیت ناک مرحلہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وہ خاموش رہتے تو شاید یہ غلط فہمی پیدا ہوتی کہ وہ سندھ کی علیحدگی کے حامی ہیں۔ ان کے الفاظ میں سندھ پہلے ہی ایک ایسی تکلیف سے گزر رہی تھی جس سے وہ ابھی باہر نہیں نکلی تھی۔

    پھر انہوں نے ایک نہایت معنی خیز بات کہی۔ ان کے مطابق سندھ پر ایک بڑی شخصیت، یعنی حضور آغا خان، کی بھی نظر تھی، جو اپنے لیے کوئی علاقہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لالچند نے کہا کہ اگرچہ اخبارات اس بات کی تردید کر رہے ہیں کہ آغا خان کو یہاں کسی علاقے کا حکمران بنایا جا رہا ہے، لیکن جب ایسی افواہیں سننے میں آئیں اور سندھ کے معاملے پر ہونے والی سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو یہ خیال بالکل بے بنیاد محسوس نہیں ہوتا کہ کسی دن انہیں ہندوستان کے کسی علاقے کا حکمران بنا دیا جائے۔

    یہ الفاظ صرف سیاسی طنز نہیں تھے بلکہ اس وقت کے سیاسی اضطراب کی عکاسی کرتے تھے۔ سندھ کے مستقبل کا سوال کھلا ہوا تھا۔ کچھ لوگ اسے صوبہ بنانا چاہتے تھے، کچھ اس کی مالی کمزوریوں سے خوفزدہ تھے، اور کچھ کو اندیشہ تھا کہ کہیں سندھ کو ایک الگ صوبے کے بجائے کسی شاہی ریاست یا نیم خودمختار انتظامی تجربے میں تبدیل نہ کر دیا جائے۔

    یہ سوال اس لیے بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آغا خان خاندان کی تاریخ میں حکمرانی، اقتدار اور برطانوی راج سے تعلق کا ایک خاص پس منظر موجود تھا۔

    صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر عاصم حسین کے نانا، نامور ماہرِ تعلیم اور پارلیمنٹرین ڈاکٹر ضیا الدین احمد، آغا خان سوم کے ہمراہ

    اسماعیلیوں کے چھیالیسویں امام، شاہ حسن علی شاہ، 1804 میں ایران میں پیدا ہوئے۔ ان کی قابلیت اور اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے ایران کے بادشاہ نے 1835 میں انہیں صوبہ کرمان کا گورنر مقرر کیا اور ‘آغا خان’ کا خطاب عطا کیا۔ یہی شخصیت بعد میں آغا خان اول کہلائی۔ مگر کچھ عرصے بعد ان کے ایرانی بادشاہ سے اختلافات پیدا ہوئے، معاملہ تصادم تک پہنچا، اور آخرکار وہ جلاوطنی کی زندگی اختیار کرتے ہوئے افغانستان پہنچے۔

    افغانستان میں قیام کے دوران ان کے برطانوی حکام سے قریبی روابط قائم ہوئے۔ بعدازاں وہ 1841 میں سندھ پہنچے۔ آغا خان اول نے سندھ میں برطانوی اقتدار کے قیام کے دوران انگریزوں کی مدد کی، جس کے نتیجے میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1844 میں ان کے لیے تاحیات 2000 پاؤنڈ سالانہ پنشن مقرر کی۔ یہ پنشن بہت بعد میں، یکم جنوری 1954 کو جواہر لال نہرو کے دور میں ختم کی گئی۔

    سندھ کے جھِرکوں میں آج بھی امام شاہ حسن علی شاہ، یعنی آغا خان اول، کی حویلی کے آثار اس تاریخی تعلق کی یاد دلاتے ہیں۔

    اسی پس منظر میں جب 1934 میں سر آغا خان سوم کے حوالے سے یہ سوال اٹھا کہ کیا انہوں نے حکومت سے کوئی علاقہ مانگا تھا، اور جب لالچند نیول رائے نے خاص طور پر پوچھا کہ کیا وہ علاقہ سندھ تھا، تو یہ معاملہ محض اتفاقی نہیں لگتا۔ یہ ممکن ہے کہ سندھ کے سیاسی مستقبل پر جاری بحث میں مختلف تجاویز، افواہیں یا خفیہ امکانات گردش کر رہے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آغا خان کے لیے کسی اور علاقے کی بات ہو، نہ کہ سندھ کی۔ مگر حکومت کا جواب چونکہ واضح نہیں تھا، اس لیے معاملہ تاریخ کے پردے میں ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا۔

    لالچند نیول رائے کی تشویش دراصل سندھ کے مستقبل سے متعلق تھی۔ وہ سندھ کی علیحدگی کو صرف انتظامی مسئلہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس میں مالی، سیاسی اور سماجی خطرات دیکھ رہے تھے۔ ان کے نزدیک اصل سوال یہ تھا کہ سندھ کو الگ کرنے کے بعد اس کے مالی وسائل کیا ہوں گے؟ کیا سندھ اپنی آمدنی سے اپنے اخراجات پورے کر سکے گا؟ اور کیا اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسے کسی غیر معمولی سیاسی بندوبست کے حوالے تو نہیں کر دیا جائے گا؟

    تاریخ کا حسن یہی ہے کہ وہ صرف واقعات نہیں بتاتی بلکہ سوال بھی چھوڑ جاتی ہے۔ سر آغا خان سوم واقعی سندھ کے بادشاہ بننا چاہتے تھے یا نہیں؟ اس کا قطعی جواب فی الحال دستیاب نہیں۔ مگر 1934 کی مرکزی اسمبلی میں اٹھنے والے سوالات، حکومت کی مبہم خاموشی، اور لالچند نیول رائے کے خدشات یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ اُس دور میں یہ خیال اتنا کمزور نہیں تھا کہ اسے مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جائے۔

    آج جب آغا خان خاندان کا موجودہ سربراہ پاکستان آتا ہے تو ہم اس خاندان کی فلاحی خدمات، تعلیمی اداروں، صحت کے منصوبوں اور سماجی کردار کو دیکھتے ہیں۔ مگر تاریخ کے ایک کونے میں یہ دلچسپ سوال بھی موجود ہے کہ کبھی اسی خاندان کے ایک سربراہ کے بارے میں یہ بحث بھی ہوئی تھی کہ شاید وہ ہندوستان کے کسی خطے، ممکنہ طور پر سندھ، کے حکمران بننے کے خواہش مند تھے۔