سسئی بھٹو اس وقت پاکستان پہنچی ہیں جب ان کے والد شہید شاہنواز بھٹو کی 18 جولائی کو 41ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ 44 سالہ سسئی بھٹو مستقل طور پر امریکہ میں اپنی افغان نژاد والدہ ریحانہ کے ساتھ رہتی ہیں۔
شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو کی والدہ فوزیہ اور سسئی بھٹو کی والدہ ریحانہ آپس میں سگی بہنیں ہیں۔ اس رشتے سے فاطمہ بھٹو اور سسئی بھٹو نہ صرف چچا زاد بلکہ خالہ زاد بہنیں بھی ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد دونوں بھائی اس وقت کی سوویت نواز افغان حکومت کے مہمان بن گئے۔
1980 میں دونوں بھائیوں نے جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف ’پاکستان لبریشن آرمی‘ قائم کی۔ بعد ازاں 2 مارچ 1981 کو پی آئی اے کے طیارے کے اغوا کے واقعے کے بعد کابل پہنچنے پر اس تنظیم کا نام تبدیل کرکے ’الذوالفقار‘ رکھ دیا گیا۔
میر مرتضیٰ بھٹو الذوالفقار کے سربراہ تھے جبکہ شاہنواز بھٹو اس کے آپریشنل چیف کمانڈر تھے۔
کابل میں دونوں بھائیوں نے افغان وزارت خارجہ کے ایک افسر فصیح الدین کی دو بیٹیوں، فوزیہ اور ریحانہ سے شادیاں کیں۔
شادی کے کچھ عرصے بعد افغان انٹیلی جنس کے سربراہ نجیب اللہ نے میر مرتضیٰ بھٹو کو خبردار کیا کہ جن بہنوں سے انہوں نے شادی کی ہے، ان کے والد فصیح الدین کے پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے دور کی آئی ایس آئی سے روابط ہیں اور وہ افغان انٹیلی جنس کی نگرانی کی فہرست میں شامل ہیں۔
تاہم میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے نجیب اللہ کی اس تنبیہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
29 مئی 1982 کو میر مرتضیٰ بھٹو کے ہاں فوزیہ سے فاطمہ بھٹو کی پیدائش ہوئی جبکہ 24 اگست 1982 کو شاہنواز بھٹو اور ریحانہ کے ہاں سسئی بھٹو پیدا ہوئیں۔
جولائی 1985 میں ایک طویل عرصے کے بعد بھٹو خاندان فرانس کے ساحلی شہر کانز میں اکٹھا ہوا۔ بیگم نصرت بھٹو، بینظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو اور شاہنواز بھٹو کافی عرصے بعد ایک دوسرے سے ملے، مگر 18 جولائی 1985 کا دن خاندان کے لیے انتہائی افسوسناک ثابت ہوا۔
اسی روز شاہنواز بھٹو اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ اس وقت فلیٹ میں صرف ان کی اہلیہ ریحانہ اور کم سن بیٹی سسئی موجود تھیں۔
اطلاع ملنے پر میر مرتضیٰ بھٹو اور بینظیر بھٹو وہاں پہنچے تو ریحانہ شدید گھبرائی ہوئی تھیں۔ فرانسیسی پولیس نے موقع پر پہنچ کر شاہنواز بھٹو کی لاش اپنی تحویل میں لے لی اور ریحانہ کو بھی حراست میں لے لیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق شاہنواز بھٹو کی موت انتہائی خطرناک زہر سے ہوئی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ایسا زہر تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بعض خفیہ اداروں کے ایجنٹ یا مسلح تنظیموں کے ارکان راز افشا ہونے سے پہلے خودکشی کے لیے استعمال کرتے تھے، جس سے چند لمحوں میں موت واقع ہو جاتی ہے۔
اس واقعے کے بعد فرانسیسی پولیس نے ریحانہ کو گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنی اہلیہ فوزیہ کو طلاق دے دی اور اپنی کم سن بیٹی فاطمہ کو ساتھ لے کر شام کے دارالحکومت دمشق منتقل ہوگئے۔
بینظیر بھٹو اپنے بھائی شاہنواز بھٹو کی میت پاکستان لے آئیں، جہاں انہیں آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش میں سپرد خاک کیا گیا۔
بعد ازاں فرانسیسی حکومت نے ریحانہ کو چند برس قید میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا، جس کے بعد وہ امریکہ منتقل ہوگئیں اور سسئی بھٹو بھی اپنی والدہ کے ساتھ وہیں رہنے لگیں۔
دمشق میں قیام کے دوران میر مرتضیٰ بھٹو نے غنویٰ بھٹو سے شادی کی۔ اس کے بعد فاطمہ بھٹو کی پرورش میر مرتضیٰ بھٹو اور غنویٰ بھٹو نے مل کر کی۔ بعد میں ان کے ہاں ایک بیٹا، ذوالفقار علی بھٹو جونیئر، پیدا ہوا۔
نومبر 1993 میں میر مرتضیٰ بھٹو جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس آئے اور لاڑکانہ سے سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، لیکن بھٹو خاندان کی مشکلات ختم نہ ہوئیں۔
20 ستمبر 1996 کو، جب ان کی بہن بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیر اعظم تھیں، میر مرتضیٰ بھٹو اپنے ساتھیوں سمیت کراچی میں واقع اپنے آبائی گھر 70 کلفٹن کے باہر فائرنگ میں قتل کر دیے گئے۔
ان کے قتل کا مقدمہ آج تک منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔ بعد میں خود بے نظیر بھٹو بھی راولپنڈی میں دہشت گرد حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ دونوں مقدمات میں انصاف نہ ہو سکا۔
اس تمام عرصے میں سسئی بھٹو اور فاطمہ بھٹو کے درمیان قریبی تعلقات رہے۔ جب بھی سسئی بھٹو پاکستان آتیں تو وہ غنویٰ بھٹو، فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار بھٹو جونیئر کے ساتھ 70 کلفٹن میں قیام کرتیں اور اکثر اکٹھے نظر آتیں۔
تاہم اس مرتبہ صورتحال مختلف نظر آئی۔ پاکستان پہنچنے پر سسئی بھٹو نے فاطمہ بھٹو یا ذوالفقار بھٹو جونیئر کے بجائے آصفہ بھٹو زرداری کی مہمان بننا پسند کیا۔ کراچی ایئرپورٹ پر بھی ان کا استقبال آصفہ بھٹو زرداری نے کیا۔
سسئی بھٹو کے اس بدلے ہوئے رویے کے بارے میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ مئی 2024 میں ان کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ (ٹوئٹ) ہو سکتی ہے، جس میں انہوں نے اپنے حصے کے 71 کلفٹن کے بنگلے اور نوڈیرو کی زرعی زمین کا ذکر کیا تھا۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا: ’میں اس وقت کراچی میں موجود نہیں ہوں، لیکن میری دلی خواہش ہے کہ میں وہاں ہوتی اور آپ میں سے بہت سے لوگوں سے ملاقات کر سکتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 71 کلفٹن، جو میرے والد کا گھر تھا، اور میری زرعی زمین مجھ سے ناانصافی کے ساتھ چھین لی گئی ہے۔ یہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ میں جلد پاکستان واپس آؤں گی۔‘
71 کلفٹن کے بنگلے کی دیکھ بھال سسئی بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کرتے رہے ہیں۔
بھٹو خاندان کی جائیداد کا تنازع کئی برسوں پر محیط ہے۔ یہ تنازع ذوالفقار علی بھٹو کی چھوڑی ہوئی رہائشی جائیدادوں، زرعی زمینوں اور دیگر اثاثوں کی قانونی تقسیم سے متعلق ہے۔
اس تنازع کا آغاز شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی وفات کے بعد ہوا، جب ان کی چھوٹی بہن صنم بھٹو نے اپنے والد کی جائیداد اور اثاثوں کی قانونی تقسیم کے لیے اپنی بھابھی غنویٰ بھٹو کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔ بعد ازاں سرکاری طور پر زمینوں کی حد بندی (ڈیمارکیشن) اور تقسیم کے ذریعے اس معاملے کو نمٹایا گیا۔
سال 2000 میں صنم بھٹو نے کراچی کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کی تمام جائیداد قانونی وارثوں میں تقسیم کی جائے۔ اس مقدمے میں ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو، بہن بے نظیر بھٹو، اور ان کے شہید بھائیوں میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کے بچوں کو بھی فریق بنایا گیا۔
متنازع جائیدادوں میں ضلع لاڑکانہ کی ہزاروں ایکڑ زرعی زمین، المرتضیٰ ہاؤس، 70 کلفٹن، 71 کلفٹن، نوڈیرو میں چاول کا سائلو (سیلر) اور رتودیرو کا پیٹرول پمپ شامل تھے۔
صنم بھٹو نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کوئی وصیت چھوڑ کر نہیں گئے تھے، اس لیے ان کی تمام جائیداد اور اثاثے اسلامی قانون کے مطابق تمام قانونی وارثوں میں تقسیم کیے جائیں۔
انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مرحوم بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کی لبنانی نژاد بیوہ غنویٰ بھٹو نے ان جائیدادوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ان میں المرتضیٰ ہاؤس، 70 کلفٹن، 71 کلفٹن، ایک نجی لائبریری، قیمتی نوادرات اور مختلف زرعی زمینیں شامل ہیں۔
1996 میں میر مرتضیٰ بھٹو کی وفات کے بعد یہ تمام اثاثے ان کی اہلیہ غنویٰ بھٹو کے زیرِ انتظام رہے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران صنم بھٹو کے ساتھ مبینہ فراڈ کی کہانی
11 جنوری 1981 کو صنم بھٹو نے اپنی بڑی بہن بے نظیر بھٹو کے ذریعے کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں آغا گل حسن ولد آغا محمد جام سے ڈی-164، اسکیم نمبر 5، بلاک 5، کلفٹن میں واقع 1083 مربع گز کا ایک پلاٹ خریدا تھا۔
پلاٹ کی رجسٹری اور تمام اصل دستاویزات انہوں نے اپنی بڑی بہن بے نظیر بھٹو کے حوالے کر دی تھیں۔
بے نظیر بھٹو کی وفات کے بعد ایک روز صنم بھٹو اپنا پلاٹ دیکھنے گئیں تو حیران رہ گئیں۔ پلاٹ کے گرد دیوار تعمیر کی جا چکی تھی اور وہاں مسلح افراد تعینات تھے۔
صنم بھٹو نے ان سے پوچھا کہ وہ یہاں کیوں موجود ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں پلاٹ کے مالک نے یہاں تعینات کیا ہے۔
یہ سن کر صنم بھٹو سب رجسٹرار آفس اور دیگر متعلقہ دفاتر گئیں اور ریکارڈ کی جانچ کرائی۔ وہاں انہیں معلوم ہوا کہ ان کے نام سے ایک جعلی پاور آف اٹارنی تیار کی گئی تھی، جس میں بلاول ہاؤس کے ایک ملازم فرمان علی ولد سائیں داد پھلپوٹو کو ان کا نمائندہ ظاہر کیا گیا تھا۔
انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ اسی مبینہ پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر ان کا مذکورہ پلاٹ بے نظیر بھٹو کی وفات کے بعد 30 اپریل 2008 کو عامر مصطفیٰ ولد غلام مصطفیٰ میمن، رہائشی بنگلہ نمبر 105/1، اسٹریٹ نمبر 29، ڈیفنس فیز 5، خیابان محافظ، کراچی کے نام فروخت کر دیا گیا۔
اس کے بعد صنم بھٹو نے اپنے وکیل منیر اے ملک کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ اس درخواست پر سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد تسنیم نے متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کیے۔
صنم بھٹو نے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ وہ بے نظیر بھٹو کی وصیت سے متعلق بعض راز بھی منظر عام پر لا سکتی ہیں۔
اس صورتحال کے بعد بلاول بھٹو زرداری، بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے صنم بھٹو سے ملاقات کی اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ یہ معاملہ میڈیا میں نہ لایا جائے۔ انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ تمام غلطیوں کا ازالہ کر دیا جائے گا، جس کے بعد صنم بھٹو نے معاملہ آگے نہ بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی۔
جس شخص، عامر مصطفیٰ میمن، کے نام پلاٹ منتقل کیا گیا، وہ مرحوم مصطفیٰ میمن کا بیٹا ہے، جنہیں آصف علی زرداری کا قریبی دوست اور کاروباری شراکت دار قرار دیا گیا ہے۔
زرعی زمین کی حد بندی اور تقسیم
16 اپریل 2000 کو لاڑکانہ کے محکمہ ریونیو کے حکام نے عزت کی وند گاؤں کی دیہہ بھٹا اور دیہہ پنجو میں واقع 2,524 ایکڑ زرعی زمین کی حد بندی اور تقسیم کی۔
یہ کارروائی صنم بھٹو کی درخواست اور ان کی موجودگی میں کی گئی۔ اس کا مقصد صنم بھٹو اور ان کی بھابھی غنویٰ بھٹو کے درمیان جاری زمینی تنازع کو حل کرنا تھا۔
صنم بھٹو سخت سکیورٹی میں بھٹو اسٹیٹ پہنچیں۔ اس موقع پر لاڑکانہ کے اس وقت کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر (ڈی سی او) محمد جعفر عباسی، خورشید جونیجو اور ڈاکٹر شفقت سومرو بھی ان کے ساتھ تھے۔
ریونیو اور سروے کے افسران نے اسٹیٹ منیجر کے ساتھ مل کر نقشوں اور چارٹس کی مدد سے صنم بھٹو کو زمین اور اس کی تقسیم کے بارے میں بریفنگ دی۔
یہ زمین کئی برسوں سے صنم بھٹو اور غنویٰ بھٹو کے درمیان تنازع کا باعث بنی ہوئی تھی۔
ریونیو حکام نے حد بندی کے مقامات پر سرخ جھنڈے لگا کر زمین کی نشاندہی کی۔
زمین کی تقسیم اس طرح کی گئی:
بیگم نصرت بھٹو: 584 ایکڑ
میر مرتضیٰ بھٹو: 720 ایکڑ
بے نظیر بھٹو: 425 ایکڑ
صنم بھٹو: 425 ایکڑ
سسئی بھٹو (شاہنواز بھٹو کی صاحبزادی): 370 ایکڑ
رتودیرو کے اسسٹنٹ کمشنر پہلے ہی زمین تقسیم کر چکے تھے اور اس روز صرف اس کی حد بندی کی گئی۔
جب حد بندی کا عمل جاری تھا تو غنویٰ بھٹو کے ملازمین مجنوں ناریجو، عنایت بھٹو، اختر میرانی اور نظام کوہڑ نے فاطمہ بھٹو کی جانب سے رتودیرو کے مختیارکار کو ایک درخواست دینے کی کوشش کی، لیکن متعلقہ افسر نے وہ درخواست وصول نہیں کی۔
فاطمہ بھٹو کا مؤقف تھا کہ زمین کی حد بندی تمام قانونی حصے داروں کی موجودگی میں ہونی چاہیے۔
ملازمین نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں کچھ دیر کے لیے حراست میں رکھا اور زمین سے تین ٹریکٹر اور دیگر زرعی سامان بھی لے گئی۔
بعد ازاں صنم بھٹو نے زمین کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور کمداروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی زمین کا قبضہ سنبھال لیں۔
کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے بھٹو اسٹیٹ کے اطراف پولیس کی چار چوکیاں قائم کی گئی تھیں۔
اس سے قبل صنم بھٹو نے نوڈیرو ہاؤس میں آصفہ بھٹو زرداری، اسٹیٹ منیجر اور کمداروں سے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاض پھلپوٹو بدستور اسٹیٹ منیجر رہیں گے اور وہ بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو اور صنم بھٹو کے حصے کی جائیداد کی دیکھ بھال کریں گے۔
بعد میں صدر آصف علی زرداری نے بھٹو خاندان کے پرانے اسٹیٹ منیجر ریاض پھلپوٹو کو تمام معاملات سے الگ کرکے ان کی جگہ اپنے قریبی افراد کو تعینات کر دیا۔
اب سسئی بھٹو کی پاکستان واپسی اور آصفہ بھٹو زرداری کی جانب سے ان کے استقبال اور میزبانی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سسئی بھٹو اپنی جائیداد واپس حاصل کرنے کے لیے صدر آصف علی زرداری کی حمایت حاصل کریں گی، جس کے نتیجے میں آئندہ فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار بھٹو جونیئر کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

