9 جولائی 1967ء: محترمہ فاطمہ جناح کی پراسرار وفات کا دن

محترمہ فاطمہ جناح 31 جولائی 1893ء کو پیدا ہوئیں۔ وہ قائداعظم محمد علی جناح کی چھوٹی بہن تھیں اور عمر میں ان سے تقریباً 17 سال چھوٹی تھیں۔ انہیں برصغیر کی اولین مسلم خواتین ڈینٹسٹوں میں شمار کیا جاتا ہے اور انہوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے ڈینٹل تعلیم حاصل کی۔

وہ قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کے آخری لمحے تک ان کے شانہ بشانہ رہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی بھائی کی رفاقت اور قومی خدمت کے لیے وقف کر دی اور شادی نہیں کی۔ پاکستان میں انہیں احترام کے ساتھ ‘مادرِ ملت’ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

محترمہ فاطمہ جناح کا انتقال 9 جولائی 1967ء کو کراچی میں ہوا۔ سرکاری طور پر ان کی وفات کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی، تاہم ابتدا ہی سے بعض سیاسی رہنماؤں، محققین اور مبصرین نے اس سرکاری مؤقف پر سوالات اٹھائے اور ان کی موت کو مشکوک قرار دیا۔

معروف مصنفہ سائرہ ہاشمی نے بھی اپنی کتاب میں ان کی وفات کے حوالے سے قتل کا دعویٰ نقل کیا ہے، اگرچہ اس حوالے سے کوئی عدالتی یا سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد فاطمہ جناح اور اُس وقت کی حکومت کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔

14 اگست، یومِ آزادی کے موقع پر حکومت نے فاطمہ جناح سے ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب کرنے کی درخواست کی۔ فاطمہ جناح نے یہ شرط رکھی کہ ان کی تقریر براہِ راست نشر کی جائے گی اور اس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی۔

حکومت نے یہ شرط قبول کر لی، لیکن نشریات کے دوران اچانک تقریر منقطع کر دی گئی۔ اس اقدام پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔

بعد ازاں اپنی سالگرہ کے موقع پر بھی حکومت نے انہیں ریڈیو پاکستان سے خطاب کی دعوت دی، مگر فاطمہ جناح نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ اپنی تقریر کا متن پہلے سے کسی سرکاری ادارے کو نہیں دکھائیں گی۔ حکومت اس شرط پر آمادہ نہ ہوئی، جس کے باعث یہ خطاب نہ ہو سکا۔

اس زمانے میں یہ تاثر عام تھا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ فاطمہ جناح اپنے خطاب میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کر سکتی ہیں۔

بعد ازاں قائداعظم محمد علی جناح کی تیسری برسی کے موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ فاطمہ جناح کی تقریر بغیر سنسرشپ کے براہِ راست نشر کی جائے گی۔

تقریر جاری تھی کہ اچانک ایک مقام پر ریڈیو کی نشریات منقطع ہو گئیں۔ کچھ دیر بعد ٹرانسمیشن دوبارہ بحال کر دی گئی۔

بعد میں مختلف حلقوں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ فاطمہ جناح کی تقریر میں حکومت پر تنقیدی جملے شامل تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ مائیک پر اپنی تقریر جاری رکھے ہوئے تھیں، لیکن نشریات بند ہونے کے باعث وہ حصہ عوام تک نہ پہنچ سکا۔

اس واقعے پر ملک بھر میں خاصا ردِعمل سامنے آیا اور مختلف اخبارات میں احتجاجی بیانات اور تبصرے شائع ہوئے۔

ریڈیو پاکستان کا مؤقف تھا کہ نشریات میں تعطل اچانک فنی خرابی یا بجلی کے مسئلے کے باعث آیا، تاہم اس وضاحت کو بہت سے حلقوں نے قبول نہیں کیا۔ بعض مبصرین کا خیال تھا کہ تقریر کا وہ حصہ جان بوجھ کر نشر نہیں ہونے دیا گیا۔

اسی دوران 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے کمپنی باغ، جو بعد میں لیاقت باغ کہلایا، میں ایک جلسۂ عام کے دوران وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس وقت جنرل محمد ایوب خان پاک فوج کے کمانڈر اِن چیف تھے۔

بعد ازاں 7 اکتوبر 1958ء کو صدر اسکندر مرزا نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ تاہم صرف بیس روز بعد، 27 اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھال لیا، صدر اسکندر مرزا کو معزول کرکے جلا وطن کر دیا اور ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔

1965ء کے صدارتی انتخابات

چند برس بعد جنرل ایوب خان نے صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے باہمی مشاورت کے بعد محترمہ فاطمہ جناح سے درخواست کی کہ وہ ان کے مشترکہ امیدوار کے طور پر میدان میں آئیں۔ اپوزیشن کے اصرار پر فاطمہ جناح نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔

مغربی اور مشرقی پاکستان میں انہیں غیر معمولی عوامی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ملک بھر میں ان کے جلسوں، جلوسوں اور عوامی اجتماعات میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ ان کی انتخابی مہم نے سیاسی ماحول میں نئی جان ڈال دی اور حکومت کو سخت سیاسی مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔

صدارتی انتخابات 2 جنوری 1965ء کو منعقد ہوئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انتخابی عمل شفاف نہیں تھا، جبکہ سرکاری نتائج کے مطابق جنرل ایوب خان کامیاب قرار پائے۔ ان نتائج کے بعد مختلف شہروں میں احتجاج بھی کیا گیا۔

صدارتی انتخابات کے بعد بھی فاطمہ جناح اور جنرل ایوب خان کے درمیان سیاسی اختلافات برقرار رہے۔ وہ جمہوریت کی بحالی، آئینی بالادستی اور عوامی حقِ حکمرانی کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم رہیں۔

انہی حالات میں 9 جولائی 1967ء کو محترمہ فاطمہ جناح اپنے گھر قصرِ فاطمہ میں انتقال کر گئیں۔ اگرچہ سرکاری طور پر ان کی وفات کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی، لیکن اس کے ساتھ ہی مختلف حلقوں میں شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا۔

وفات، تدفین، عدالتی کارروائی، گواہوں کے بیانات

تاریخی روایات کے مطابق 8 جولائی 1967ء کی رات فاطمہ جناح ایک شادی کی تقریب میں شریک ہوئیں۔ تقریب میں موجود افراد کے مطابق وہ خوشگوار موڈ میں تھیں، مہمانوں سے گرمجوشی سے ملیں اور ان کی طبیعت معمول کے مطابق تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے تقریب میں مکمل کھانا نہیں کھایا بلکہ صرف کچھ پھل اور سلاد تناول کیا۔ بعد ازاں وہ رات تقریباً گیارہ بجے اپنی رہائش گاہ قصرِ فاطمہ واپس پہنچیں، اپنے کمرے میں جا کر لباس تبدیل کیا اور آرام کرنے چلی گئیں۔

ان کا معمول تھا کہ وہ صبح سویرے بیدار ہو جاتی تھیں اور ناشتے کے لیے اپنے ملازم کو ہدایات دیتی تھیں۔

9 جولائی کی صبح جب وہ کافی دیر تک اپنے کمرے سے باہر نہ آئیں تو ملازم کو تشویش ہوئی۔ اس نے کئی مرتبہ دروازہ کھٹکھٹایا، مگر اندر سے کوئی جواب نہ ملا۔ اس پر اس نے ان کی قریبی دوست اور پڑوس میں رہنے والی بیگم ہدایت اللہ کو اطلاع دی۔

بیگم ہدایت اللہ نے فوری طور پر کراچی کے کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام کو اس صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ جب پولیس کی موجودگی میں کمرے کا دروازہ کھولا گیا تو محترمہ فاطمہ جناح بستر پر انتقال کر چکی تھیں۔

ان کی وفات کی خبر پورے ملک میں تیزی سے پھیل گئی اور غم کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم اسی وقت بعض سیاسی اور عوامی حلقوں نے ان کی وفات کے حوالے سے سوالات اٹھانے شروع کر دیے۔

ان کے قریبی عزیزوں اور بعض دوستوں نے حکومت سے پوسٹ مارٹم اور مکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا، لیکن یہ مطالبہ قبول نہیں کیا گیا۔ بعد کے برسوں میں بھی یہی معاملہ ان کی وفات سے متعلق شکوک و شبہات کی ایک اہم وجہ بنتا رہا۔

محترمہ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد ان کی تدفین کے مقام کے حوالے سے بھی اختلافات سامنے آئے۔ مختلف تاریخی روایات کے مطابق، فاطمہ جناح نے خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں اپنے بھائی قائداعظم محمد علی جناح کے پہلو میں سپردِ خاک کیا جائے، جبکہ بعض مؤرخین کے مطابق اُس وقت کی حکومت انہیں کراچی کے میوہ شاہ قبرستان میں دفنانا چاہتی تھی۔ اس حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں۔

فاطمہ جناح کی وفات کی خبر پھیلتے ہی کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے لاکھوں افراد ان کی رہائش گاہ اور مزارِ قائد کے اطراف جمع ہونا شروع ہو گئے۔ عوام کی بڑی تعداد انہیں قائداعظم کی آخری نشانی سمجھتی تھی، اس لیے فضا سوگ اور غم سے بوجھل تھی۔

بعض تاریخی روایات کے مطابق، امن و امان کی صورتِ حال کے پیشِ نظر ابتدا میں یہ تجویز زیرِ غور آئی کہ تدفین رات کے وقت کی جائے، تاہم عوامی جذبات اور مختلف حلقوں کے ردِعمل کے بعد فیصلہ تبدیل کیا گیا اور انہیں صبح کے وقت سپردِ خاک کیا گیا۔

قائداعظم محمد علی جناح کی قبر کے بائیں جانب ان کی قبر تیار کی گئی۔ زمین سخت اور پتھریلی ہونے کے باعث قبر کی کھدائی میں غیر معمولی وقت لگا۔ بعض روایات کے مطابق، اس کام کے لیے برقی آلات کی مدد بھی لینا پڑی۔

مختلف اخباری اطلاعات کے مطابق، قبر کی تیاری میں معروف قبر کھودنے والے عبدالغنی اور ان کے ساتھیوں نے حصہ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عبدالغنی اس سے قبل قائداعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر کی قبریں بھی تیار کر چکے تھے۔

فاطمہ جناح کی پہلی نمازِ جنازہ ان کی رہائش گاہ قصرِ فاطمہ میں ادا کی گئی، جس کی امامت شیعہ عالم مولانا ابو الحسن جارچوی نے کی۔

بعد ازاں ان کے جسدِ خاکی کو عوام کے دیدار کے لیے باہر لایا گیا تو ہر طرف غم کی فضا طاری تھی۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد ان کی آخری جھلک دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ متعدد عینی شاہدین کے مطابق، لوگوں کی آنکھیں اشکبار تھیں اور فضا ‘مادرِ ملت زندہ باد’ کے نعروں سے گونج رہی تھی۔

مرکزی حکومت کی جانب سے صدر جنرل محمد ایوب خان، پاک بحریہ کے سربراہ وائس ایڈمرل ایس ایم احسن، وفاقی وزرا، اعلیٰ سول و فوجی حکام، سفارت کار اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات بھی جنازے میں شریک ہوئیں۔

فاطمہ جناح کے جسدِ خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا اور ایک کھلی گاڑی کے ذریعے مزارِ قائد کی جانب لے جایا گیا۔ راستے بھر عوام کی بڑی تعداد ان پر گل پاشی کرتی رہی، جبکہ مذہبی علما قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہوئے جلوس کے ساتھ چلتے رہے۔

بعد ازاں پولو گراؤنڈ میں ان کی دوسری نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کی امامت مفتی محمد شفیع نے کی۔ مختلف اخباری رپورٹس کے مطابق، اس نمازِ جنازہ میں تقریباً دس لاکھ افراد نے شرکت کی، جو اُس وقت پاکستان کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ان کی تدفین کے بعد بھی عوام کے ایک طبقے میں یہ سوال برقرار رہا کہ آیا ان کی وفات طبعی تھی یا اس کے پسِ پردہ کوئی اور حقیقت تھی۔ سرکاری سطح پر ان کی وفات کو طبعی قرار دیا گیا، تاہم اس مؤقف پر مختلف حلقوں کی جانب سے مسلسل سوالات اٹھائے جاتے رہے۔

محترمہ فاطمہ جناح کی وفات کے تقریباً پانچ برس بعد، جنوری 1972ء میں غلام سرور ملک نامی ایک شہری نے ان کی وفات کے حوالے سے تحقیقات کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔

اس زمانے کی اخباری اطلاعات کے مطابق، ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ ممتاز محمد بیگ نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 176 کے تحت دائر درخواست کی سماعت کے لیے 17 جنوری 1972ء کی تاریخ مقرر کی۔

درخواست گزار غلام سرور ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ محترمہ فاطمہ جناح کے مداح ہیں اور انہیں قومی رہنما تصور کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، فاطمہ جناح نے پوری زندگی جمہوریت، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔

درخواست میں کہا گیا کہ 1965ء کے صدارتی انتخابات کے بعد فاطمہ جناح عوام کی امیدوں کا مرکز بن گئی تھیں اور وہ اُن قوتوں کے لیے ایک مضبوط سیاسی چیلنج تھیں جو اقتدار میں رہنا چاہتی تھیں۔ درخواست گزار نے شبہ ظاہر کیا کہ اسی وجہ سے ان کی وفات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ 8 جولائی 1967ء کی رات فاطمہ جناح ایک شادی کی تقریب میں شریک تھیں، جہاں وہ بظاہر صحت مند اور خوشگوار موڈ میں دکھائی دے رہی تھیں۔ اگلی صبح ان کی وفات کی خبر نے بہت سے سوالات کو جنم دیا۔

مزید کہا گیا کہ تدفین کے دوران عوام کو جنازے کے قریب جانے سے روکا گیا اور بعض مقامات پر پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت بھی استعمال کی۔ ان دعوؤں کی اس وقت مختلف حلقوں میں بازگشت سنائی دی، تاہم ان کی مکمل عدالتی تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔

اسی دوران یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ فاطمہ جناح کے جسم پر زخموں کے نشانات موجود تھے، تاہم ان دعوؤں کی کبھی باضابطہ سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔

بعد ازاں بعض شخصیات، جن میں حسن اے شیخ بھی شامل تھے، نے مختلف اخباری بیانات میں اس معاملے پر اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ اس موضوع پر اخبارات میں خبریں، مضامین اور اداریے بھی شائع ہوتے رہے، جن میں ان کی وفات کے اسباب پر سوالات اٹھائے گئے۔

کراچی کے بعض اردو اخبارات میں یہ دعویٰ بھی شائع ہوا کہ فاطمہ جناح کو غسل دینے والی بعض خواتین نے ان کے جسم پر زخم دیکھنے کا ذکر کیا تھا۔ انہی رپورٹس میں ہدایت علی المعروف ‘کلو’ کا بیان بھی شامل کیا گیا، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی اہلیہ، جو غسل دینے والی خواتین میں شامل تھیں، نے انہیں بتایا تھا کہ فاطمہ جناح کے جسم پر زخموں کے نشانات موجود تھے۔

تاہم ان تمام دعوؤں کی نہ تو کسی عدالتی فیصلے کے ذریعے تصدیق ہوئی اور نہ ہی کوئی ایسی سرکاری تحقیق سامنے آئی جس نے ان الزامات کو ثابت یا مسترد کیا ہو۔

اس زمانے کی حکومت نے ان الزامات کو تسلیم نہیں کیا، جبکہ بعد کے ادوار میں بھی اس معاملے کی کوئی جامع عدالتی یا سرکاری انکوائری منظرِ عام پر نہیں آئی، جس سے یہ تنازع ہمیشہ بحث کا موضوع بنا رہا۔

آج بھی محترمہ فاطمہ جناح کی وفات پاکستان کی تاریخ کے اُن واقعات میں شمار ہوتی ہے جن پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک طرف سرکاری مؤقف ہے کہ ان کا انتقال طبعی وجوہات کی بنا پر ہوا، جبکہ دوسری جانب بعض سیاسی رہنما، محققین، صحافی اور مؤرخین اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔

اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی زندگی پاکستان، جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے وقف کر دی۔ قائداعظم محمد علی جناح کی رفیقِ کار، قوم کی رہنما اور مادرِ ملت کی حیثیت سے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، جبکہ ان کی وفات سے متعلق سوالات آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم اور متنازع موضوعات میں شمار ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں: