دو نئی آن لائن ٹیکسی سروسز کا آغاز، بڑھتے کرایوں سے پریشان شہریوں کے لیے کتنی کارگر ثابت ہوں گی؟

ملک کے بڑے شہروں میں مہنگے ہوتے سفری اخراجات سے پریشان شہریوں کے لیے خوشخبری ہے کہ پاکستان میں دو نئی رائیڈ ہیلنگ سروسز فورن (FoRun) اور زیبار (Zebar) کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد شہریوں کو محفوظ، معیاری اور نسبتاً کم قیمت سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں کریم (Careem) اور اوبر (Uber) اپنی خدمات بند کر چکی ہیں، جس کے بعد مارکیٹ میں بنیادی طور پر دو کمپنیاں ان ڈرائیو (InDrive) اور ینگو (Yango) ہی رہ گئی تھیں۔ ان دونوں کمپنیوں کی جانب سے حالیہ مہینوں میں کرایوں میں نمایاں اضافے پر شہری مسلسل شکایات کرتے رہے ہیں، خاص طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سفری اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ رائیڈ ہیلنگ سروسز سے وابستہ بیشتر گاڑیاں ایل پی جی، ایل این جی یا کم ایندھن خرچ کرنے والی 660 سی سی سوزوکی آلٹو جیسی گاڑیاں استعمال کرتی ہیں، اس کے باوجود گزشتہ ایک سال کے دوران کرایوں میں تقریباً دو گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث بہت سے صارفین نے ان سروسز کا استعمال کم کر دیا ہے۔

دوسری جانب ڈرائیوروں کا مؤقف ہے کہ موجودہ رائیڈ ہیلنگ کمپنیاں ان سے 10 سے 20 فیصد تک کمیشن وصول کرتی ہیں، جبکہ ایندھن، گاڑیوں کی دیکھ بھال اور دیگر اخراجات میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان حالات میں ان کی آمدنی میں خاطر خواہ بچت نہیں ہو پاتی۔

صارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور نجی ٹرانسپورٹ نے بھی کرایوں میں اضافہ کیا ہے، لیکن ینگو اور ان ڈرائیو نے کرایے اس سے کہیں زیادہ بڑھا دیے ہیں، جس سے روزانہ سفر کرنے والے ملازمین، طلبہ اور دیگر شہری شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔

گلستانِ جوہر کی رہائشی رخسانہ، جو روزانہ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع اپنے دفتر جانے کے لیے رائیڈ ہیلنگ سروس استعمال کرتی ہیں، نے بتایا کہ پہلے ان کا ایک طرف کا کرایہ تقریباً 700 سے 800 روپے ہوتا تھا، لیکن اب یہی سفر 1200 سے 1600 روپے میں طے ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق روزانہ آنے جانے کے اخراجات میں ہونے والے اس اضافے نے ان کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ایسے حالات میں نئی رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کی آمد کو شہریوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ کم قیمت، جدید ٹیکنالوجی اور محفوظ سفری سہولت کے ذریعے مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کریں گی۔

فورن، جو فورن پوائنٹ (ForunPoint) کے تحت کام کر رہی ہے، خود کو پاکستان کی پہلی حقیقی ‘سپر ایپ’ قرار دیتی ہے۔ لاہور میں قائم اس کمپنی کے مطابق ایک ہی موبائل ایپ کے ذریعے رائیڈ ہیلنگ، کھانا منگوانے، تحائف بھیجنے، کوریئر سروس اور کار کرایہ پر لینے جیسی پانچ مختلف سہولتیں حاصل کی جا سکیں گی۔ ان کی سروس لاہور کے ساتھ ساتھ کراچی اور اسلام آباد میں بھی موجود ہے۔

کمپنی کے مطابق اس کا آغاز امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر فریسکو سے ہوا تھا اور اب اس نے پاکستان میں اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کیا ہے تاکہ شہریوں کو سفر، کھانے، ترسیل اور دیگر روزمرہ سہولتیں ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کی جا سکیں۔

فورن کا کہنا ہے کہ اس کی رائیڈ سروس پاکستانی صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔ صارف اپنی ضرورت اور بجٹ کے مطابق موٹر سائیکل، رکشہ یا کار کا انتخاب کر سکیں گے تاکہ مختصر اور طویل دونوں طرح کے سفر آسانی سے کیے جا سکیں۔

کمپنی نے خواتین کی حفاظت کو بھی اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ‘خاتون سے خاتون’ رائیڈ کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت خواتین مسافر صرف خواتین ڈرائیورز کے ساتھ سفر کر سکیں گی۔ کمپنی کے مطابق اس سے خواتین اور ان کے اہل خانہ کو زیادہ اعتماد اور تحفظ کا احساس ملے گا۔

فورن نے ایک اور منفرد سہولت بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت صارفین صرف آواز کے ذریعے گاڑی یا کھانے کا آرڈر دے سکیں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سہولت طلبہ، ملازمت پیشہ افراد اور گھریلو خواتین کے لیے خاص طور پر مفید ثابت ہوگی، کیونکہ انہیں ٹائپنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ادھر ایک اور نئی کمپنی زیبار ٹیکنالوجیز (Zebar Technologies) نے بھی پاکستان میں اپنی رائیڈ ہیلنگ سروس متعارف کرا دی ہے۔ کوئٹہ سے آپریٹ کرنے والی اس کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف ایک اور ٹیکسی سروس فراہم کرنا نہیں بلکہ شہری نقل و حمل کے نظام کو جدید، محفوظ اور پائیدار بنانا ہے۔

کمپنی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، معیاری خدمات، بہتر کسٹمر سپورٹ اور مسلسل معیار کی نگرانی اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ زیبار کا کہنا ہے کہ وہ صارفین اور ڈرائیوروں دونوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی سہولتیں فراہم کرے گی جن سے سفر مزید آسان اور قابل اعتماد بن سکے۔

زیبار ٹیکنالوجیز کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہ نواز کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد شہریوں کے لیے محفوظ، جدید اور ہر شخص کی پہنچ میں آنے والی سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق کمپنی ہر نئی سہولت متعارف کرانے سے پہلے مسافروں اور ڈرائیوروں کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی صرف کاروبار نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی تشکیل پر کام کر رہی ہے جس سے ڈرائیوروں کو بہتر روزگار کے مواقع ملیں اور مسافروں کو معیاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام اور ماحول دوست اقدامات بھی متعارف کرائے جائیں گے تاکہ شہری ٹرانسپورٹ کو مزید مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر نئی کمپنیاں اپنے دعوؤں کے مطابق مناسب کرایوں، بہتر سروس اور محفوظ سفر کی سہولت فراہم کرنے میں کامیاب رہیں تو پاکستان کی رائیڈ ہیلنگ مارکیٹ میں مقابلے کی فضا پیدا ہوگی، جس سے نہ صرف مسافروں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ڈرائیوروں کے لیے بھی بہتر مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔

اسی بارے میں: