برسوں تک میں نے پراسرار وادی کیلاش کے بارے میں صرف تصاویر اور ڈاکیومنٹریز میں دیکھا تھا۔ وہاں کے رنگین تہوار، منفرد لوگ اور چترال کے پہاڑوں میں چھپی حیرت انگیز خوبصورتی ہمیشہ مجھے اپنی جانب متوجہ کرتی رہی۔ آخرکار اس سال مجھے تاریخی ‘چِلم جوشی’ فیسٹیول دیکھنے کا موقع ملا، جو کیلاش قوم کی اہم ترین ثقافتی تقریبات میں شمار ہوتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں واقع کیلاش کی تین وادیاں، بمبوریت، رمبور اور بریر، بلند و بالا ہندوکش پہاڑوں کے درمیان آباد ہیں۔ ہر سال 13 سے 17 مئی تک کیلاش برادری موسمِ گرما کی آمد کے موقع پر چِلم جوشی کا جشن مناتی ہے، جس میں موسیقی، رقص، مذہبی رسومات اور اجتماعی تقریبات شامل ہوتی ہیں۔
میرا سفر اسلام آباد سے شروع ہوا۔ چترال تک سڑک کے ذریعے پہنچنے میں تقریباً آٹھ گھنٹے لگے، جبکہ چترال سے وادی کیلاش تک مزید دو گھنٹے کا سفر طے کرنا پڑا۔ چترال سے بمبوریت تک کا راستہ اگرچہ نہایت خوبصورت تھا، مگر دشوار گزار پہاڑی سڑکوں کی وجہ سے یہاں فور بائی فور گاڑی کا استعمال زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔ تاہم راستے کی ہر مشکل اس وقت آسان محسوس ہوئی جب وادی کی خوبصورتی آہستہ آہستہ سامنے آنے لگی۔
جب میں بمبوریت پہنچا، جو تینوں وادیوں میں سب سے بڑی وادی ہے، تب تک فیسٹیول کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ کیلاش لوگ اپنی منفرد ثقافت اور قدیم روایات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں اور صدیوں سے ان وادیوں میں آباد ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق وہ سکندرِ اعظم کے اُن سپاہیوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو 326 قبل مسیح میں ہندوستانی مہم کے دوران یہاں آئے تھے، اگرچہ مؤرخین اس دعوے پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔
فیسٹیول کا ماحول واقعی سحر انگیز تھا۔ لوگ پہاڑوں سے اتر کر روایتی لباسوں میں ملبوس جشن میں شریک ہو رہے تھے۔ خواتین کے لباس رنگ برنگی کڑھائی، موتیوں اور روایتی زیورات سے سجے ہوئے تھے۔ وادی میں ڈھول کی تھاپ گونج رہی تھی جبکہ لوگ کھلے میدانوں میں رقص اور گیتوں کے ذریعے خوشی، اتحاد اور قدرت کی نعمتوں پر شکرگزاری کا اظہار کر رہے تھے۔
جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ کیلاش لوگوں کی مہمان نوازی تھی۔ انہوں نے سیاحوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔ ان کا طرزِ زندگی نہایت سادہ، پُرسکون اور فطرت کے قریب ہے۔ زیادہ تر گھر لکڑی اور پتھروں سے بنے ہوئے ہیں، جو صدیوں پرانی تعمیراتی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس وقت تقریباً چار ہزار افراد ان وادیوں میں آباد ہیں، جن کا انحصار زراعت، دستکاری، سیاحت اور سرکاری ملازمتوں پر ہے۔
کیلاش معاشرے کو نسبتاً ترقی پسند اور خواتین کو اہمیت دینے والا معاشرہ سمجھا جاتا ہے۔ خواتین سماجی زندگی، ثقافتی سرگرمیوں اور فیصلوں میں بھرپور حصہ لیتی ہیں۔ تاہم اس سال فیسٹیول کے دوران سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور سیاحوں کو خاص طور پر کیلاش خواتین کی تصاویر لینے کے حوالے سے مقامی روایات کا احترام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
جیسے ہی فیسٹیول اپنی آخری رات کی جانب بڑھا، پوری وادی ایک جادوئی ثقافتی منظر میں تبدیل ہوگئی۔ کیلاش مرد و خواتین روایتی ڈھول کی تھاپ پر دائرے بنا کر رقص کر رہے تھے جبکہ بزرگ اپنے آباؤ اجداد کی داستانیں، روایات اور لوک کہانیاں بیان کر رہے تھے۔ ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سیاح بھی اس جشن میں شریک تھے۔ پاکستان کی مختلف جامعات کے طلبہ بھی چِلم جوشی کا تجربہ حاصل کرنے کے لیے وادی پہنچے تھے۔
فیسٹیول میں مقامی افراد کی جانب سے قیمتی پتھروں اور روایتی کیلاش نوادرات کی نمائش بھی منعقد کی گئی۔ چترال کے پہاڑوں سے دریافت ہونے والی اشیا وادی کی قدیم ثقافتی اور آثارِ قدیمہ کی اہمیت کو ظاہر کر رہی تھیں۔
تاہم خوشیوں اور رقص کے پیچھے کچھ خدشات بھی پوشیدہ تھے۔ کئی مقامی افراد نے کیلاش ثقافت کو درپیش خطرات پر کھل کر بات کی۔ دلنواز نامی ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ بعض مذہبی گروہ کمیونٹی کے افراد کو مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تبلیغ کے لیے وادی کا رخ کرتے ہیں۔ دیگر افراد نے بے قابو سیاحت اور باہر سے آنے والی آبادی میں اضافے کو بھی وادی کی اصل شناخت کے لیے خطرہ قرار دیا۔
یہ خدشات نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ کیلاش صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ صدیوں پرانی ایک زندہ تہذیب ہے، جو اپنے اندر مقامی علم، روایات اور عقائد سموئے ہوئے ہے۔ اگر اس کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نایاب ثقافتی ورثہ آہستہ آہستہ معدوم ہو سکتا ہے۔
وادی کیلاش کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا جانا یقیناً امید کی ایک کرن ہے، مگر اس ثقافت کا تحفظ صرف عالمی اعتراف سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ریاست اور معاشرے دونوں کی جانب سے احترام، شعور اور کیلاشی لوگوں کے خلاف پھیلائی جانے والی من گھڑت روایات کی اجتماعی نفی ضروری ہے۔
جب میں وادی کیلاش سے واپس روانہ ہوا تو ڈھول کی گونج اب بھی میرے ذہن میں موجود تھی۔ چِلم جوشی محض ایک تہوار نہیں بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کی اصل خوبصورتی اس کے ثقافتی تنوع میں پوشیدہ ہے۔ کیلاش لوگ آج بھی ایک ایسی تہذیب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے، اور یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسلیں بھی چترال کی ان پوشیدہ وادیوں میں گونجتے چِلم جوشی کے رنگ، رقص اور داستانوں کو محسوس کر سکیں۔

