بھارت میں حالیہ دنوں میں اچانک سامنے آنے والی ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ سوشل میڈیا پر ایک وائرل سیاسی اور سماجی تحریک بن چکی ہے، جس نے صرف چند دنوں میں لاکھوں نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ ابتدا میں اسے ایک مذاق، میم یا طنزیہ مہم سمجھا جا رہا تھا، مگر اب یہ تحریک بھارت میں نوجوانوں کے غصے، بے روزگاری، مہنگائی اور سیاسی مایوسی کی علامت بنتی جا رہی ہے۔
یہ تحریک اُس وقت شروع ہوئی جب بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران کچھ نوجوانوں کو ‘کاکروچ’ اور ‘پیراسائٹس’ جیسے الفاظ سے تشبیہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ بے روزگار نوجوان میڈیا، سوشل میڈیا اور ایکٹوازم میں آ کر ہر ادارے پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ اگرچہ بعد میں چیف جسٹس نے وضاحت دی کہ ان کا اشارہ مخصوص افراد کی طرف تھا، لیکن تب تک سوشل میڈیا پر شدید ردعمل شروع ہو چکا تھا۔
اسی ردعمل کے دوران بھارت کے ایک نوجوان ابھیجیت ڈپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر طنزیہ انداز میں لکھا:
‘اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہوگا؟’
یہ ایک جملہ چند گھنٹوں میں وائرل ہو گیا۔ بعد میں انہوں نے ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے نام سے انسٹاگرام پیج، ویب سائٹ اور آن لائن ممبرشپ مہم شروع کر دی۔ حیران کن طور پر صرف چند دنوں میں اس تحریک کے لاکھوں فالوورز بن گئے اور ہزاروں نوجوانوں نے آن لائن رکنیت فارم بھر دیے۔ بعض رپورٹس کے مطابق انسٹاگرام پر اس کے فالوورز 30 لاکھ سے بڑھ کر ایک کرڑو 24 لاکھ سے بھی اوپر چلے گئے۔
اس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ اس نے بھارت کے ‘جین زی’ نوجوانوں کے جذبات کو براہِ راست چھو لیا۔ بھارت میں اس وقت نوجوان بے روزگاری، امتحانی نظام میں مبینہ کرپشن، پیپر لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور سیاسی تقسیم سے شدید پریشان ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر سال تقریباً 80 لاکھ نوجوان گریجویٹ ہوتے ہیں، مگر نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس کے الفاظ نے نوجوانوں میں غصے کی لہر پیدا کر دی۔
‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نے اپنی شناخت طنز اور مزاح کے ذریعے بنائی۔ پارٹی نے خود کو: ‘سست، بے روزگار کاکروچوں کی یونین’
قرار دیا، جبکہ اس کا ایک نعرہ یہ بھی تھا: ‘نوجوانوں کا سیاسی محاذ، نوجوانوں کے ذریعے، نوجوانوں کے لیے’
اس پارٹی کی رکنیت کے لیے طنزیہ انداز میں چار شرائط رکھی گئیں:
بے روزگار ہونا،
ہر وقت آن لائن رہنا،
سست ہونا،
اور غصہ نکالنے کی صلاحیت رکھنا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تحریک صرف مذاق تک محدود نہیں رہی۔ اس نے جلد ہی سیاسی مطالبات بھی سامنے رکھنا شروع کر دیے۔ پارٹی کے آن لائن منشور میں امتحانی نظام میں شفافیت، ریٹائرڈ ججوں کو سرکاری عہدے نہ دینے، خواتین کے لیے زیادہ نمائندگی، آزادی اظہارِ رائے اور سیاسی کرپشن کے خلاف اقدامات جیسے نکات شامل کیے گئے۔
اس تحریک کی ایک اور بڑی وجہ اس کا نام بھی بنا۔ ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نام دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر طنز سمجھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ اور زیادہ وائرل ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں نوجوانوں نے اس کے میمز، ویڈیوز، پوسٹرز اور طنزیہ تقاریر شیئر کرنا شروع کر دیں۔
کئی اپوزیشن سیاستدان، صحافی اور سماجی کارکن بھی اس تحریک کی حمایت کرتے نظر آئے۔ بعض بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف ایک انٹرنیٹ مذاق نہیں بلکہ نوجوانوں کی سیاسی مایوسی کا نیا اظہار ہے۔ کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس تحریک کے پیچھے مصنوعی ذہانت بھی استعمال ہوئی۔ ابھیجیت ڈپکے نے خود اعتراف کیا کہ پارٹی کا لوگو، منشور اور ابتدائی ڈیزائن مصنوعی ذہانت کے ٹولز کی مدد سے چند گھنٹوں میں تیار کیے گئے تھے۔
فی الحال ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ بھارت میں باقاعدہ رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں ہے، لیکن اس کی سوشل میڈیا مقبولیت نے بھارتی سیاست، عدلیہ اور نوجوانوں کے مسائل پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوانوں کا یہی غصہ بڑھتا رہا تو یہ طنزیہ تحریک مستقبل میں ایک حقیقی سیاسی یا سماجی پلیٹ فارم کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔

