شیزان پاکستان کے اُن چند مشروباتی برانڈز میں شامل ہے جنہوں نے کئی نسلوں کی یادوں میں اپنی جگہ بنائی۔ ایک وقت تھا جب گرمیوں کی چھٹیوں، مہمان نوازی، اسکول لنچ اور عید کے دنوں میں شیزان کا جوس تقریباً ہر پاکستانی گھر میں موجود ہوتا تھا۔ خاص طور پر ‘شیزان مینگو’ پاکستان کے سب سے مقبول مشروبات میں شمار کیا جاتا تھا۔
شیزان کمپنی کی بنیاد 1964 میں لاہور میں رکھی گئی۔ ابتدا میں یہ کمپنی پھلوں سے بنی مصنوعات، جام، کیچپ اور بوتل بند جوس تیار کرتی تھی۔ بعد میں اس نے آم، مالٹا، انگور، سیب اور دیگر پھلوں کے جوس متعارف کرائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شیزان پاکستان کی پہلی بڑی کمپنیوں میں شامل تھی جس نے باقاعدہ فروٹ جوس انڈسٹری کو جدید انداز میں متعارف کرایا۔ اُس دور میں زیادہ تر لوگ گھروں میں شربت یا تازہ جوس پیتے تھے، لیکن شیزان نے تیار پیک جوس کو ایک نئی ثقافت بنا دیا۔
1970 اور 1980 کی دہائی میں شیزان خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں بے حد مقبول ہوا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اس کا ذائقہ، گاڑھا پن اور آم کے قدرتی فلیور جیسا احساس تھا۔ اُس وقت پاکستان میں بین الاقوامی کولڈ ڈرنک برانڈز محدود تھے، اس لیے شیزان کو مقامی اور خاندانی برانڈ کے طور پر بہت اعتماد حاصل ہوا۔
ماضی میں شیزان کی بوتلیں اور ڈبے اکثر شادیوں، عید، اسکول فنکشنز اور مہمان داری میں لازمی سمجھے جاتے تھے۔ کئی گھروں میں فریج میں شیزان رکھنا ایک طرح کی ‘اسٹیٹس چیز’ تصور ہوتی تھی، خاص طور پر 1980 اور 1990 کی دہائی میں۔
شیزان کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ کمپنی پاکستان میں آم کے بڑے باغات کی مالک تھی، جس کے باعث اسے معیاری پھل براہِ راست حاصل ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ شیزان مینگو کو دوسرے جوسز کے مقابلے میں زیادہ ‘اصلی’ سمجھتے تھے۔
کم لوگوں کو معلوم ہے کہ شیزان نے ابتدا میں جوس محفوظ رکھنے کے لیے شدید گرمی کے مسئلے کا سامنا کیا تھا، کیونکہ پاکستان کے موسم میں بوتل بند جوس جلد خراب ہو جاتا تھا۔ کمپنی نے کئی سال تحقیق کے بعد ایسا نظام بنایا جس سے جوس زیادہ دیر تک محفوظ رہ سکے۔
1980 کی دہائی میں کراچی میں الگ پروڈکشن یونٹ قائم کیا گیا تاکہ سندھ اور ایکسپورٹ مارکیٹ کی طلب پوری کی جا سکے۔ بعد میں ٹیٹرا پیک پلانٹ بھی لگایا گیا، جس نے شیزان کو جدید پیکنگ میں منتقل کر دیا۔
شیزان صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے امریکہ، کینیڈا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں بھی پاکستانی کمیونٹی میں بڑی مقبولیت حاصل کی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے شیزان مینگو ایک جذباتی یادگار ذائقہ سمجھا جاتا تھا۔
1980 اور 1990 کی دہائی کے اشتہارات میں زیادہ زور خاندان، گرمیوں، اسکول سے واپس آتے بچوں، عید اور مہمان نوازی پر دیا جاتا تھا۔ اُس وقت اشتہارات میں ٹھنڈے جوس کے گلاس، آم کے باغات، خوش خاندان اور بچوں کی ہنسی نمایاں دکھائی جاتی تھی تاکہ شیزان کو ‘گھریلو پاکستانی برانڈ’ کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
کم لوگوں کو معلوم ہے کہ پرانے اشتہارات میں شیزان کی زرد رنگ کی بوتل اور مینگو ڈرنک کا رنگ اتنا مشہور ہوا کہ کئی لوگ صرف بوتل دیکھ کر برانڈ پہچان لیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ شیزان مینگو ایک وقت میں پاکستان کے سب سے زیادہ یاد رکھے جانے والے جوسز میں شمار ہوتا تھا۔
شیزان کے اشتہارات میں اُس دور کے دوسرے کولڈ ڈرنک برانڈز کے مقابلے میں شور شرابے یا گلیمر کے بجائے ‘خاندانی سکون’ اور ‘قدرتی ذائقے’ پر زور دیا جاتا تھا، اور یہی چیز اسے پاکستانی گھروں میں خاص بناتی تھی۔
1990 اور 2000 کی دہائی میں جب غیر ملکی برانڈز اور کاربونیٹڈ ڈرنکس کی بھرمار ہوئی، تب بھی شیزان نے اپنی جگہ برقرار رکھی۔ خاص طور پر رمضان، گرمیوں اور اسکول لنچ میں شیزان آج بھی ایک مضبوط نام سمجھا جاتا ہے۔
شیزان کے مشہور فلیورز میں ‘مینگو’، ‘ایپل’، ‘گواوا’، ‘فروٹ کاک ٹیل’، ‘لیمن بارلے’ اور بعد میں ‘ٹوئسٹ’ شامل رہے۔ ‘لیمن بارلے’ ایک وقت میں پاکستان کے سب سے منفرد مشروبات میں شمار ہوتا تھا کیونکہ اسے گرمی میں ٹھنڈک دینے والا مشروب سمجھا جاتا تھا۔
پاکستان میں شیزان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کی خاندانی مارکیٹنگ بھی تھی۔ اس کے اشتہارات میں ہمیشہ خاندان، بچے، گرمیوں کی خوشی اور پھلوں کی تازگی دکھائی جاتی تھی، جس نے اسے صرف ایک جوس نہیں بلکہ پاکستانی گھریلو کلچر کا حصہ بنا دیا۔
آج بھی بہت سے پاکستانی جب بچپن کی یادوں، اسکول کے دنوں یا پرانی گرمیوں کا ذکر کرتے ہیں تو شیزان مینگو کا نام ضرور آتا ہے، اور یہی چیز اسے پاکستان کے سب سے یادگار مشروباتی برانڈز میں شامل کرتی ہے۔

