‘جیئے سندھ’ نعرے کے بانی ‘بابائے سندھ’ کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی آج 56ویں برسی

بابائے سندھ

‘جیئے سندھ’ کے نعرے کے بانی، حیدر بخش جتوئی سندھ دھرتی کے وہ عظیم سپوت، انقلابی رہنما، دانشور اور شاعر تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی سندھ کے ہاریوں، مزدوروں اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے وقف کر دی۔ عوام انہیں محبت سے ‘بابائے سندھ’ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔

کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی زندگی، جدوجہد اور سندھ کی سیاست پر اُن کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو وہ ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں جنہوں نے ظلم، جاگیرداری اور استحصالی نظام کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔

کامریڈ حیدر بخش جتوئی 7 اکتوبر 1901 کو ضلع لاڑکانہ کے ایک گاؤں میں ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق جتوئی قبیلے سے تھا۔ بچپن ہی میں والدین کی شفقت سے محروم ہو گئے، مگر اپنی محنت، ذہانت اور عزم کے باعث تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

ابتدائی اور ثانوی تعلیم لاڑکانہ میں حاصل کی، جبکہ 1927 میں بمبئی یونیورسٹی سے DJ سندھ کالج کے ذریعے بی اے آنرز فرسٹ کلاس میں پاس کیا۔ اُس دور میں وہ ایک نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی اور ڈپٹی کلیکٹر (ریونیو آفیسر) کے عہدے تک پہنچے۔ ملازمت کے دوران انہوں نے اپنی آنکھوں سے ہاریوں اور غریب عوام پر جاگیرداروں، وڈیروں اور سرکاری مشینری کے مظالم دیکھے۔

1944 میں جب وہ کلیکٹر کے عہدے پر ترقی پانے والے تھے، تو انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تاکہ سندھ کے مظلوم ہاریوں کی عملی خدمت کر سکیں۔ یہ فیصلہ سندھ کی تاریخ میں ایک عظیم قربانی سمجھا جاتا ہے۔

سرکاری ملازمت چھوڑنے کے بعد انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور سندھ ہاری کمیٹی کی قیادت سنبھالی، جس کی بنیاد 1930 میں رکھی گئی تھی۔ ان کی قیادت میں اس تحریک میں نئی روح پیدا ہوئی۔

انہوں نے ‘ادھو ادھ’ (بٹائی) تحریک کے ذریعے ہاریوں کو فصل میں جائز حصہ دلانے کے لیے سندھ بھر میں جلسے، جلوس اور احتجاجی مارچ منظم کیے۔ ان کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں حکومت 1950 میں Sindh Tenancy Act 1950 منظور کرنے پر مجبور ہوئی، جو ہاریوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم تھا۔

1947 میں انہوں نے سندھ اسمبلی کے باہر ہزاروں ہاریوں کا تاریخی گھیراؤ کرایا، جس سے جاگیردارانہ نظام کے ایوان لرز اٹھے۔ بعد ازاں 1954 میں جب مغربی پاکستان کے صوبوں کو ملا کر ‘ون یونٹ’ قائم کیا گیا، تو کامریڈ حیدر بخش جتوئی اس کے سخت ترین مخالفین میں شامل تھے۔ انہوں نے ون یونٹ کے خلاف متعدد کتابچے تحریر کیے اور عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا۔ اسی جدوجہد کے باعث انہیں کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔

کامریڈ حیدر بخش جتوئی صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کے شاعر، ادیب اور صحافی بھی تھے۔ انہوں نے شاعری کو عوامی بیداری کا ذریعہ بنایا۔ ‘ہاری حقدار’ کے نام سے اخبار جاری کیا، جو سندھ کے ہاریوں اور مظلوم طبقات کی آواز بن گیا۔

ان کا مشہور انقلابی نظم:
‘جیئے سندھ، جیئے سندھ، جامِ محبت پیئے سندھ’

آج بھی سندھ کے قومی شعور اور عوامی جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ان کی مشہور تصنیف ‘شکوہ’ بھی ایک شاہکار مانی جاتی ہے، جس میں مظلوم انسانوں کے دکھ درد کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ان کی پوری زندگی جیلوں اور قید و بند کی صعوبتوں میں گزری۔ ایوب خان کے دورِ آمریت میں انہیں کئی برس تک قید رکھا گیا۔ سخت حالات اور مسلسل جدوجہد کے باعث ان کی صحت شدید متاثر ہوئی، مگر انہوں نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

سندھ کے غریبوں، ہاریوں اور مظلوم عوام کا یہ عظیم رہنما طویل علالت کے بعد 21 مئی 1970 کو حیدرآباد میں وفات پا گیا۔ انہیں غلام شاہ کلہوڑو مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔

کامریڈ حیدر بخش جتوئی سندھ کی تاریخ کا وہ روشن مینار ہیں جنہوں نے جاگیردارانہ نظام کے سامنے جھکنے کے بجائے ہمیشہ محنت کش طبقے کا ساتھ دیا۔ ‘بابائے سندھ’ کا لقب انہیں عوام نے ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں دیا۔ آج بھی سندھ کی سیاست، ہاری تحریک اور قومی شعور میں ان کے نظریات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔