ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب سے وزیراعظم اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی غیر موجودگی کیا پیغام دے رہی ہے؟

ایوانِ صدر

13 مئی 2026 کو ایوانِ صدر میں اعلیٰ سول اعزازات تقسیم کرنے کی ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مختلف شخصیات کو ان کی زندگی میں، نیز شہادت اور وفات کے بعد، اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا۔

ایوانِ صدر میں منعقد ہونے والی اس نوعیت کی تقریبات، خصوصاً 23 مارچ یا 14 اگست کے موقع پر، ایک مخصوص ریاستی پروٹوکول کے تحت منعقد کی جاتی ہیں۔ ‘رولز آف بزنس’ اور ‘اسٹیٹ پروٹوکول’ کی روشنی میں اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

صدارتی پروٹوکول اور تقریب کی ترتیب

ایوانِ صدر کی تقریب کے مرکزی میزبان صدرِ پاکستان ہوتے ہیں۔ تقریب کا آغاز صدارتی بگی یا مخصوص پروٹوکول کے تحت صدر کی آمد اور قومی ترانے سے کیا جاتا ہے۔

تقریب میں نشستوں کی ترتیب ‘پریسیڈینس آرڈر’ کے مطابق ہوتی ہے۔ پہلی صف میں صدر، وزیراعظم، چیف جسٹس اور سروسز چیفس بیٹھتے ہیں۔

وزیراعظم کی شرکت کی اہمیت

وزیراعظم ملک کے انتظامی سربراہ ہوتے ہیں۔ ریاستی تقریبات میں صدر اور وزیراعظم کی مشترکہ موجودگی ملکی وحدت اور سیاسی استحکام کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

رولز کے مطابق بڑی سرکاری تقریبات میں وزیراعظم کی شرکت ضروری سمجھی جاتی ہے، الا یہ کہ کوئی ہنگامی سرکاری دورہ یا طبی مجبوری درپیش ہو۔ وزیراعظم کی موجودگی اعزاز حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور حکومتی توثیق کی علامت ہوتی ہے۔

مسلح افواج کے سربراہان کی شرکت

آرمی چیف، نیول چیف اور ایئر چیف کی شرکت دفاعی اور قومی وقار کے حوالے سے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ اگر اعزازات فوجی نوعیت کے ہوں، جیسے ہلالِ امتیاز یا ستارۂ بسالت، تو متعلقہ سروسز چیفس کی شرکت پروٹوکول کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔

سول اعزازات کی تقریبات میں بھی، خصوصاً قومی دنوں پر، ان کی موجودگی ریاستی استحکام اور یکجہتی کا پیغام دیتی ہے۔

رولز کے مطابق اہم نکات

تقریب کے تمام انتظامات صدر کے ملٹری سیکریٹری اور کابینہ ڈویژن مشترکہ طور پر ترتیب دیتے ہیں۔

صدرِ پاکستان اعزازات عطا کرتے ہیں، جبکہ کابینہ سیکریٹری اعزاز حاصل کرنے والوں کے نام پڑھ کر سناتے ہیں۔

سرکاری دعوت نامہ موصول ہونے کے بعد وفاقی وزرا، اعلیٰ افسران اور مقررہ عہدیداروں کی شرکت بھی پروٹوکول کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔

وزیراعظم اور فوجی سربراہان کی شرکت نہ صرف ایک قانونی اور انتظامی تقاضا ہوتی ہے بلکہ ریاستی تشخص کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔ رولز کے مطابق ایسی تقریبات ریاست کے ‘سول ملٹری اتحاد’ اور ‘آئینی وقار’ کی عکاسی کرتی ہیں، اس لیے ان کی غیر موجودگی صرف غیر معمولی حالات میں ہی ممکن ہوتی ہے۔

تاہم ایک عرصے سے ملک کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اہم قومی معاملات میں نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو بھی مسلسل نظر انداز کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے باوجود آصف علی زرداری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کے موڈ میں نظر نہیں آتے، کیونکہ انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ ایسی کشیدگی کی انہیں بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

فی الحال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری اس بات پر اکتفا کیے ہوئے ہیں کہ ‘جو ہو رہا ہے، ہونے دیا جائے، بس سندھ حکومت کو بمبئی بیکری کے کیک کی طرح کھانے دیا جائے’۔

مگر آنے والے وقت میں ‘اٹھائیسویں آئینی ترمیم’ آصف علی زرداری کے لیے ایک زہریلے سانپ کی مانند پھن پھیلائے کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

اسی بارے میں: