آنر ان ماسکڈ’ کھلتا پردہ: کارو کاری: غیرت کے نام پر عورت کو ‘کلمہ پڑھا کر’ ذبح کیا جاتا ہے

اب ہم سیدھا اس کی کتاب کی طرف چلتے ہیں، جس میں شمالی سندھ کے کھجوروں کے خوبصورت باغات اور دریائے سندھ کے کچے کے گھنے جنگلات کے علاوہ بھی بہت کچھ موجود ہے۔ اس کی یہ کتاب دراصل آکسفورڈ یونیورسٹی سے کی گئی اس کی پی ایچ ڈی کی تھیسس ‘Honour Unmasked’ ہے۔

اس لیے جس نے شمالی سندھ کو گاؤں گاؤں گھوم کر نہیں دیکھا، جو صرف ہائی وے سے گزرا ہے، اسے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ شمالی سندھ صرف سڑک کے دونوں طرف کھجوروں کے گھنے باغات جیسا خوبصورت ہے، یا جس نے اسے صرف سادھ بیلے جانے والی کشتی میں دیکھا ہے، یا خیرپور کے میر صاحبان کے محل کی خوبصورت عمارتوں میں دیکھا ہے، وہ یہ کتاب ضرور پڑھے۔

یہ کتاب آپ کو شمالی سندھ کے اندر روح کے ان زخموں تک لے جاتی ہے، جہاں ایک عورت اپنے بھائی، شوہر، دیور، سسر اور باپ کے سامنے اکیلی کھڑی ہے، اور ان سب کے ہاتھوں میں بندوقیں، کلہاڑیاں اور ریوالور ہیں۔

یہ کتاب آپ کو وہاں لے جاتی ہے جہاں ایک برادری دوسری برادری کے لوگوں کو قتل کر رہی ہے۔ روزانہ کسی نہ کسی برادری کا فرد مارا جاتا ہے۔ اس کتاب میں 1998 سے 2004 تک کی جدوجہد شامل ہے۔ وہ لکھتی ہے کہ شمالی سندھ میں ایک بھی ایسا دن نہیں گزرتا جس میں کارو کاری کا کوئی کیس نہ ہو۔

ایسے واقعات بھی ملتے ہیں کہ نو سال کی بچی کو بھی کارو کاری کے الزام میں قتل کر دیا گیا۔ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ‘کارو کاری’ کی اصطلاح بھی میڈیا کے کاروبار کا ایک حصہ بن گئی، جسے میڈیا نے ایک جنس بنا کر بیچا۔ جہاں پہلے یہ خبریں بیک پیج پر تصاویر کے ساتھ چھپتی تھیں، وہیں بعد میں فرنٹ پیج پر بھی آنے لگیں۔ صحافیوں نے کارو کاری کو رومانوی انداز میں پیش کیا۔

وہ لکھتی ہے کہ یہ رسم اصل میں پختونوں کی تھی، جہاں سے بلوچ قبائل تک پہنچی اور پھر سندھ میں ‘کارو کاری’ کے نام سے رائج ہوئی۔ لیکن یہ رسم نہ تو شمالی سندھ کے ہندوؤں میں ہے، نہ ہی کسی سردار یا وڈیرے کی بیٹی یا بیوی کو کبھی کارو قرار دے کر قتل کیا گیا ہے۔ کارو کاری کا نشانہ صرف غریبوں کی بیٹیاں بنتی ہیں۔

یہ رسم جہاں میڈیا کے لیے کاروبار تھی، وہیں سرداروں اور چیف سرداروں کے لیے بھی منافع بخش تھی۔ اسی طرح این جی اوز اور نام نہاد سول سوسائٹی کے لیے بھی یہ ایک پروجیکٹ تھا، جس سے انہوں نے کروڑوں کمائے۔

وہ اس رسم پر بات کرتے ہوئے کئی محاوروں کا ذکر کرتی ہے، جو پورے سندھ میں استعمال ہوتے ہیں۔ خاص طور پر عورت کو ‘بانہہ’ کہا جاتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے: ‘میری بانہہ واپس کرو’۔ اسی طرح عورت کو ‘سنگ’ (رشتہ) بھی کہا جاتا ہے۔

وہ لکھتی ہے کہ گھر میں جوان ہونے والی لڑکی کو اکثر گھر کے مردوں، چاہے وہ بھائی ہوں یا باپ، کے سامنے بولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ وہ بڑی عمر کی عورتوں کے سامنے بھی اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتی۔ وہ یہ بھی محسوس کراتی ہے کہ سندھی معاشرے میں عورت کا استحصال عورت نے بھی کیا ہے۔

ایسی لڑکی کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اگر کسی بوڑھی عورت کو بھی باہر جانا ہو تو اس کے ساتھ ایک کم عمر لڑکے کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے سندھ میں عورت کو ‘بچہ’ بھی کہا جاتا ہے۔

وہ اپنی تحقیق کے ذریعے سندھی معاشرے کے چہرے پر چڑھے نقاب اتارنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ لکھتی ہے کہ جب کسی عورت کو کارو قرار دے کر گولی ماری جاتی ہے تو اسے ‘کلمہ پڑھنے’ کو کہا جاتا ہے، جیسے جانور کو ذبح کرتے وقت کہا جاتا ہے۔ قاتل کو بعد میں دودھ پلایا جاتا ہے۔

اکثر واقعات میں عورت کو گولی مار کر قتل کیا جاتا ہے۔ اس تھیسس میں کئی کیس اسٹڈیز شامل ہیں۔ ایک واقعہ ایک جوتے کے دکاندار کا ہے، جس پر محض اس لیے الزام لگا دیا گیا کہ اسے عورت کے جوتے کا سائز معلوم تھا۔

ایک واقعہ دو خطوط کا ہے، اور ایک تازہ قبر کا، جس پر فاتحہ پڑھنے والے کو بھی کارو قرار دے دیا گیا۔

وہ لکھتی ہے کہ جو عورتیں ‘سنگ چٹی’ میں دی جاتی ہیں، وہ دوبارہ اپنے گھر یا گاؤں نہیں لوٹتیں، چاہے باپ مر جائے یا بھائی کی شادی ہو۔

تحقیق کے مطابق، زیادہ تر کیسز میں مرد اور عورت کو ایک ساتھ قتل نہیں کیا جاتا، اکثر صرف عورت کو مارا جاتا ہے، جبکہ مرد جرمانہ دے کر بچ نکلتا ہے اور ‘کارو’ سے ‘لال’ (بری) ہو جاتا ہے۔

کئی زخمی عورتیں آج بھی وڈیروں اور سرداروں کی حویلیوں میں غلامی جیسی زندگی گزار رہی ہیں۔ زیادہ تر کیسز میں عورت کو مارنے والا اس کا قریبی رشتہ دار ہوتا ہے، جیسے بھائی، باپ، سسر یا دیور۔ شوہر کے ہاتھوں قتل کے کیس کم رپورٹ ہوتے ہیں۔

کتاب میں ایسے مناظر بھی ہیں جہاں عورتیں قرآن سر پر رکھ کر اپنی بے گناہی کی قسمیں کھاتی ہیں، یا بچوں کو گود میں لے کر التجائیں کرتی ہیں، مگر پھر بھی قتل کر دی جاتی ہیں۔

میڈیا میں صرف وہی کیس سامنے آتے ہیں جن میں عورت مار دی جاتی ہے۔ اکثر کیسز میں مدعی بھی قاتل کا قریبی رشتہ دار ہوتا ہے، اس لیے بہت سے معاملات عدالت سے باہر ہی نمٹا دیے جاتے ہیں۔

کبھی کبھی بوڑھی عورت کو بھی اس کا اپنا بیٹا قتل کرتا ہے۔ کئی قبائلی جھگڑے بھی عورتوں کے نام پر ہوتے ہیں۔ زینب اور تہمینہ کا کیس بھی اس کتاب میں شامل ہے، جس پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا، مگر وہ بھی جرگے میں ختم ہو گیا۔

کارو کاری کے پیچھے صرف غیرت نہیں ہوتی بلکہ زمین، برادری کے جھگڑے اور دیگر مفادات بھی ہوتے ہیں۔ مرد اکثر طعنوں سے بچنے اور اپنی عزت ثابت کرنے کے لیے عورتوں کو قتل کرتے ہیں۔

وہ لکھتی ہے کہ ‘غیرت’ کا لفظ عربی میں ‘جلن’ کے معنی رکھتا ہے، جبکہ بلوچ سردار اسے غصہ کہتے ہیں، اور سندھی میں یہ عورت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اس میں ‘حق بخشوانے’ کی رسم کا بھی ذکر ہے، جس میں عورتیں اکیلی زندگی گزارتی ہیں اور بھائیوں کے بچوں کو پالتی ہیں۔

یہ کتاب برطانوی دور تک بھی جاتی ہے، جہاں جان جیکب اور چارلس نیپئر کا ذکر ہے، جنہوں نے کارو کاری کے خلاف قانونی کارروائی کی بات کی تھی۔ اسی دور میں سرداروں کو قانونی اختیارات ملے اور جرگے قائم ہوئے۔ آپ اس محنت کو خود پڑھیں، یہ صرف ایک مختصر تعارف ہے۔ یہ تمام باتیں نفیسہ شاہ اور ان کی تھیسس سے ماخوذ ہیں۔

اسی بارے میں: