بینک آپ سے ایک عام ایس ایم ایس کے نام پر کتنی رقم وصول کر رہے ہیں؟

کراچی میں کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے بینکوں کی جانب سے عائد کیے گئے بھاری ایس ایم ایس چارجز پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے صارفین کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق 2021 میں ایک ایس ایم ایس کی قیمت 0.42 روپے تھی، جو اب بڑھ کر 3.40 روپے ہو چکی ہے، جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔

کنزیومرز ایسوسی ایشن کے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کوکب اقبال نے کہا کہ بینک اس مد میں صارفین سے اربوں روپے وصول کر رہے ہیں، جو دراصل اوورچارجنگ اور کھلی استحصال کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک ان چارجز کو سیکیورٹی اور ٹرانزیکشن الرٹس کے نام پر جائز قرار دیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک ایس ایم ایس بھیجنے کی اصل لاگت صرف ایک سے دو پیسے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل لاگت اور صارفین سے وصول کی جانے والی رقم کے درمیان یہ فرق شفافیت اور انصاف پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اس اہم مسئلے کے باوجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھا سکا۔

کوکب اقبال نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے کو باضابطہ طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ کے سامنے اٹھا دیا ہے تاکہ فوری مداخلت کی جائے اور ذمہ دار بینکوں کے خلاف کارروائی ہو۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیٹ بینک فوری طور پر ان چارجز کی تحقیقات کرے، متعلقہ بینکوں کو جوابدہ ٹھہرائے اور صارفین سے زائد وصول کی گئی رقم واپس کروائے۔ ساتھ ہی انہوں نے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن سے بھی مطالبہ کیا کہ ٹیلی کام کمپنیوں سے ایس ایم ایس سروسز کی قیمتوں کی وضاحت طلب کی جائے تاکہ اوور بلنگ کو روکا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صارفین کو آسان آمدنی کا ذریعہ نہیں سمجھا جا سکتا، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مفاد کا تحفظ کرے اور مالیاتی نظام میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنائے۔

کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک بھر میں صارفین کے حقوق کے لیے اپنی آواز اٹھاتی رہے گی۔