[rank_math_breadcrumb]

ہیروشیما پر ایٹم بم گرنے کی کہانی: جدید دور ایسا حملہ ہوا تو کیا نقصان ہوسکتا ہے؟

سال تھا 1945، چھ اگست کی صبح آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر دنیا ایک خوفناک دھماکے کے ساتھ بدل گئی۔
یہ تباہ کن دھماکہ تھا پہلے ایٹمی حملے کا، جب امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹمی بم گرایا۔

دوسری عالمی جنگ میں شامل ہونے کے ایک سال بعد جاپانی ایئر فورس نے امریکہ میں ہوائی کے پرل ہاربر پر 7 دسمبر 1941 کو فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 2,400 امریکی اہلکار جاں بحق ہوئے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس حملے کے بعد امریکہ نے نیو میکسیکو میں ایک خفیہ منصوبے پر کام شروع کیا، جس میں نیوکلیئر فیوژن کے ذریعے دنیا کا ‘پہلا ایٹم بم’ تیار کیا گیا۔

جب دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کے ہتھیار ڈالنے کے بعد جاپان مسلسل امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملے جاری رکھے ہوئے تھا، تو امریکہ کے لیے جاپان کو قابو کرنا آسان نہیں تھا۔
جنگ بندی کے لیے امریکی الٹی میٹم ختم ہوا اور جاپان نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا، تو امریکہ نے جاپان کو سبق سکھانے کے لیے ایٹم بم گرانے کا فیصلہ کیا۔

کئی کتابوں کے مصنفین نے لکھا کہ ایٹمی حملے سے قبل کئی امریکی جہاز ہیروشیما کی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور چکر لگاتے ہوئے واپس چلے گئے۔ جاپانی فورسز کے پاس اتنا فیول بھی باقی نہیں تھا کہ وہ امریکی جہازوں کو روک سکتے۔
ان جہازوں میں سے ایک نے اپنے ٹارگٹ پر عمل کرتے ہوئے ‘اینولا گے’ کو حملے کے لیے گرین سگنل دیا۔

ہیروشیما کی فضاؤں میں اڑتے ہوئے امریکی جہاز ‘اینولا گے’ کے پائلٹ پال ٹیبٹس نے آٹھ بج کر تیرہ منٹ پر ساتھیوں کو حتمی اشارہ دیا۔
اور آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر جہاز ‘اینولا گے’ سے ‘لٹل بوائے’ نامی ایٹم بم گرایا گیا۔بم کو نیچے آنے میں 43 سیکنڈ لگے۔امریکی جہاز کے پاس بم گرا کر واپس جانے کے لیے صرف 45 سیکنڈ کا وقت تھا۔بم زمین سے 580 میٹر کی بلندی پر پھٹا۔زمین سے بلندی پر بم پھٹنے کی حکمت عملی اس لیے اپنائی جاتی ہے تاکہ تباہی دور دور تک پھیلے۔

دھماکہ ہوتے ہی سفید دھوئیں کا ایک ریلہ تین ہزار فٹ تک اٹھا، کو پائلٹ کیپٹن رابرٹ لوئس نے اپنی لاگ بک میں لکھا:
‘مائی گاڈ، واٹ ہیو وی ڈن’۔

اس آپریشن میں شامل امریکی اہلکاروں نے بتایا کہ انہوں نے کامیابی سے اپنا کام مکمل کیا۔مورخین لکھتے ہیں کہ ایٹمی بم گرنے کے بعد ایک قیامت کا منظر تھا۔بم پھٹتے ہی متاثرہ مقام کا درجہ حرارت تیس لاکھ سینٹی گریڈ سے بھی اوپر جا چکا تھا، جو سورج کی تپش سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

چند ہی لمحوں میں کئی کلومیٹر تک ایسی تباہی برپا ہوئی کہ ہیروشیما کے تقریباً 350,000 شہریوں میں سے 80,000 انسانوں کو تکلیف سے چیخنے کا بھی موقع نہیں ملا اور وہ راکھ کا ڈھیر بن گئے۔

امریکہ نے تین روز بعد ناگاساکی پر دوسرا بم گرایا، جس میں 240,000 شہریوں میں سے 40,000 افراد فوری ہلاک ہو گئے۔
اور 1945 کے اختتام تک مرنے والوں کی مجموعی تعداد 200,000 سے تجاوز کر گئی تھی۔ مورخین نے لکھا ہے کہ یہ قیامت کا منظر تھا۔دو شہر صفحہ ہستی سے مٹ چکے تھے، راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے۔

تابکاری شعاعوں کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے اور زندہ بچ جانے والوں میں کئی افراد بیماریوں کا شکار ہو کر مرنے لگے۔
لوگوں کے بال گرنے کی بیماری عام ہو گئی، اور جن لوگوں کے بال گرتے وہ چند ہی روز میں مر جاتے۔ جو زندہ بچے، ان کے لیے زندہ رہنا مر جانے سے زیادہ مشکل تھا۔

تابکاری شعاعوں کے اثرات سے طویل عرصے تک لوگ مرتے رہے اور زندہ بچ جانے والے خوفناک بیماریوں میں مبتلا ہوتے رہے۔
یہ اثرات کئی نسلوں تک منتقل ہوئے۔ذہنی و نفسیاتی بیماریاں پھیلنے لگیں، جسمانی نقائص والے بچے پیدا ہونے لگے۔ عورتوں میں بانجھ پن اور تولیدی مسائل جنم لینے لگے، حمل کے دوران پیچیدگیاں عام ہو گئیں۔

دنیا آج بھی خوفزدہ ہے، کہ اگر 80 سال پہلے ایٹمی حملوں کے ایسے بھیانک نتائج سامنے آئے تھے، تو آج کے دور میں جدید ٹیکنالوجی سے تیار کیے گئے ایٹم بم استعمال ہوئے تو کیا ہوگا؟

اسی بارے میں: