کلائمیٹ فنانس لینے کے لیے کشکول نہیں، مہارت چاہیے

کلائمیٹ

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں اور ماہرین کے مطابق پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جو اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، پانی کی کمی اور زرعی پیداوار میں اتار چڑھاؤ اب محض وقتی حادثات نہیں رہے بلکہ معیشت پر مستقل دباؤ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی پر اب تک ہونے والے سب سے بڑے معاہدے پیرس ایگریمنٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک جو اپنے کاربن اخراج کی بھاری مقدار کے باعث موسمیاتی تبدیلی کے زیادہ ذمہ دار ہیں، وہ موسمیاتی اثرات سے بچاؤ کی مد میں ان ترقی پذیر ممالک کی مالی طور پر مدد کریں گے جو مذکورہ اثرات سے زیادہ متاثر ہیں، اور پاکستان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے۔

تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا موسمیاتی مالی امداد خود بخود پاکستان تک پہنچ جائے گی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ کلائمیٹ فنانس کو خیراتی امداد سمجھنا بڑی غلط فہمی ہے۔ یہ وسائل نہ تو ہمدردی کی بنیاد پر تقسیم ہوتے ہیں اور نہ ہی سیاسی بیانات سے حاصل ہوتے ہیں۔ انہیں حاصل کرنے کے لیے مضبوط مالیاتی ڈھانچہ، واضح منصوبہ بندی، شفاف نظام اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد درکار ہوتا ہے۔

ماضی کی مثال: جب امداد آسانی سے ملتی تھی

ماضی میں حالات مختلف تھے۔ سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے دوران، جب روس کی افواج افغانستان میں موجود تھیں، اور بعد ازاں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران، پاکستان کو بھاری مالی امداد اور گرانٹس نسبتاً آسانی سے ملتی رہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اُس وقت عالمی طاقتوں کے لیے پاکستان کو مالی طور پر مستحکم رکھنا ایک اہم ضرورت تھی۔ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان کا معاشی طور پر فعال رہنا ان کے لیے ناگزیر تھا۔

یعنی امداد صرف ضرورت مند ہونے کی بنیاد پر نہیں بلکہ عالمی سیاسی ترجیحات کے تحت فراہم کی جاتی تھی۔

موسمیاتی امداد کا معاملہ مختلف کیوں ہے؟

موسمیاتی تبدیلی کے معاملے میں صورت حال یکسر مختلف ہے۔ اس بحران سے متاثرہ ممالک کی فہرست چند ایک نہیں بلکہ سینکڑوں پر مشتمل ہے۔ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور بحرالکاہل کے جزیرہ ممالک سبھی خود کو موسمیاتی خطرات کی صفِ اول میں قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں وسائل محدود ہیں جبکہ دعوے دار بہت زیادہ ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مسابقتی ماحول میں صرف وہی ممالک خاطر خواہ مالی معاونت حاصل کر سکیں گے جو خود کو قابلِ اعتماد اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں ثابت کریں۔ یعنی موسمیاتی منصوبے صرف نقصانات کے ازالے کے لیے نہیں بلکہ معیشت کو مضبوط بنانے کے قابل بھی ہونے چاہییں۔

کلائمیٹ فنانس دراصل ہے کیا؟

سادہ الفاظ میں، کلائمیٹ فنانس وہ سرمایہ ہے جو تین بنیادی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے:
اول، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ اور موافقت (مثلاً سیلاب سے تحفظ، خشک سالی سے نمٹنے کے نظام)۔
دوم، موسمیاتی آفات سے ہونے والے نقصان اور خسارے کے ازالے کے لیے۔
سوم، موسمیاتی تبدیلی کی وجوہات جیسے فوسل فیول کے استعمال اور زراعت کے مشینی طریقوں کی حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ متبادل ذرائع توانائی اور طریقِ زراعت کی طرف منتقلی کے لیے۔

لیکن ان تمام مقاصد کے لیے اولاً خالص امداد تو ملتی ہی نہیں ہے، اور آسان شرائط پر قرضوں اور سرمایہ کاری کی شکل میں جو سرمایہ ملتا ہے وہ عام ترقیاتی امداد کی طرح نہیں ہوتا۔ اس کے لیے منصوبوں کی تکنیکی تیاری، مالیاتی ماڈلنگ، خطرات کا تخمینہ، شفاف حساب کتاب اور عالمی معیار کے مطابق رپورٹنگ ضروری ہوتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور نجی سرمایہ کار دیکھتے ہیں کہ ان کی سرمایہ کاری سے مالی واپسی یا کم از کم معاشی استحکام کا امکان موجود ہے یا نہیں۔

امید نہیں، مہارت کی ضرورت

پاکستان میں اب بھی کلائمیٹ فنانس کو زیادہ تر پالیسی بیانات یا عالمی کانفرنسوں تک محدود سمجھا جاتا ہے۔ تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ دراصل بینکاری، انشورنس، سرمایہ کاری اور مالیاتی نظم و نسق سے جڑا ہوا ہے۔ جب تک مقامی سطح پر ماہرین کی ایسی ٹیمیں تیار نہیں کی جاتیں جو گرین بانڈز، کاربن مارکیٹس، رسک گارنٹی اور نتائج پر مبنی مالیاتی ڈھانچوں کو سمجھ سکیں، اس وقت تک بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ممکن نہیں۔

معیشت اور ماحول کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مستقبل میں وہی ممالک کامیاب ہوں گے جو موسمیاتی موافقت کے منصوبوں کو معاشی استحکام سے جوڑ دیں۔ مثال کے طور پر اگر سیلاب سے بچاؤ کا منصوبہ زرعی پیداوار کو مستحکم کرے، روزگار پیدا کرے اور صنعتی سرگرمیوں کو تحفظ دے تو وہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش ہوگا۔

یوں کلائمیٹ فنانس محض نقصانات کی تلافی کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی اصلاح اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولنے کا موقع بھی بن سکتا ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے لیے اصل چیلنج وسائل کی کمی نہیں بلکہ صلاحیت کی کمی ہے۔ دنیا میں موسمیاتی فنڈز موجود ہیں، لیکن ان تک رسائی کے لیے پیشہ ورانہ مہارت، شفاف نظام اور قابلِ عمل منصوبے درکار ہیں۔

اگر ملک موسمیاتی حکمت عملی کو معاشی پالیسی کا مرکزی حصہ بنا لے اور مالیاتی شعبے میں مہارت پیدا کرے تو نہ صرف موسمیاتی خطرات کم کیے جا سکتے ہیں بلکہ بیرونی سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نجی اور سرکاری ادارے شعبۂ مالیات سے جڑی افرادی قوت کو موسمیاتی فنانس کے حصول کی مہارتیں سکھانے کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرامز منعقد کریں تاکہ وہ اس غلط فہمی سے نکل آئیں کہ کلائمیٹ فنانس انہیں بیٹھے بٹھائے مل جائے گی۔

اسی بارے میں: