سندھ کے قدیم شہر سیہون شریف میں سورج جیسے ہی افق کے پیچھے ڈوبتا ہے، فضا میں ایک مخصوص ردھم گونجنے لگتا ہے۔ یہ ڈھول کی وہ تھاپ ہے جو محض آواز نہیں بلکہ ایک صدیوں پرانی روایت کی علامت ہے۔ حضرت لعل شہباز قلندر کی درگاہ کا صحن آہستہ آہستہ بھرنے لگتا ہے، چراغ روشن ہوتے ہیں اور پھر ایک ایسا منظر جنم لیتا ہے جسے دنیا دھمال کے نام سے جانتی ہے۔
دھمال یہاں کوئی عام رقص نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق یہ روایت تیرہویں صدی سے جڑی ہوئی ہے، جب حضرت لعل شہباز قلندر سیہون آئے اور ان کے مریدوں نے وجد کی کیفیت میں جھومنا شروع کیا۔ یہی جھومنا وقت کے ساتھ ایک منظم روایت میں بدل گیا، جو آج بھی بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ دنیا میں بہت کم ایسی زندہ روایات ہیں جو صدیوں تک روزانہ کی بنیاد پر اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی ہوں۔
دھمال کی خاص بات اس کا اجتماعی پہلو ہے۔ یہاں کوئی امیر یا غریب نہیں، کوئی درجہ بندی نہیں۔ فقیر، زائرین، عورتیں، مرد اور نوجوان سب ایک دائرے میں جمع ہو کر ایک ہی لے میں جھومتے ہیں۔ ڈھول کی مخصوص رفتار آہستہ آہستہ تیز ہوتی ہے، اور اسی کے ساتھ لوگوں کی حرکات بھی شدت اختیار کرتی جاتی ہیں۔ ماہرین اسے ایک طرح کی اجتماعی ٹرانس یا روحانی کیفیت قرار دیتے ہیں، جہاں انسان وقتی طور پر دنیاوی فکروں سے آزاد ہو جاتا ہے۔
دنیا کے دیگر خطوں میں بھی روحانی رقص کی روایات موجود ہیں، جیسے ترکی کے درویشوں کا گھومنا یا افریقہ کے کچھ علاقوں میں موسیقی کے ذریعے وجد پیدا کرنا، لیکن سیہون کی دھمال اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ یہاں یہ عمل کسی خاص دن یا تہوار تک محدود نہیں بلکہ تقریباً ہر شام ہوتا ہے۔ یہی تسلسل اسے دنیا کی نایاب ثقافتی اور روحانی روایات میں شامل کرتا ہے۔
ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ دھمال میں استعمال ہونے والا ڈھول بھی خاص انداز میں بجایا جاتا ہے، جس کی تھاپ صدیوں سے تقریباً ایک جیسی برقرار رکھی گئی ہے۔ اس ردھم کو مقامی لوگ پہچانتے ہیں اور جیسے ہی یہ آواز گونجتی ہے، وہ خود بخود اس دائرے کا حصہ بن جاتے ہیں۔
سیہون کی یہ دھمال صرف ایک رسم نہیں بلکہ سندھ کی ثقافت، صوفی روایت اور اجتماعی روحانیت کا جیتا جاگتا اظہار ہے۔ جب سینکڑوں لوگ ایک ساتھ جھومتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو اور صدیوں پرانی ایک روایت آج بھی اسی شدت کے ساتھ زندہ ہے۔
ساگا ڈیجیٹل
جہاں کہانیاں صرف بتائی نہیں جاتیں، محسوس بھی کی جاتی ہیں
