[rank_math_breadcrumb]

موٹاپے سے دپلے، سمارٹ پن تک، کیا واقعی نئی انجیکشن اوزیمپک نے بدل دی سیلیبریٹیز کی زندگی؟

کبھی پرانی تصاویر دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔ چہرے گول، جسم بھاری اور انداز بالکل مختلف۔ پھر اچانک چند برسوں بعد وہی شخص اسکرین پر آتا ہے تو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ وزن کم، چہرہ نکھرا ہوا اور انداز پہلے سے کہیں زیادہ پراعتماد۔

اسی تبدیلی نے حالیہ برسوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کیا واقعی اتنی بڑی جسمانی تبدیلی صرف ڈائٹ اور ورزش سے ممکن ہے، یا پھر اس کے پیچھے وزن کم کرنے والی مشہور دوا اوزیمپک کا ہاتھ ہوتا ہے؟

پاکستان اور بھارت کی کئی معروف شخصیات اس بحث کا حصہ بن چکی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا پر سوال اٹھنے لگے کہ انہوں نے اتنا وزن کیسے کم کیا۔ اسی طرح مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب کی نمایاں ٹرانسفارمیشن بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی۔

بھارت میں کامیڈین اور ٹی وی میزبان کپیل شرما اور فلم ساز کرن جوہر کی جسمانی تبدیلی بھی کم حیران کن نہیں تھی۔ ان سب کی نئی تصاویر سامنے آئیں تو سوشل میڈیا پر فوراً ایک ہی نام گردش کرنے لگا، اوزیمپک۔

مگر حقیقت کیا ہے؟

اوزیمپک دراصل ایک دوا ہے جو اصل میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے تیار کی گئی تھی۔ اس میں موجود دوا سیماگلوٹائیڈ جسم میں ایسے ہارمون کی نقل کرتی ہے جو بھوک کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ انجیکشن عام طور پر ہفتے میں ایک بار لگایا جاتا ہے۔

طبی تحقیق کے مطابق سیماگلوٹائیڈ جسم کو یہ احساس دلاتا ہے کہ پیٹ بھر چکا ہے، جس سے کھانے کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور وزن گھٹنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں یہ دوا دنیا بھر میں وزن کم کرنے کے لیے بھی مقبول ہو گئی ہے۔

تاہم کئی شخصیات نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ ان کی تبدیلی کسی انجیکشن کا نتیجہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری سے جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک سادہ جواب دیا، چینی اور روٹی کم کریں اور باقاعدہ ورزش کریں۔

اسی طرح مریم اورنگزیب کے بارے میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کی بھی تردید کی گئی۔ ایک انٹرویو میں ان کی والدہ نے کہا کہ مریم نے کئی ماہ تک سخت ڈائٹ اور ورزش کے ذریعے وزن کم کیا ہے، کسی دوا کے ذریعے نہیں۔

کپیل شرما کے فٹنس ٹرینر نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا کہ کامیڈین نے وزن کم کرنے کے لیے جم میں مسلسل محنت کی اور اپنی خوراک میں بڑی تبدیلیاں کیں۔

لیکن اس کے باوجود اوزیمپک کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں لوگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بھی اس انجیکشن کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔

حال ہی میں ایک نجی اسپتال میں زیر علاج ایک مریض نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ اوزیمپک کی زیادہ مقدار لینے کے بعد اس کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا پڑا۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس دوا کے زیادہ استعمال سے شدید متلی، الٹی، پانی کی کمی اور بعض صورتوں میں خطرناک پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنا ایک طویل اور متوازن عمل ہے۔ اگر کوئی دوا استعمال کی جائے تو وہ صرف ڈاکٹر کے مشورے اور نگرانی میں ہی ہونی چاہیے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ماہرین آج بھی ایک ہی بات دہراتے ہیں، وزن کم کرنے کا سب سے محفوظ طریقہ وہی پرانا نسخہ ہے۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور مستقل مزاجی۔

اور جہاں شارٹ کٹ کی بات آئے، وہاں خطرات بھی اکثر ساتھ ہی آ جاتے ہیں۔

اسی لیے ساگا ڈیجیٹل ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کی افواہوں کے پیچھے چھپی حقیقت آپ تک پہنچائی جائے، تاکہ معلومات بھی ملیں اور احتیاط بھی۔

اسی بارے میں: