مشرق وسطیٰ میں بڑھتی آگ: ایران، امریکہ کشیدگی، توانائی بحران اور عالمی جنگ کا خدشہ

مشرق وسطیٰ

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب صرف علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ عالمی طاقتوں کے براہِ راست تصادم کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ چند برس پہلے تک ایران اور امریکہ کے درمیان مقابلہ زیادہ تر پراکسی جنگوں، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ تک محدود تھا، مگر اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں میزائلوں، ڈرون حملوں اور عسکری حکمتِ عملی کے ذریعے کھلی محاذ آرائی کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔

اس تنازع نے نہ صرف خطے کی سیاسی حرکیات کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، عالمی معیشت اور کئی ممالک کی داخلی سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایران کی حکمتِ عملی کا محور خلیجی خطے کے توانائی نظام کو نشانہ بنانا رہا۔ جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی میں عدم استحکام پیدا ہوا۔ خلیجی ممالک کے توانائی مراکز پر حملوں اور ترسیلی راستوں میں خلل نے دنیا بھر کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

اس صورتحال کا اثر پاکستان جیسے ممالک پر بھی پڑ رہا ہے جہاں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض ممالک میں تیل کے ذخائر محدود رہ گئے ہیں اور گیس کی فراہمی میں کمی کے باعث لوڈشیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

خلیجی ممالک نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ اس تنازع کو فوری طور پر کم کیا جائے کیونکہ اس کے براہِ راست اثرات ان کی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔ تاہم امریکی پالیسی بظاہر سخت مؤقف پر قائم نظر آتی ہے۔ امریکہ اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری منصوبہ بندی کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بعض دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن کی حکمتِ عملی کا ایک مقصد عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا بھی ہے۔

اسی دوران ایران کی فوجی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے اپنے کمانڈ سسٹم میں ایسی تبدیلیاں کی ہیں جن کے تحت میدانِ جنگ میں موجود درمیانی درجے کے افسران کو زیادہ اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا جائے تو بھی جنگی کارروائیاں رکے بغیر جاری رہیں۔

تاہم یہ حکمتِ عملی ایک خطرناک پہلو بھی رکھتی ہے کیونکہ نچلی سطح پر فیصلے کرنے کی آزادی کسی بھی وقت غلط اندازے یا غیر متوقع ردعمل کا سبب بن سکتی ہے۔

قیادت کا غیر مرکزی ڈھانچہ

ایران کی فوجی قیادت نے حالیہ مہینوں میں اپنے کمانڈ ڈھانچے کو زیادہ غیر مرکزی بنا دیا ہے۔ اس نظام میں طاقت صرف چند اعلیٰ کمانڈروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ درمیانی سطح کے افسران کو بھی فیصلہ سازی میں بڑی حد تک خودمختاری حاصل ہوتی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر دشمن قیادت کو نشانہ بنا کر کمانڈ چین کو توڑنے کی کوشش کرے تو جنگی صلاحیت برقرار رہے۔

اس غیر مرکزی ڈھانچے کے باعث ایرانی فورسز فوری ردعمل دینے کے قابل ہو جاتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے کہ کسی سرحدی جھڑپ یا غلط فہمی کی بنیاد پر بڑی جنگ بھڑک سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ترکی کی سرحد کے قریب پیش آنے والے ایک واقعے میں کشیدگی بڑھ گئی، حالانکہ ترکی نیٹو کا رکن ملک ہے اور نیٹو کے اصولوں کے مطابق کسی ایک رکن پر حملہ پورے اتحاد پر حملہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دفاعی ماہرین اس حکمتِ عملی کو ایک خطرناک توازن قرار دیتے ہیں۔

ڈرون اور میزائل: ایران کی نئی عسکری حکمتِ عملی

ایران نے حالیہ برسوں میں ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کو اپنی دفاعی اور جارحانہ حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنا لیا ہے۔ یہ ہتھیار نسبتاً کم لاگت کے حامل ہوتے ہیں مگر ان کا اثر بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔ جدید ڈرونز نہ صرف نگرانی بلکہ حملوں کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں اور انہیں روکنا روایتی دفاعی نظاموں کے لیے مشکل ثابت ہوتا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے بعض ہتھیار ماضی میں تیار کیے گئے تھے اور اب انہیں استعمال کر کے پرانے ذخائر ختم کیے جا رہے ہیں، جبکہ نئی نسل کے ڈرون اور میزائل تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس حکمتِ عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ایک طویل مدتی جنگی منظرنامے کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔

کردوں کا استعمال: تاریخی پس منظر

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں کرد قوم کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ کرد دنیا کے ان بڑے نسلی گروہوں میں شامل ہیں جن کا اپنا کوئی آزاد ملک نہیں۔ تاریخ میں کئی بار عالمی طاقتوں نے اپنے سیاسی اور عسکری مفادات کے لیے انہیں استعمال کیا ہے۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانیہ اور فرانس نے عثمانی سلطنت کو کمزور کرنے کے لیے کردوں کو آزادی کے وعدے دیے۔ جنگ کے بعد ہونے والے معاہدوں میں ایک مرحلے پر کردوں کو الگ ریاست دینے کا ذکر بھی ہوا، مگر بعد میں سیاسی حالات بدلنے پر یہ وعدہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ نتیجتاً کرد علاقوں کو ترکی، عراق اور شام کے درمیان تقسیم کر دیا گیا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی جب بیرونی طاقتوں نے ایران کے بعض علاقوں میں کرد تحریکوں کی حمایت کی، مگر سیاسی مفادات بدلنے کے ساتھ ہی یہ حمایت ختم ہو گئی۔ اسی تاریخی تجربے کی وجہ سے کرد معاشرے میں ایک مشہور کہاوت رائج ہے کہ “پہاڑوں کے سوا ہمارا کوئی دوست نہیں۔”

امریکہ اور اسرائیل کا ایک نیا اور خطرناک مرحلہ

عالمی امور کے ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع اب پراکسی جنگ سے آگے بڑھ کر براہِ راست تصادم کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اگرچہ بہت سے فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ ایران پر مکمل زمینی قبضے کی کوشش نہیں کرے گا کیونکہ ایران کی جغرافیائی ساخت اور وسیع رقبہ ایسی جنگ کو انتہائی پیچیدہ بنا دیتے ہیں، تاہم محدود عسکری کارروائیوں کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

بعض عالمی اخبارات کے مطابق مغربی ممالک نے خطے میں اپنے سفارتی اور عسکری اقدامات بڑھا دیے ہیں، جسے ممکنہ بڑی کارروائی کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین اور روس کے ردعمل پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک ایران کے ساتھ مختلف سطحوں پر تعاون رکھتے ہیں۔

اگر یہ بڑی طاقتیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس تنازع میں شامل ہو جاتی ہیں تو یہ صورتحال عالمی طاقتوں کے درمیان ایک وسیع تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک بھی اس تنازع میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ان کے اپنے شہروں اور توانائی تنصیبات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

موجودہ حالات میں مشرقِ وسطیٰ ایک انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ہر میزائل حملہ، ہر ڈرون کارروائی اور ہر سفارتی فیصلہ خطے کے مستقبل کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایران کی نئی جنگی حکمتِ عملی، امریکہ کی دباؤ پر مبنی پالیسی اور خطے میں پرانے جغرافیائی تنازعات کا دوبارہ ابھرنا دنیا کو ایک ایسے دور کی طرف دھکیل رہا ہے جہاں چھوٹی سی چنگاری بھی بڑے عالمی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

یہ بحران اب صرف ایران، اسرائیل یا ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی معاشی نظام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اگر توانائی کی سپلائی، پیٹرو ڈالر کے نظام اور خلیجی خطے کے استحکام کو مسلسل خطرات لاحق رہے تو عالمی معیشت ایک نئے اور گہرے بحران کی طرف جا سکتی ہے۔

حقیقت میں یہ جنگ دو مختلف حکمتِ عملیوں کا امتحان بن چکی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کا وہ ماڈل ہے جو تیز اور فیصلہ کن فوجی کارروائی پر یقین رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کی حکمتِ عملی ہے جو طویل، تھکا دینے والی اور کئی محاذوں پر بیک وقت دباؤ ڈالنے پر مبنی ہے۔

اس مقابلے میں صرف میدانِ جنگ ہی فیصلہ کن نہیں ہوگا۔ معیشت، سائبر ٹیکنالوجی، نفسیاتی جنگ اور سفارت کاری جیسے عوامل بھی اتنے ہی اہم کردار ادا کریں گے۔ جو فریق ان تمام محاذوں پر بہتر حکمتِ عملی اختیار کرے گا، وہی اس کشیدہ صورتحال میں برتری حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم اگر غلط اندازوں اور جلد بازی پر مبنی فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ بحران طویل علاقائی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے اور ممکن ہے کہ عالمی طاقت کے توازن میں بھی بڑی تبدیلیاں سامنے آئیں۔

اسی بارے میں: