[rank_math_breadcrumb]

خیبر پاس، وسطی ایشیا اور برصغیر کو جوڑنے والا تاریخ کا قدیم اور اہم درہ

پتھریلے پہاڑ، تنگ راستے اور خاموشی میں چھپی ہزاروں سال کی تاریخ۔ انہی مناظر کے درمیان واقع ہے خیبر پاس، ایک ایسا درہ جسے صدیوں سے ایشیا کا دروازہ کہا جاتا ہے۔

خیبر پاس پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع ایک اہم پہاڑی درہ ہے جو افغانستان کو پشاور کی زرخیز وادی سے جوڑتا ہے۔ یہ تقریباً پچاس کلومیٹر طویل راستہ ہے جو سفید کوہ کے پہاڑی سلسلے کے درمیان سے گزرتا ہے۔

جغرافیائی اعتبار سے یہ درہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہندوکش اور ہمالیہ کے وسیع پہاڑی سلسلے زیادہ تر مقامات پر تقریباً ناقابل عبور ہیں۔ تاہم ان عظیم پہاڑوں کے درمیان چند قدرتی راستے موجود ہیں اور ان میں سب سے معروف راستہ یہی خیبر پاس ہے۔

قدیم زمانے میں جب جدید سڑکیں، بندرگاہیں اور ریل کے نظام موجود نہیں تھے، تب یہی درہ وسطی ایشیا اور برصغیر کے درمیان سب سے اہم زمینی راستہ تھا۔ قیمتی سامان سے بھرے قافلے، جن میں ریشم، مصالحے، قیمتی پتھر اور کپڑے شامل ہوتے تھے، اسی راستے سے گزرتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ خیبر پاس قدیم تجارتی شاہراہوں کے اس وسیع نیٹ ورک کا حصہ بن گیا جسے بعد میں سلک روڈ کے نام سے جانا جانے لگا۔

لیکن خیبر پاس صرف تجارت کا راستہ نہیں تھا بلکہ تاریخ کے بڑے حملوں اور فتوحات کا دروازہ بھی رہا ہے۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندر اعظم کی فوجیں اسی درے کے ذریعے برصغیر کی طرف آئیں۔ بعد میں وسطی ایشیا کے مختلف قبائل، ہن، افغان حکمران اور مغل بادشاہ بھی اسی راستے سے گزرے۔ مغل سلطنت کے بانی بابر نے بھی ہندوستان کی طرف اپنے لشکر اسی درے کے ذریعے روانہ کیے تھے۔

اس درے کی اہمیت صرف فوجی اور تجارتی نہیں بلکہ ثقافتی بھی رہی ہے۔ پشاور اور ٹیکسلا کے علاقوں میں پروان چڑھنے والی گندھارا تہذیب دراصل مختلف ثقافتوں کے ملاپ کا نتیجہ تھی۔ یونانی، ایرانی اور ہندوستانی اثرات یہاں ایک نئی تہذیب میں ڈھل گئے۔ اس ثقافتی تبادلے میں خیبر پاس ایک خاموش راستے کے طور پر کام کرتا رہا جس کے ذریعے لوگ، خیالات اور ثقافتیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتی رہیں۔

خیبر پاس تاریخی طور پر ایک مشکل اور خطرناک راستہ بھی سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ درہ نہ صرف تنگ ہے بلکہ اس کے پہاڑی موڑ اور دشوار گزار راستے بھی مسافروں کے لیے چیلنج رہے ہیں۔ صدیوں تک یہاں مقامی قبائل کا کنٹرول رہا، اس لیے کسی بھی فوج یا قافلے کے لیے اس درے سے گزرنا آسان نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف سلطنتوں نے اس راستے کو محفوظ بنانے کے لیے یہاں قلعے اور چوکیوں کی تعمیر کی۔

انیسویں صدی میں برطانوی سلطنت نے اس درے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔ برطانوی دور میں یہاں سڑکیں تعمیر کی گئیں، قلعے بنائے گئے اور ایک حیرت انگیز ریلوے لائن بھی قائم کی گئی جسے خیبر ریلوے کہا جاتا ہے۔ اس ریلوے کو اس زمانے کی انجینئرنگ کا ایک بڑا کارنامہ سمجھا جاتا تھا کیونکہ اسے خطرناک پہاڑی موڑوں اور سرنگوں کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔

صدیاں گزر چکی ہیں، سلطنتیں بدل چکی ہیں اور سرحدیں بھی تبدیل ہو چکی ہیں، لیکن خیبر پاس آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ پہاڑوں کے درمیان واقع یہ خاموش درہ نہ صرف قافلوں کی گھنٹیوں کی آواز کا گواہ رہا ہے بلکہ فوجوں کے قدموں کی گونج بھی اس کی وادیوں میں سنائی دیتی رہی ہے۔ شاید اسی لیے تاریخ اسے صرف ایک راستہ نہیں بلکہ ایشیا کا دروازہ کہتی ہے۔

اسی بارے میں: