بادلوں میں لپٹی پہاڑیاں اور ان کے درمیان سانپ کی طرح بل کھاتی ایک طویل دیوار۔ سورج کی پہلی روشنی جب ان پتھروں پر پڑتی ہے تو صدیوں پرانی تاریخ جیسے زندہ ہو اٹھتی ہے۔ یہ ہے عظیم دیوار چین، انسانی تاریخ کی سب سے طویل دفاعی ساخت۔
اس کی مجموعی لمبائی اکیس ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ مگر یہ ایک واحد دیوار نہیں بلکہ مختلف ادوار میں تعمیر ہونے والی دیواروں کا ایک وسیع جال ہے، جو وقت کے ساتھ جڑتا اور پھیلتا رہا۔
ابتدائی حصے تیسری صدی قبل مسیح میں شہنشاہ چن شی ہوانگ کے دور میں تعمیر کیے گئے۔ اس کا بنیادی مقصد شمال سے ہونے والے حملوں کو روکنا تھا۔ بعد ازاں مختلف خاندانوں نے اسے مضبوط کیا، لیکن جو دیوار آج دنیا دیکھتی ہے اس کا بڑا حصہ منگ خاندان نے چودھویں سے سترھویں صدی کے درمیان تعمیر کیا۔ منگ حکمران منگول حملوں سے بچاؤ چاہتے تھے، اس لیے دیوار کو ایک منظم دفاعی نظام کی شکل دی گئی۔
یہ دیوار صرف فوجی رکاوٹ نہیں تھی۔ یہ سرحدی نگرانی کا مرکز بھی تھی۔ یہاں ٹیکس وصول کیے جاتے تھے، ریشم روڈ کی نگرانی کی جاتی تھی اور اسمگلنگ روکنے کے اقدامات کیے جاتے تھے۔ یوں یہ دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی اور انتظامی اہمیت بھی رکھتی تھی۔
دیوار کی اوسط اونچائی چھ سے سات میٹر ہے، جبکہ بعض مقامات پر یہ چودہ میٹر تک بلند ہو جاتی ہے۔ اس کی چوڑائی اتنی رکھی گئی کہ اوپر گھوڑے دوڑائے جا سکیں اور سپاہی باآسانی گشت کر سکیں۔ ہر چند کلومیٹر کے فاصلے پر نگرانی کے برج تعمیر کیے گئے، جہاں سے دھوئیں اور آگ کے سگنل بھیج کر پیغامات دور دراز علاقوں تک پہنچائے جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نظام کے ذریعے ایک گھنٹے میں خبر سینکڑوں کلومیٹر دور پہنچ سکتی تھی۔
ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ دیوار کی تعمیر میں چاول کے آٹے کو چونے کے ساتھ ملا کر گارا تیار کیا جاتا تھا۔ یہی مضبوط مرکب آج بھی اس کے کئی حصوں کو قائم رکھے ہوئے ہے۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ عظیم دیوار چین خلا سے انسانی آنکھ سے نظر آتی ہے، مگر سائنسی طور پر یہ درست نہیں۔ یہ دعویٰ ایک عام غلط فہمی ہے۔
آج عظیم دیوار چین طاقت اور استقامت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں۔ مگر اس کے پتھروں میں ہزاروں مزدوروں کی محنت اور قربانی کی داستانیں بھی پوشیدہ ہیں۔
یہ دیوار خوف کے دور میں تعمیر ہوئی تھی، لیکن وقت کے ساتھ یہ حیرت، انجینئرنگ مہارت اور انسانی عزم کی علامت بن چکی ہے۔
