کچھ نام تاریخ کی کتابوں میں درج تو ہوتے ہیں، مگر ان کے گرد خاموشی کی ایک دبیز تہہ جمی رہتی ہے۔ وہ موجود تو ہوتے ہیں، مگر سنائی نہیں دیتے۔ رتن بائی جناح، جنہیں دنیا رتی کے نام سے جانتی ہے، ایسا ہی ایک نام تھا۔ ایک روشن، بے باک، محبت کرنے والی نوجوان عورت، جس کی زندگی برصغیر کی سیاست کے ایک عظیم باب کے سائے میں گزری، مگر جس کی اپنی کہانی کم ہی بیان ہوئی۔
زیف سید کا نیا ناول ‘رتی’ اسی خاموشی کو آواز دینے کی کوشش ہے۔
زیف سید پاکستانی صحافت اور ادب کا ایک شناسا نام ہیں۔ براڈکاسٹنگ سے وابستگی، سنجیدہ صحافتی پس منظر، اور تخلیقی ادب میں مسلسل موجودگی نے ان کی تحریر کو ایک خاص وقار دیا ہے۔ اب تک ان کی 11 کتب منظر عام پر آ چکی ہیں، جن میں تراجم، افسانے، سائنسی موضوعات پر تحریریں اور ناول شامل ہیں۔ مگر ان کے فکشن کی نمایاں لکیر ان کے تین ناولوں سے کھینچی جا سکتی ہے، ‘آدھی رات کا سورج’، ‘گل مینہ’، اور اب ‘رتی’۔
زیف سید کا یہ ناول ‘رتی’ سچے واقعات پر مبنی ہے۔ جو کسی افسانوی کردار کے بجائے برصغیر کی حسین ترین لڑکی کے طور پر جانی جانے والی رتن بائی پٹیٹ کی زندگی کے عروج اور زوال کا مرثیہ ہے۔
’فلاورآف بامبے‘ کے نام سے جانی جانے والی رتن بائی نے مذہب، خاندان اور سماج کی ریتوں رسموں کو چیلینج کرتے ہوئے خود سے 24 سال بڑے محمد علی جناح سے عشق کیا، ایسا عشق جو بھری جوانی میں جان لے گیا۔
یہ ناول محض ایک رومانوی داستان نہیں، بلکہ تاریخ اور انسان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش ہے۔
رتی اور محمد علی جناح کا رشتہ برصغیر کی تاریخ کا ایک دلچسپ، مگر کم بیان کیا گیا باب ہے۔ عمر کا نمایاں فرق، مذہبی پس منظر کی مختلف سمتیں، سماجی دباؤ، اور سیاسی مصروفیات کے بیچ ایک ایسی محبت جس میں شدت بھی تھی اور تنہائی بھی۔ زیف سید اس رشتے کو کسی سنسنی یا تقدیس کے سانچے میں نہیں ڈھالتے، بلکہ اسے انسانی کمزوریوں اور جذبات کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔
ناول کی ساخت خاص توجہ طلب ہے۔ مختلف ابواب میں زاویہ نظر کی تبدیلی، الگ راویوں کی موجودگی، اور داخلی مکالموں کا استعمال کہانی کو یک رخی ہونے سے بچاتا ہے۔ قاری کو ایک ہی واقعہ مختلف آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس تکنیک سے رتی محض ایک کردار نہیں رہتی، بلکہ ایک تجربہ بن جاتی ہے۔
ادبی حلقوں میں اس ناول پر سنجیدہ گفتگو ہو رہی ہے۔ صحافی اور ادیب حسنین جمال نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ رتی ایک ایسی لڑکی تھی جو محبت کرتی تو ٹوٹ کر کرتی تھی، اور اس ناول نے تاریخ کے بے حس لفظوں میں چھپی اس شدت کو محسوس کرنے کا موقع دیا ہے۔ ان کے مطابق ہر باب میں الگ راوی کا انتخاب ناول کو ایک منفرد ساخت دیتا ہے اور قاری اس کے اثر سے آسانی سے باہر نہیں نکل پاتا۔
معروف صحافی حامد میر نے بھی اپنے کالم میں اس ناول کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایک ایسی لڑکی کی داستان ہے جس کے شوہر کو دنیا جانتی ہے، مگر وہ خود تاریخ میں کم معروف رہیں۔ ان کے مطابق ناول نہ صرف رتی بلکہ قائد اعظم کی شخصیت کے کچھ کم معروف پہلو بھی سامنے لاتا ہے، اور تاریخی کرداروں کو حقیقت کے قریب رکھتے ہوئے فکشن کا پیرایہ اختیار کرتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ زیف سید رتی کو مظلومیت کی علامت نہیں بناتے۔ وہ اسے حساس بھی دکھاتے ہیں اور مضبوط بھی۔ اس کے فیصلوں میں جذبات کی شدت ہے، مگر خودداری بھی۔ وہ تاریخ کے حاشیے پر کھڑی عورت نہیں، بلکہ اپنے وجود کے ساتھ متن میں داخل ہوتی ہوئی شخصیت ہے۔
‘رتی’ پڑھتے ہوئے یہ احساس بار بار ابھرتا ہے کہ ادب وہ خلا پُر کرتا ہے جو تاریخ چھوڑ دیتی ہے۔ تاریخ واقعات درج کرتی ہے، ادب ان واقعات کے بیچ کی خاموشی سنتا ہے۔ تاریخ تاریخ سازوں کو یاد رکھتی ہے، ادب ان لوگوں کو بھی زندہ رکھتا ہے جو ان تاریخ سازوں کی نجی زندگی کا حصہ تھے۔
زیف سید کا یہ ناول اسی معنٰی میں اہم ہے کہ یہ ایک معروف نام کے ساتھ جڑی ہوئی کم معروف زندگی کو مرکز میں لاتا ہے۔ یہ محبت کی داستان بھی ہے، مگر ساتھ ہی سماجی دیواروں، عمر کے فرق، مذہبی حساسیتوں اور سیاسی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبے رشتے کی بھی کہانی ہے۔
آخرکار ‘رتی’ کوئی فیصلہ سنانے نہیں آتی۔ یہ نہ کسی کو مقدس بناتی ہے، نہ مجرم۔ یہ صرف ایک انسانی کہانی سناتی ہے۔ ایسی کہانی جو بتاتی ہے کہ عظیم شخصیات کی زندگیوں میں بھی جذبات کی وہی کمزور اور نازک دھڑکن موجود ہوتی ہے جو عام انسانوں میں ہوتی ہے۔
شاید یہی ادب کی اصل طاقت ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ تاریخ کے بلند میناروں کے سائے میں بھی دل دھڑکتے تھے۔ اور کبھی کبھی، انہی دھڑکنوں کی آواز سب سے زیادہ دیر تک سنائی دیتی ہے۔
