مراکش کے شمال میں رف پہاڑوں کی آغوش میں سمایا ہوا ایک شہر، شیفشاؤین جو دور سے دیکھیں تو نیلے خواب کی مانند محسوس ہوتا ہے۔ اسے نیلا موتی کہا جاتا ہے، مگر یہ محض ایک شاعرانہ لقب نہیں، بلکہ ایک بصری حقیقت ہے۔ یہاں دیواریں نیلی ہیں، دروازے نیلے ہیں، سیڑھیاں نیلی ہیں، حتیٰ کہ تنگ و پیچیدہ گلیاں بھی نیلے رنگ میں ڈوبی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
شیفشاؤین کی بنیاد سن 1471 میں رکھی گئی۔ ابتدا میں یہ ایک فوجی قلعہ تھا، جس کا مقصد پرتگالی حملوں سے دفاع تھا۔ وقت کے ساتھ یہ شہر پناہ گاہ بن گیا۔ پندرہویں صدی کے آخر اور سولہویں صدی میں اسپین سے نکالے گئے مسلمان اور یہودی یہاں آ بسے۔ وہ اپنے ساتھ صرف نقل مکانی کا دکھ نہیں لائے، بلکہ اپنی تہذیب، اپنے ہنر اور اپنے رنگ بھی لائے۔
نیلا رنگ کیوں؟ اس سوال کا ایک نہیں، کئی جواب ہیں۔ ایک روایت کے مطابق نیلا رنگ آسمان اور روحانیت کی یاد دلاتا ہے، خدا کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہے۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ یہودی برادری نے نیلے رنگ کو مذہبی علامت کے طور پر اپنایا، جو بعد میں پورے شہر کی شناخت بن گیا۔ ایک مقامی عقیدہ یہ بھی ہے کہ نیلا رنگ مچھروں کو کم کرتا ہے اور گرمی کی شدت میں کمی کا احساس دیتا ہے۔ اگرچہ اس دعوے کی مکمل سائنسی تصدیق موجود نہیں، مگر شہر کی دیواروں پر اس یقین کا رنگ آج بھی تازہ ہے۔
شیفشاؤین کی گلیاں تنگ ہیں، یہاں گاڑیاں کم اور خاموشی زیادہ ہے۔ یہ شہر بھاری صنعتوں سے خالی ہے۔ اس کی معیشت ہاتھ سے بنی اونی چادروں، قدرتی رنگوں، چرمی مصنوعات اور پہاڑی دستکاری پر قائم ہے۔ سیاحت نے بھی اسے نئی زندگی دی ہے، مگر اس کے باوجود شہر نے اپنی رفتار آہستہ رکھی ہے، جیسے وقت یہاں ذرا ٹھہر کر چلتا ہو۔
رف پہاڑ کبھی نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت رہے۔ یوں شیفشاؤین صرف ایک خوبصورت منظر نہیں، بلکہ تاریخ، ہجرت اور ثقافتی امتزاج کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
یہ صرف رنگ نہیں۔ یہ یاد ہے۔ یہ شناخت ہے۔ یہ شیفشاؤین ہے۔
