پاکستان اور امریکا کے درمیان نیویارک کے تاریخی روزویلٹ ہوٹل کی ازسرِ نو تعمیر کا معاہدہ

روزویلٹ ہوٹل

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے دورہ امریکہ کے دوران پاکستان اور امریکا کے درمیان نیویارک کے مرکزی علاقے مین ہیٹن میں واقع تاریخی روزویلٹ ہوٹل کی ازسرِ نو تعمیر اور ترقی کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں۔

یہ معاہدہ پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی دونوں حوالوں سے غیرمعمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل پاکستان کے بیرونِ ملک سب سے قیمتی اثاثوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ معاہدہ پاکستان کی وزارتِ خزانہ اور امریکا کی جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن (GSA) کے درمیان طے پایا، جبکہ مذاکرات میں امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے مرکزی کردار ادا کیا۔ وِٹکوف نیویارک کی رئیل اسٹیٹ صنعت کی ایک معروف شخصیت ہیں اور مین ہیٹن میں بڑے تجارتی منصوبوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

حکومتی حکام کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد ہوٹل کو فروخت کرنے کے بجائے اس کی جدید خطوط پر تعمیرِ نو، تجارتی ترقی، آپریشن اور طویل المدتی استعمال کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک ماہرین کی مدد سے مالی، تکنیکی اور تجارتی پہلوؤں کا تفصیلی مطالعہ کریں گے، جس کے بعد حتمی سرمایہ کاری ماڈل طے کیا جائے گا۔

روزویلٹ ہوٹل مین ہیٹن کے قلب میں گرینڈ سینٹرل ٹرمینل کے قریب پورے ایک بلاک پر واقع ہے۔ 1924 میں تعمیر ہونے والا یہ ہوٹل نیویارک کی تاریخی عمارتوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی جغرافیائی اہمیت کے باعث ماہرین اسے اربوں ڈالر مالیت کی جائیداد قرار دیتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق اس مقام پر مستقبل میں ایک جدید فلک بوس عمارت یا مخلوط تجارتی و رہائشی منصوبہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد اس اثاثے کی زیادہ سے زیادہ معاشی قدر حاصل کرنا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے جاری اقتصادی اصلاحاتی پروگرام اور سرکاری اثاثوں کی بہتر مینجمنٹ کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد قومی خزانے کے لیے مستقل آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا ہے۔

روزویلٹ ہوٹل کا پس منظر

روزویلٹ ہوٹل کی تاریخ تقریباً ایک صدی پر محیط ہے۔ یہ ہوٹل پہلی بار 1924 میں کھولا گیا اور جلد ہی نیویارک کے ممتاز ہوٹلوں میں شامل ہو گیا۔ 1979 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اسے طویل المدتی لیز پر حاصل کیا، جبکہ بعد ازاں پاکستان نے اس میں ملکیتی حصہ بھی حاصل کر لیا۔ یوں یہ عمارت پاکستان کی سرکاری ملکیت میں آنے والے نمایاں بین الاقوامی اثاثوں میں شامل ہو گئی۔

کئی دہائیوں تک یہ ہوٹل منافع بخش کاروبار سمجھا جاتا رہا، تاہم وقت کے ساتھ دیکھ بھال کے اخراجات بڑھتے گئے۔ 2020 میں کورونا وبا کے باعث عالمی سیاحت متاثر ہونے پر ہوٹل بند کر دیا گیا۔ بعد ازاں نیویارک سٹی انتظامیہ نے اسے عارضی طور پر تارکینِ وطن کے لیے رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا، جس سے پاکستان کو محدود مدت کے لیے آمدنی حاصل ہوئی۔ 2025 میں یہ انتظام ختم ہونے کے بعد ہوٹل دوبارہ خالی ہو گیا اور اس کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ غور و فکر شروع ہوا۔

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے اندر اس ہوٹل کو فروخت کرنے یا مشترکہ منصوبے کے تحت ترقی دینے پر بحث جاری رہی۔ بعض حلقوں نے فوری فروخت کی حمایت کی، جبکہ ماہرینِ معیشت کی ایک بڑی تعداد نے اسے طویل المدتی ترقیاتی منصوبے کے ذریعے زیادہ منافع بخش بنانے کی تجویز دی۔ موجودہ معاہدہ اسی دوسری حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

ممکنہ ترقیاتی منصوبہ

رئیل اسٹیٹ ماہرین کے مطابق روزویلٹ ہوٹل کی جگہ مین ہیٹن کے آخری بڑے ترقیاتی مواقع میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ امکان ہے کہ مستقبل میں یہاں ایک جدید مخلوط منصوبہ بنایا جائے جس میں لگژری ہوٹل، دفاتر، رہائشی اپارٹمنٹس اور تجارتی مراکز شامل ہوں۔ تاہم حتمی منصوبہ ابھی طے نہیں کیا گیا۔

معاہدے کی مالی تفصیلات، سرمایہ کاروں کی شمولیت اور ملکیتی ڈھانچے کے بارے میں معلومات ابھی ظاہر نہیں کی گئیں۔ حکام کے مطابق ابتدائی مطالعات مکمل ہونے کے بعد اگلے مرحلے میں نجی سرمایہ کاروں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں معاشی تعاون کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات زیادہ تر سیکیورٹی امور کے گرد گھومتے رہے، تاہم یہ منصوبہ اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔

اگر منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو روزویلٹ ہوٹل نہ صرف پاکستان کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر سرکاری اثاثوں کے مؤثر استعمال کی ایک مثال کے طور پر بھی دیکھا جائے گا۔

اسی بارے میں: