امن و امان کی بہتری کے لیے سیف سٹی پروجیکٹ کو جلد مکمل کیا جائے: تاجروں کا وزیر داخلہ سندھ سے مطالبہ

کراچی میں فیڈریشن ہاؤس میں ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی تاجروں کے نمائندوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے تاکہ کراچی میں اسٹریٹ کرائیمز پر قابو پایا جاسکے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیراہتمام سندھ کے ہوم منسٹر ضیاء الحسن لنجار کے اعزاز میں منعقد ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تاجروں نے کہا کہ سیف سٹی منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہتر نگرانی اور فوری کارروائی میں سہولت مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سڑکیں محفوظ نہیں ہوں گی اور شہری خود کو محفوظ محسوس نہیں کریں گے، اس وقت تک کاروباری سرگرمیوں میں حقیقی تیزی ممکن نہیں۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی معاشی خوشحالی کا براہ راست تعلق امن و امان کی صورتحال سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے اور ملک کی بڑی صنعتیں اور تجارتی سرگرمیاں اسی شہر سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم کا خاتمہ کاروباری اعتماد بحال کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب شہر میں امن قائم ہوگا تو نہ صرف مقامی سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ بیرونی سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے زیادہ پر اعتماد ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ ہمیشہ قومی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی حکومت کے ساتھ مل کر معاشی ترقی کے لئے کام کرتا رہے گا۔

تقریب میں نائب صدر ایف پی سی سی آئی و ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور تاجر برادری کے درمیان مضبوط رابطے سے مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہوگی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت سندھ صوبے میں امن و امان کو مزید بہتر بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو ہر صورت کاروبار کرنے کے لئے مثالی صوبہ بنایا جائے گا تاکہ سرمایہ کار بلا خوف و خطر اپنی سرمایہ کاری جاری رکھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت اور کاروباری برادری کے مشترکہ تعاون سے کراچی سمیت پورے سندھ میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوگی، جس کے نتیجے میں نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت بھی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے گی۔

اسی بارے میں: