کراچی لٹریچر فیسٹیول: سندھ پولیس اور شہریوں کے درمیان فاصلہ، انصاف میں تاخیر اور محرومی کی بڑی وجہ

کراچی میں اتوار کو ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ 17ویں کراچی لٹریچر فیسٹیول کے سیشن کراچی کچہری: عوام اور پولیسسے خطاب کرتے ہوئے مقررین مظہر عباس، شرجیل کھرل، عمر شاہد حمید اور اقیلا اسماعیل نے کہا کہ سندھ میں شہریوں اور پولیس کے درمیان واضح فاصلے کی وجہ سے انصاف کے حصول میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف کی بہتر فراہمی کے لیے عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد بحال کرنا ضروری ہے

اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی اقیلا اسماعیل نے اپنی بہن پروین رحمان کے قتل کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش سے ان کی فیملی بلکل بھی مطمئن نہیں تھی۔

اانہوں نے بتایا کہ ان کی بہن کے اورنگی ٹاؤن میں قتل کے بعد پولیس نے دوسرے ہی روز دعویٰ کیا تھا کہ دوسرے روز مبینہ قاتل پولیس مقابلے میں مارا گیا، تاہم خاندان نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ درست تفتیش کے لیے کیس سپریم کورٹ لے جایا گیا جہاں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنائی گئی مگر پہلی رپورٹ تسلی بخش نہیں تھی۔ بعد ازاں عمر شاہد حمید کی سربراہی میں بننے والی دوسری جے آئی ٹی نے اصل قاتلوں کی نشاندہی کی، جو او پی پی دفتر کے سامنے رہ رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک پانچ ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں اور ان کو سزائیں بھی ہوچکی ہیں۔ سزا کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے ان ملزمان کو بری کردیا۔ وہ واپس ہمارے آفیس کے سامنے آکر رہنے لگی۔ پولیس نے بعد میں ان کو ایم پی او کے تحت گرفتار کردیا۔ کورٹ نے پھر ان کو آزاد کردیا۔

اب ہم نے سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔ مگر وہ اپیل ابھی تک نہیں سنی جارہی ہے۔

سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ کراچی میں شہری پولیس اسٹیشن جانے سے گریز کرتے ہیں اور شہر کے لیے مقامی حالات سے واقف الگ پولیس فورس ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق کراچی کے لیے مقامی حالات سے واقف الگ پولیس فورس ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فخرالدین جی ابراہیم کی جانب سے قائم کردہ سی پی ایل سی اگر مؤثر طریقے سے استعمال ہوتی تو صورتحال بہتر ہو سکتی تھی۔

جبکہ، انہوں نے بتایا کہ 2002 کا پولیس آرڈر بعض اعلیٰ افسران کی جانب سے سبوتاژ کیا گیا اور اس پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں رینجرز کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا اور شہریوں اور پولیس کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ضروری ہے۔

ایڈیشنل آئی جی، اسپیشل برانچ سندھ پولیس شرجیل کھرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ پولیس کے بارے میں تاثر بہتر ہوا ہے اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے اسٹریٹ کرائم میں کمی آئی ہے.

انہوں نے بتایا کہ سندھ پولیس نے گھریلو تشدد اور صنفی مسائل کے حوالے سے سول سوسائٹی کے ساتھ رابطے بہتر کیے ہیں۔

تحقیقاتی ونگ میں خواتین افسران کو شامل کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کے اداروں کے تعاون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور صوبے میں 40 ویمن پروٹیکشن سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جن میں سے پانچ پہلے ہی کام شروع کر چکے ہیں، جبکہ جی بی وی رسپانس سسٹم کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔

ڈی آئی جی عمر شاہد حمید نے بتایا کہ لاہور سیف سٹی منصوبے کے ذریعے ہزاروں بچوں کا سراغ لگایا گیا،۔

اسی بارے میں: