یہ کہانی مجھے آغا خان ہسپتال کے ویٹنگ ہال میں اپنے نانا کی طبیعت کا انتظار کرتے ہوئے ملی۔ گزشتہ ایک ہفتے سے ہر روز چند قوتِ گویائی اور سماعت سے محروم نوجوان ویٹنگ ایریا میں بیٹھے اپنے دوست کی صحت کے لیے دعا کر رہے تھے۔ اکثر وہ اپنے دوست کی خاطر رات بھر آغا خان ہسپتال میں ہی رکے رہتے۔
آج جب میں معمول کے مطابق آغا خان ہسپتال پہنچا تو میرے ادارے کے سینئر کرائم رپورٹر نذیر شاہ اچانک وہاں ملے۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک ایسے نوجوان کا واقعہ کور کرنے آئے ہیں جسے ایک گاڑی نے تقریباً موت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ وہ نہ بول سکتا ہے اور نہ سن سکتا ہے۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ یہ وہی نوجوان ہے جس کے دوست کئی دنوں سے ہسپتال میں بیٹھے اس کے لیے دعا کر رہے تھے۔
کہانی معلوم ہوئی تو پتہ چلا کہ ملیر کھوکھراپار میں موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے عبدالصمد کو ایک ٹریفک حادثے میں کچل دیا گیا۔ عبدالصمد معمول کے مطابق رات گئے دکان بند کرکے اپنے ملازم کو اس کی رہائش گاہ چھوڑنے جا رہا تھا کہ ایک تیز رفتار کار نے اسے ٹکر مار دی۔ وہ جو نہ بول سکتا ہے، نہ سن سکتا ہے — سڑک پر بے یار و مددگار زندگی اور موت کی جنگ لڑتا رہا۔
جیسے تیسے ایک بچہ فرشتہ بن کر صمد کے گھر والوں تک پہنچا اور اطلاع دی کہ اس کا خطرناک ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ بعد ازاں اسے جناح ہسپتال لے جایا گیا — وہی جناح ہسپتال جس کے بارے میں سرکار کا دعویٰ ہے کہ اب بیرونِ ملک سے لوگ یہاں علاج کرانے آتے ہیں۔ مگر مرتے ہوئے نوجوان کو وینٹی لیٹر تک نہ دیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ نے گھر والوں سے کہا: “آپ کی مرضی ہے، نوجوان مر جائے گا یا کہیں اور لے جائیں۔”
یہ نوجوان صمد، جو پہلے ہی بول اور سن نہیں سکتا، اس حادثے کے بعد شدید زخمی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی ایک ٹانگ کی نس ٹوٹ چکی ہے اور اسے جڑ سے الگ کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری ٹانگ میں سات فریکچر آئے ہیں۔ جبڑا ٹوٹ چکا ہے، دانت حلق سے ہوتے ہوئے پیٹ میں جا چکے ہیں، کہنی چکنا چور ہے اور پورا جسم زخموں سے چھلنی ہے۔
نجی ہسپتال اب تک 55 لاکھ روپے کا بل بنا چکا ہے، جو ایک غریب خاندان کے لیے جمع کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ سرکاری جناح ہسپتال میں علاج نہ ہو سکا، اور نجی آغا خان ہسپتال کے اخراجات نے خاندان کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔
اب کہانی پولیس سے شروع ہوتی ہے۔ کھوکھراپار پولیس نے بھی ظلم کی انتہا کر دی۔ نوجوان زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا مگر پولیس بااثر فریق سے صلح کے لیے خاندان پر دباؤ ڈالتی رہی۔ ہر حد تک کہا گیا کہ معاملہ رفع دفع کر لو۔ اس ملک میں طاقتور کے سامنے ادارے کمزور نظر آتے ہیں۔
غریب کے لیے جناح ہسپتال میں علاج نہیں، پولیس کے پاس انصاف نہیں، اور فلاحی شہرت رکھنے والے آغا خان ہسپتال میں بھی رعایت نہیں۔
ہسپتال کے ویٹنگ ایریا میں بیٹھے چند گونگے بہرے نوجوان اس ملک کے نظام کے خلاف اپنے انداز میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ مگر جب حکمرانوں کے کانوں پر شور مچاتی آوازیں بھی اثر نہیں کرتیں، تو یہ خاموش اشارے ان کے لیے کیا معنی رکھتے ہوں گے؟
سنجے سادھوانی
آغا خان ہسپتال کے ویٹنگ ایریا سے

