سعودی عرب میں سعودی فالکن کلب کے زیر اہتمام کنگ عبدالعزیز فالکن فیسٹیول جاری ہے جو عرب دنیا کی قدیم اور شاہی روایت کو ایک بار پھر نمایاں کر رہا ہے۔ فالکن فیسٹیول 25 دسبمر سے شروع ہو کر 10 جنوری 2026 تک جاری رہے گا۔ یہ فیسٹیول محض ایک کھیل نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے جس میں انسان اور باز کے رشتے کو مرکزیت حاصل ہے۔
فیسٹیول میں دو مرکزی مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں جنہیں عربی زبان میں الملہوا اور المزیّن کہا جاتا ہے۔ الملہوا میں باز کی اڑان، رفتار اور کنٹرول کو جانچا جاتا ہے جبکہ المزیّن مقابلے میں باز کی جسمانی خوبصورتی، ساخت اور تربیت کو پرکھا جاتا ہے۔ ان مقابلوں کے دوران باز اور بازبان کے درمیان ہم آہنگی خاص طور پر دیکھی جاتی ہے۔
ان مقابلوں میں حصہ لینے والے فاتحین کے لیے مجموعی طور پر ایک کروڑ ایک لاکھ ڈالرز کے انعامات مختص کیے گئے ہیں۔ فالکن مقابلوں کی عالمی تاریخ میں یہ انعامی رقم غیر معمولی سمجھی جاتی ہے، جو اس روایت کی اہمیت اور سرپرستی کو ظاہر کرتی ہے۔
کم معروف حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب میں باز کو صرف شکاری پرندہ نہیں بلکہ شاہی ورثہ سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر باز سعودی معاشرے میں بقا، وقار اور قیادت کی علامت رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کی تربیت ایک باقاعدہ علم تصور کی جاتی ہے۔
فیسٹیول میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ یہ تہوار محض مقابلہ نہیں بلکہ عرب شناخت کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق باز پروری نے صحرائی زندگی میں انسان کو فطرت کے قریب رکھا اور یہی رشتہ آج بھی زندہ رکھا جا رہا ہے۔
سعودی فالکن فیسٹیول نئی نسل کو روایت، ثقافت اور صحرا سے جڑی اقدار سے روشناس کراتا ہے۔ یہ فیسٹیول اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جدید دور میں بھی قدیم روایات کو عزت اور فخر کے ساتھ زندہ رکھا جا سکتا ہے۔
