پاکستان میں عوامی صحت کے تحفظ اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے شہریوں کو محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے تمباکو نوشی کی ممانعت اور غیر تمباکو نوش افراد کے تحفظ کا آرڈیننس سن دو ہزار دو میں نافذ کیا گیا۔ یہ قانون پورے ملک میں لاگو ہے۔ اس کا بنیادی مقصد عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کو روکنا ہے۔ اس قانون کے ذریعے غیر تمباکو نوش افراد کو دھوئیں سے پیدا ہونے والے خطرات سے محفوظ رکھنا مقصود ہے۔ خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو کی عادت سے دور رکھنا اس قانون کی اہم ترجیح ہے۔
قانون سازوں کے مطابق تمباکو نوشی صرف استعمال کرنے والے فرد کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ اس کے اردگرد موجود افراد کی صحت کو بھی شدید متاثر کرتی ہے۔ دھوئیں کے باعث سانس کی بیماریاں، دل کے مسائل اور دیگر خطرناک امراض جنم لیتے ہیں۔ اسی لیے ایسے تمام مقامات پر تمباکو نوشی روکنے کا فیصلہ کیا گیا جہاں عام شہریوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ اس قانون کو صحت عامہ کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جاتا ہے۔
آرڈیننس کے تحت عوامی مقامات پر سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ عوامی مقامات میں تعلیمی ادارے شامل ہیں جہاں بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں تمباکو نوشی ممنوع ہے تاکہ نئی نسل کو اس لت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تعلیمی ماحول کو صاف اور صحت مند بنانا اس پابندی کا بنیادی مقصد ہے۔
اسپتالوں، کلینکوں اور طبی مراکز میں بھی تمباکو نوشی کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں مریض علاج کے لیے آتے ہیں اور دھواں ان کی صحت کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح لیبارٹریوں میں بھی تمباکو نوشی جرم ہے۔ قانون یہ واضح کرتا ہے کہ صحت سے متعلق اداروں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
سرکاری دفاتر میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد ہے۔ اس کا مقصد ملازمین اور عوام کے لیے صاف ماحول فراہم کرنا ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ جیسے بسوں، ریل گاڑیوں اور ہوائی جہازوں میں بھی سگریٹ نوشی ممنوع ہے۔ بند جگہوں میں دھواں تیزی سے پھیلتا ہے اور اس سے متعدد افراد متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے قانون میں اس پہلو کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔
بازاروں، خریداری کے مراکز، سینما گھروں، تھیٹروں اور ہوٹلوں کی بند جگہوں پر بھی تمباکو نوشی جرم ہے۔ بعض صورتوں میں کھلی جگہوں پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے اگر وہاں تمباکو نوشی سے منع کرنے کے بورڈ آویزاں ہوں۔ قانون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ عوام جہاں بھی جائیں وہاں انہیں دھوئیں سے پاک ماحول میسر ہو۔
اس آرڈیننس میں بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے سخت شقیں شامل کی گئی ہیں۔ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ یا کسی بھی قسم کی تمباکو مصنص فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔ نابالغ کو تمباکو مفت دینا بھی جرم ہے۔ دکان داروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی دکانوں پر نمایاں طور پر یہ اطلاع لگائیں کہ کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت کرنا جرم ہے۔ اس اقدام کا مقصد ابتدائی عمر میں تمباکو نوشی کے رجحان کو روکنا ہے۔
تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ، اخبارات و رسائل اور سڑکوں پر لگے بڑے اشتہاری بورڈز کے ذریعے تمباکو کی تشہیر کی اجازت نہیں۔ کسی بھی تقریب یا سرگرمی کی سرپرستی کے ذریعے بھی تمباکو مصنوعات کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تشہیر نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے اور انہیں اس عادت کی طرف راغب کرتی ہے۔
قانون کی خلاف ورزی پر مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اگر کوئی شخص عوامی مقام پر سگریٹ نوشی کرتا ہوا پایا جائے تو اس پر ایک ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی دکان دار نابالغ کو سگریٹ فروخت کرے تو اس پر دس ہزار روپے تک جرمانہ، قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ تشہیری قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور متعلقہ سامان ضبط کیا جا سکتا ہے۔
اس قانون کے تحت اداروں کے سربراہان اور مالکان کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی حدود میں تمباکو نوشی کی ممانعت کو یقینی بنائیں۔ تمباکو نوشی سے منع کرنے والے بورڈ آویزاں کرنا اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ اس سے قانون پر عملدرآمد کو مؤثر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
عملدرآمد کی ذمہ داری پولیس، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے مجاز افسران پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ادارے جرمانے عائد کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے مجاز ہیں۔ ان اداروں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر نگرانی کریں اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔
شہریوں کو بھی اس قانون کے تحت اہم حقوق حاصل ہیں۔ ہر شہری کو صاف اور صحت مند ماحول میں سانس لینے کا حق دیا گیا ہے۔ اگر کسی عوامی مقام پر تمباکو نوشی ہو رہی ہو تو شہری متعلقہ حکام کو شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ یہ حق عوام کو قانون کے نفاذ میں شریک بناتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق تمباکو نوشی کی ممانعت سے متعلق یہ قانون ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اصل کامیابی مؤثر اور مسلسل عملدرآمد سے مشروط ہے۔ جب تک قوانین پر سختی سے عمل نہیں ہوگا تب تک صحت عامہ کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ مجموعی طور پر یہ آرڈیننس پاکستان میں ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
