آذربائیجان کے شہر باکو میں عالمی مقابلوں اور ورلڈ کپ ٹورنامنٹ پرو فائٹمیں میں پاکستانی باکسر کی زبردست کھیل کھیل کر اسرائیلی حریف کو شکست دے دی۔
فتح خصوصی طور پر ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں حاصل کی گئی جہاں آغا کلیم نے گولڈ میڈل، ٹائٹل بیلٹ اور ٹورنامنٹ کا کپ اپنے نام کیا، وطن واپس آنے پر انہیں کراچی ایئرپورٹ پر سینکڑوں شائقین اور مداحوں نے شاندار استقبال بھی کیا۔
آغا کلیم ملک پہنچنے کے بعد ساگا ڈجیٹل کو خصوصی انٹرویو میں بتایا : ‘اسرائیلی باکسر نے انہیں کھیل سے ایک دن پہلے دھکا دیا میں نے کہا کہ جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے کل آپ کو رنگ میں جاب دیا جائے گا اور میں نے الحمداللہ اسے شکست دی ، لوگوں نے یہ کہا کچھ بھی ہوجائے اسرائیلی باکسر کو ہرانے ہے اور اسے شکست دینے پر خوشی ہوئی ہے۔
‘یہ کارکردگی پاکستان کے لیے فخر کا باعث بنی ہے اور آغا کلیم کی بین الاقوامی سطح پر مزید کامیابیوں کو تقویت دی۔’
آغا کلیم نے مزید کہا کہ ان والد چائے کا دکان چلاتے تھے اور وہ خود کوئٹہ سے کراچی آئے اور چائے بیچا کرتے تھے پہر انہوں نے باکسنگ شروع کی آج انٹرنیشنل ٹورنامینٹ کھیلتا ہوں
آغا کلیم پاکستانی کک باکسر اور مقابلہ جاتی فائٹر ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے جوہر دکھائے ہیں۔ ان کا سفر بہت متاثر کن اور حوصلہ افزا ہے۔
آغا کلیم ابتدائی زندگی اور پس منظر
آغا کلیم کوئٹہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں کراچی منتقل ہو گئے۔انہوں نے کھیل کے لیے بہت مشکلات اور مالی چیلنجز کا سامنا کیا، اور ابتدا میں اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے چائے یا پراٹھے بیچ کر مشقیں اور سفر کے اخراجات پورے کیے۔ بعد میں معروف شخصیات جیسے علی ظفر اور شاہد آفریدی نے انہیں سپورٹ کیا، جس سے ان کے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے مواقع بڑھا
اہم مقابلے اور کامیابیاں حاصل کی عالمی اور ایشیائی مقابلے میں حصہ لیا آذربائیجان کے شہر باکو میں ورلڈ کپ مقابلہ میں آغا کلیم نے اپنے اسرائیلی حریف کو پرو فائٹ میں شکست دے کر ٹائٹل، سونے کا تمغہ اور ورلڈ کپ کپ جیتا ،ان کے پاس بہت سی بین الاقوامی فتوحات ہیں اور وہ چند بار ایشین چیمپئن، دو بار ورلڈ چیمپئن، چار بار پروفیشنل کک باکسنگ چیمپئن اور دو بار نیشنل چیمپئن رہ چکے ہیں۔
اس سے قبل ورلڈ مُوئے تھائی چیمپیئن شپ میں حصہ لیا انہوں نے سلور میڈل جیتا ،اس مقابلے میں انہوں نے شاندار کارکردگی دکھائی اور فائنل تک رسائی حاصل کی، اگرچہ فائنل میں روسی حریف کے سامنے میچ ہارا، لیکن یہی میڈل بھی عالمی سطح پر ان کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
تیز ترین ناک آؤٹ ورلڈ پروفیشنل کک باکسنگ چیمپیئن شپ میں آغا کلیم نے اپنے حریف کو صرف 15 سیکنڈ میں ناک آؤٹ کیا ، جو کہ ایک انتہائی تیز فٹ ہے اور دنیا بھر میں ان کی شہرت کا باعث بنا ،آغا کلیم نے تقریباً 11 بین الاقوامی ایونٹس میں حصہ لیا ہے، جس نے انہیں مضبوط اور تجربہ کار فائٹر بنایا ہے۔
باوجود اتنی کامیابیوں کے، انہیں گورنمنٹ کی طرف سے مناسب مالی معاونت نہیں مل سکی جس کی وجہ سے انہیں اپنی محنت اور نجی سپورٹس کے تعاون سے سفر اور تربیت جاری رکھنی پڑی۔
آغا کلیم صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ایک حوصلے اور جدوجہد کی مثال ہیں جنہوں نے مشکلات کے باوجود پاکستان کے نام کو عالمی سطح پر روشن کیا ہے۔ ان کی کہانی نہ صرف کھیل کے شائقین کے لیے بلکہ ہر اُس شخص کے لیے متاثر کن ہے جو اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی جستجو رکھتا ہے۔
